Inquilab Logo Happiest Places to Work

گگن یان اور چندریان مشن سے وابستہ ۱۰۰؍ سائنسداں ہر سال اِسرو چھوڑ رہے ہیں؟

Updated: July 17, 2026, 10:41 AM IST | New Delhi

سرکار اور خلائی محکموں کی نیند اڑ گئی ہے ،سب سے بڑی وجہ ملک کے نجی خلائی شعبے میں تیزی ہے، کمپنیاں ان سائنسدانوں کی خدمات حاصل کررہی ہیں۔

Indian Space Research Organization. Photo: INN
انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن۔ تصویر: آئی این این

ہندوستانی خلائی مشن ان دنوں بحران کے دور سے گزر رہا ہے۔ ملک کی سب سے معتبر خلائی ایجنسی ’اسرو‘ سے ہر سال ۱۰۰؍ سے زائد سائنسدانوں کے استعفیٰ دینے کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ کچھ مہینوں میں یہ تعداد کچھ زیادہ ہی بڑھ چکی ہے۔ سب سے زیادہ حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ اسرو چھوڑنے والے سائنسدانوں میں گگن یان اور چندریان مشن جیسے اہم منصوبوں کو سنبھالنے والے اہم چہرے بھی شامل ہیں۔ سائنسدانوں کے استعفے کی وجہ سے سرکاری محکموں اور خلائی محکمے کی نیندیں اڑ گئی ہیں۔انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن‘ (اسرو) سے تجربہ کار سائنسدانوں کے باہر جانے کی سب سے بڑی وجہ ملک کے نجی خلائی شعبے میں تیزی ہے۔ حالیہ دنوں میں حکومت نے نجی کمپنیوں کو بڑے سیٹیلائٹ پروجیکٹس سونپنے اور لانچ وہیکل کی تکنیک ٹرانسفر کرنے کی پالیسی اپنائی ہے۔ اس کے بعد سے  بازاروں میں خلائی سائنس کے ماہرین کی طلب میں اضافہ ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: پربھنی کا ایک سرکاری اسکول جہاں ایک کمرے میں ۵؍ جماعتیں چل رہی ہیں

نجی سیکٹر کی کمپنیاں اِن سائنسدانوں کو بہتر پیکیج اور نئے مواقع دے رہی ہیں۔ اسی فائدے کی وجہ سے اسرو کے بہت سے سائنسداں اپنی سرکاری نوکریاں چھوڑ کر کارپوریٹ اسپیس انڈسٹری کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس کے اثرات اب ملک کے اہم پروجیکٹ پر پڑنے شروع ہو گئے ہیں۔اعداد و شمار کے لحاظ سے دیکھا جائے تو اسرو کے کل۱۴؍ ہزار۶۰۰؍ سے زیادہ ملازمین کے مقابلے میں استعفیٰ دینے والوں کی تعداد بھلے ہی کم لگے لیکن اس کا اثر بہت گہرا ہے۔ یو آر راؤ سیٹیلائٹ سینٹر، جہاں تقریباً۱۳۳۹؍ ملازمین کام کرتے ہیں  وہاں سے تقریباً ۸۰؍سائنسداں جا چکے ہیں۔ ۴۵۷۷؍ ملازمین والے ’وکرم سارا بھائی اسپیس سینٹر‘ سے کم از کم ۲۰؍ سینئر سائنسدانوں نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان میں ایل وی ایم ۳؍ پروجیکٹ کے ڈائریکٹر وکٹر جوسیف اور چندریان۳؍ کے پروجیکٹ منیجر آدتیہ رلا پلی جیسے بڑے نام شامل ہیں۔ ان اہم چہروں کے استعفیٰ دینے کی وجہ سے گگن یان جیسے اہم مشن کی رفتار کم ہونے کا خدشہ لاحق ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مالیگاؤں: بنکروں کی ہڑتال، گوداموں میں تیار مال رکھنے کی جگہ نہیں

سائنسدانوں کے اس اخراج کو روکنے کے لیے خلائی محکمہ (ڈی او ایس) نے انتہائی سخت انتظامی اقدامات  کئے ہیں۔ نئے قوانین کے مطابق اب اسرو کے مختلف مراکز  کے ڈائریکٹر اپنی مرضی سے کسی بھی گروپ اے کے سائنسداں یا انجینئر کا استعفیٰ منظور نہیں کر سکیں گے۔ اگر کوئی سائنسداں گگن یان یا کسی دیگر اہم پروجیکٹ سے وابستہ ہے تو اس کی درخواست تب تک منظور نہیں ہوگی، جب تک وہ مشن پورا نہیں ہو جاتا ہے۔ اب کسی بھی سائنسداں کو وی آر ایس یا استعفیٰ دینے کے  لئے سخت طریقۂ کار سے گزرنا ہوگا اور ان کی درخواست پر دہلی میں واقع خلائی محکمہ کے ہیڈ کوارٹرس میں فیصلہ کیا جائے گا۔ کسی بھی سائنسداں کو اب کم از کم ۳؍ ماہ قبل تحریری نوٹس دینا ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK