• Wed, 04 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیلی فوج کی سابق ترجمان کا فوج پر غزہ کے معاملے میں دھوکہ دہی کا الزام

Updated: November 04, 2026, 10:08 PM IST | Tel Aviv

اسرائیلی فوج کے سابق ترجمان یونٹ کی اہلکار ایلیٹ کروزر نے اعتراف کیا ہے کہ غزہ جنگ کے دوران میڈیا کو دی جانے والی معلومات میں حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا تھا۔

Ayelet Kroizer. Photo: X
ایلیٹ کروزر۔ تصویر: ایکس

اسرائیلی فوج کے ترجمان یونٹ میں غزہ جنگ کے دوران خدمات انجام دینے والی ایلیٹ کروزر نے پیر کے روز کہا کہ فوج نے عوامی تاثر کو اپنے حق میں بنانے کے لیے اپنی فوجی کارروائیوں سے متعلق حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا۔ ان کے مطابق بے گناہ فلسطینیوں کو معمول کے مطابق ’’دہشت گرد‘‘ قرار دیا جاتا تھا، جبکہ ہلاکتوں سے متعلق رپورٹس حقائق پر مبنی بیانات کے بجائے تشہیری مواد کی طرح تیار کی جاتی تھیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی نئی ذمہ داری کا اعلان کرتے ہوئے کروزر نے یہ باتیں ایک پوسٹ میں لکھیں۔ وہ اب ’بریکنگ دی سائلنس‘ نامی اسرائیلی تنظیم سے وابستہ ہوگئی ہیں، جو سابق فوجیوں سے فوجی زیادتیوں کے بارے میں بیانات جمع کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی وسط مدتی انتخابات: کانگریس کے دونوں ایوانوں پر ڈیموکریٹس کا قبضہ

کروزر نے کہا کہ فوج کا ترجمان یونٹ ایک جواب دہ ادارے کے بجائے تعلقاتِ عامہ کی ایجنسی کی طرح کام کرتا تھا۔ انہوں نے لکھا، ’’اپنی ملازمت کے دوران میں میڈیا کو جاری کی جانے والی تفصیلات میں ردوبدل کرتی رہی۔ میں نے دیکھا کہ کس طرح بے گناہ فلسطینیوں کے لیے بھی ’دہشت گرد‘ کا لفظ استعمال کیا جاتا تھا اور کس طرح بیانات کو مخصوص سامعین اور طے شدہ مقاصد کے مطابق ڈھالا جاتا تھا۔‘‘

فوج میں بھرتی سے سماجی سرگرمیوں تک

انتہائی قدامت پسند یہودی مذہبی برادری میں پرورش پانے والی کروزر نے بتایا کہ تین سال قبل انہوں نے فوج میں لازمی بھرتی سے حاصل استثنا چھوڑ کر فوج میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اس وقت انہیں یقین تھا کہ وہ اپنے ملک کے دفاع میں حصہ ڈال رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ فوجی خدمت مکمل کرنے کے بعد وہ کہیں سفر کرنے یا اپنی تعلیم شروع کرنے کے بجائے ’بریکنگ دی سائلنس‘ میں شامل ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا، ’’میں کبھی ناانصافی کے سامنے خاموش رہنے کی عادی نہیں رہی، لیکن یہاں مجھ سے اسی ناانصافی کی تشہیر کرنے کو کہا جا رہا تھا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ریڈٹ نے آسٹریلیا کی ۱۶؍ سال سے کم عمر کے سوشل میڈیا پابندی کوغیر موثر قرار دیا

غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد

غزہ کی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق، اکتوبر ۲۰۲۳ء میں شروع ہونے والی اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اب تک ۷۴؍ ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق اور ایک لاکھ ۷۵؍ ہزار سے زیادہ زخمی ہوچکے ہیں۔ جنگ کے نتیجے میں غزہ کے شہری بنیادی ڈھانچے کا تقریباً ۹۰؍ فیصد حصہ تباہ ہوچکا ہے، جبکہ علاقے کی ۲۳؍ لاکھ آبادی کی اکثریت بے گھر ہوگئی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK