Inquilab Logo Happiest Places to Work

ای ۲۰؍ پیٹرول: کنزیومر کورٹ نے ماروتی سوزوکی کو گاہک کو نئی گاڑی دینے کا حکم دیا

Updated: July 17, 2026, 10:46 AM IST | Raipur

کمیشن نے ماروتی سوزوکی کو ہدایت دی کہ وہ موجودہ گاڑی واپس لے کر ۴۵؍ دن کے اندر شکایت کنندہ کو اسی ماڈل کی نئی، ای ۲۰؍ مطابقت والی گاڑی فراہم کریں، اگر ایسا نہیں کیا گیا تو ۲۰؍ لاکھ روپے جرمانہ دینا ہو گا۔

Maruti Suzuki`s hybrid Grand Vitara model car. Photo: INN
ماروتی سوزوکی کی ہائبرڈ گرینڈ وٹارا ماڈل کی کار۔ تصویر: آئی این این

ملک میں پہلی بار ای۲۰؍  پیٹرول سے متعلق ایک اہم صارف مقدمہ میں فیصلہ سناتے ہوئے رائے پور ضلع صارف تنازعات ازالہ کمیشن (ایڈیشنل بنچ) نے ماروتی سوزوکی انڈیا لمیٹڈ اور اس کے رائے پور ڈیلر کو ہدایت دی ہے کہ وہ صارف کی گرینڈ ویٹارا اسٹرانگ ہائبرڈ گاڑی واپس لے کر اسی ماڈل کی نئی ای ۲۰؍ سے مطابقت رکھنے والی گاڑی ۴۵؍ دن کے اندر فراہم کرے۔یہ فیصلہ ۱۴؍جولائی کو سنایا گیا ہے۔کمیشن نے  فیصلہ سنایا کہ شکایت کنندہ کی گاڑی میں بار بار آنے والی تکنیکی خرابیاں، جو مجاز سروس سینٹروں میں متعدد مرتبہ مرمت کے باوجود دور نہیں ہوئیں، اس بات کا ثبوت ہیں کہ کمپنی اور ڈیلر نے صارف کو مناسب خدمات فراہم نہیں کیں۔ اسی بنیاد پر دونوں کو’’خدمت میں کوتاہی‘‘  کا قصوروار قرار دیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: مالیگاؤں: بنکروں کی ہڑتال، گوداموں میں تیار مال رکھنے کی جگہ نہیں

شکایت کنندہ ڈاکٹر پریم راج دیوتا نے ماروتی سوزوکی کی گرینڈ ویٹارا اسٹرانگ ہائبرڈ زیٹا پلس کار خریدی تھی۔شکایت کے مطابق ای ۲۰؍ پٹرول عام ہونے کے بعد گاڑی میں مسلسل تکنیکی خرابیاں پیدا ہونا شروع ہو گئیں۔ ڈاکٹر دیوتا کا کہنا تھا کہ گاڑی خریدتے وقت انہیں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ یہ گاڑی ای ۲۰؍پٹرول کے ساتھ مکمل طور پر مطابقت نہیں رکھتی۔ رائے پور کے صارف کمیشن کے صدر پرشانت کندو اور رکن ڈاکٹر آنند ورگیز پر مشتمل بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کمپنی ورکشاپس میں متعدد بار مرمت کے باوجود ایک جیسی خرابیاں بار بار سامنے آتی رہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ کبھی حل ہی نہیں ہوا۔کمیشن نے ماروتی سوزوکی اور اس کے ڈیلر کو ہدایت دی کہ وہ موجودہ گاڑی واپس لے کر ۴۵؍ دن کے اندر شکایت کنندہ کو اسی ماڈل کی نئی، ای ۲۰؍ مطابقت والی گاڑی فراہم کریں۔فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر مقررہ مدت کے اندر نئی گاڑی فراہم نہ کی گئی تو کمپنی اور ڈیلر کو مشترکہ طور پر گاڑی کی مکمل قیمت  ۲۰؍ لاکھ ۵۰؍ ہزار ۴۹۴؍ روپےواپس کرنی ہوگی۔  

اس کے علاوہ کمیشن نے دونوں فریقوں کو مشترکہ طور پر شکایت کنندہ کو ایک لاکھ روپے ذہنی اذیت کے معاوضےکے طور پر ادا کرنے اور ۱۰؍ ہزار روپے مقدمے کے اخراجات کی مد میں ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر دیوتا نے شکایت میں کہا  تھا کہ ای ۲۰؍ پٹرول استعمال کرنے کے بعد ان کی گاڑی میں متعدد سنگین خرابیاں پیدا ہوئیں، جن میں  انجن کا بار بار مس فائر ہونا، گاڑی کی کارکردگی میں نمایاں کمی، گاڑی کے اوسط  میں مسلسل گراوٹ، انجن سے متعلق بار بار خرابی کے سگنل آنا شامل ہے۔ شکایت کنندہ کے مطابق، مجاز سروس سینٹروں کے کئی چکر لگانے اور متعدد بار مرمت کرانے کے باوجود یہ مسائل برقرار رہے، جس کے باعث انہیں کافی مالی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔

یہ بھی پڑھئے: دھولیہ: ہمہ گیر شخصیت کے مالک پروفیسر انصاری سلیم کی رحلت

دوسری جانب ماروتی سوزوکی اور اس کے ڈیلر نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ متعلقہ گاڑی ای ۲۰؍پٹرول کے استعمال کے  لئےموزوں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گاڑی میں آنے والی خرابیاں عام استعمال، دیکھ بھال میں کوتاہی یا دیگر تکنیکی وجوہات کی بنا پر بھی ہو سکتی ہیں، انہیں ای ۲۰؍ پٹرول سے جوڑنا درست نہیں ہے۔تاہم صارف کمیشن نے اس دلیل کو قبول نہیں کیا۔ کمیشن نے کہا کہ چونکہ گاڑی بار بار کمپنی  ورکشاپس میں لے جائی گئی اور ہر مرتبہ ایک ہی نوعیت کی خرابیاں دوبارہ سامنے آئیں، اس  لئے یہ واضح ہے کہ بنیادی خرابی دور نہیں کی جا سکی۔کمیشن نے اپنے فیصلے میں ای ۲۰؍ پٹرول کی دستیابی سے متعلق بھی ایک اہم مشاہدہ درج کیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملک کے متعدد پٹرول پمپوں پر اب ای ۲۰؍ہی بنیادی طور پر دستیاب ہے، جس کے باعث صارفین کے پاس کسی دوسرے گریڈ کا پٹرول استعمال کرنے کا عملی متبادل موجود نہیں رہتا۔کمیشن نے واضح کیا کہ ایسے حالات میں کسی صارف سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ ای ۲۰؍ پٹرول استعمال کرنے سے گریز کرے۔ واضح رہے کہ یہ فیصلہ ای ۲۰؍ پٹرول سے متعلق صارفین کے حقوق کے حوالے سے ایک اہم نظیر سمجھا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK