Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیونڈی: بند ٹول ناکہ کا خستہ ڈھانچہ شہریوں کیلئے وبالِ جان، حادثے کا خدشہ

Updated: July 17, 2026, 10:58 AM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

تھانے اور بھیونڈی کے درمیان کشیلی کے مقام پر برسوں سے بند پڑا ٹول ناکہ اب شہریوں کے لئے مستقل خطرے کی علامت بن چکا ہے۔

The toll plaza has been closed for many years. Photo: INN
کئی برس سے بند ٹول ناکہ۔ تصویر: آئی این این

تھانے اور بھیونڈی کے درمیان کشیلی کے مقام پر برسوں سے بند پڑا ٹول ناکہ اب شہریوں کے لئے مستقل خطرے کی علامت بن چکا ہے۔ زنگ آلود لوہے کا خستہ ڈھانچہ کسی بھی وقت زمین بوس ہو سکتا ہے لیکن متعلقہ محکمہ اب تک خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔ مانسون کے دوران مسلسل بارش اور تیز ہواؤں نے اس خطرے میں مزید اضافہ کر دیا ہے جس کے سبب روزانہ اس شاہراہ سے گزرنے والے ہزاروں شہری، مسافر اور گاڑی چلانے والے خوف کے سائے میں سفر کرنے پر مجبور ہیں۔معلوم ہو کہ بھیونڈی -تھانے شاہراہ کی سیمنٹ کانکریٹ تعمیر کے بعد ٹول وصولی کے لئے کشیلی میں ٹول ناکہ قائم کیا گیا تھا لیکن ٹول بند ہونے کے بعد یہ مقام مکمل طور پر ویران پڑا ہے۔ ٹول کیبن بوسیدہ ہو چکی ہے جبکہ لوہے کی چادریں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور انہیں سہارا دینے والے ستون زنگ لگنے سے انتہائی کمزور ہو چکے ہیں۔ یہاں سے گزرنے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اس ڈھانچے کو نہیں ہٹایا گیا تو کسی بھی دن ایک بڑا حادثہ ہو سکتا ہے جس کی پوری ذمہ داری متعلقہ محکمہ پر عائد ہوگی۔

یہ بھی پڑھئے: ریلوے لائن کی تعمیر سے کھیتوں میں پانی، کسانوں کا ’جل سمادھی آندولن‘

کشیلی گرام پنچایت کی سرپنچ ویشالی تھلے نے محکمہ تعمیراتِ عامہ (پی ڈبلیو ڈی) سے مطالبہ کیا ہے کہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو ترجیح دیتے ہوئے اس خطرناک ڈھانچے کو فوری طور پر منہدم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بند ٹول ناکہ رات کے اوقات میں سماج دشمن عناصر کی آماجگاہ بنتا جا رہا ہے جس سے مقامی شہریوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے۔

ادھر شیو سینا کے ضلع پرمکھ دیوانند تھلے نے بھی علاقے میں پولیس گشت بڑھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کو کسی ناخوشگوار واقعے کا انتظار کرنے کے بجائے فوری کارروائی کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ شاہراہ سے روزانہ ہزاروں افراد آمد و رفت کرتے ہیں، اس لئے شہریوں، راہگیروں اور گاڑی چلانے والوں کی حفاظت یقینی بنانا حکومت اور متعلقہ محکموں کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK