پہاڑی سے گرکرماں باپ اور بیٹے کی حالیہ موت کے معاملے میں خالہ نے ایک بیان میں کہا کہ کنال والدین کے درمیان غلط فہمیوں سے پریشان تھا اور چاہتا تھا کہ سب مل کر رہیں۔
EPAPER
Updated: August 26, 2026, 12:14 PM IST | Agency | Aurangabad
پہاڑی سے گرکرماں باپ اور بیٹے کی حالیہ موت کے معاملے میں خالہ نے ایک بیان میں کہا کہ کنال والدین کے درمیان غلط فہمیوں سے پریشان تھا اور چاہتا تھا کہ سب مل کر رہیں۔
اورنگ آباد(سمبھاجی نگر)میں گزشتہ دنوںپہاڑی سے نیچے گرنےکے نتیجے میں ۱۹؍ سالہ کنال چاندگڈے، اس کے والدمرلی دھر اور والدہ سنگیتا کی موت کے معاملےمیں ایک جانب جہاں سنگیتا کی پرانی سوشل میڈیا پوسٹ سامنے آئی ہے وہیں ان کی بہن اور کنال کی خالہ کلیانی دابھاڑے نے بھی اس تعلق سے بیان جاری کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ڈیم بھرے ہونے کے باوجود عوام بوند بوند پانی کو محتاج!
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، کنال کی خالہ اور اس کی ماں سنگیتاکی بہن کلیانی دابھاڈے نے ان خبروں کو مسترد کیا ہے جن میںبتایا جارہا ہےکہ ان کے بھانجے نے آئی فون اور اس کی ماہانہ قسطوں کی وجہ سے انتہائی قدم اٹھایا۔ نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئےکلیانی دابھاڈے نے واضح کیا کہ کنال اپنے والدین کے درمیان غلط فہمیوں اور تناؤ سے پریشان تھا اور وہ چاہتا تھاکہ بس اس کے والد گھر آجائیں ۔یہ سانحہ جمعہ کو تسگاؤں کے علاقے میں پہاڑی پر پیش آیا، جہاں تین افراد مرلیدھر چاند گڈے(۴۸)، ان کی بیوی سنگیتا، اور ان کے بیٹے کنال کی ۲۵۰؍ فٹ گہری وادی میں گرنے سے موت ہو گئی۔متعدد ویڈیوز میں دکھایا گیا کہ۱۸؍ سالہ کنال چاند گڈے پہاڑی کے کنارے کھڑا ہے اور اپنے والدین کو دھمکی دے رہا ہےکہ وہ خودکشی کر لے گا۔ اس کے والدین، مرلی دھر اور سنگیتا اسے مسلسل روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پھر اس کے والد آگےبڑھ کراس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچتے ہیںمگر اس سے دونوں کا توازن بگڑ جاتا ہے اور دونوں نیچے گرجاتے ہیں۔ لمحوں میں دل شکستہ ماں بھی وہیںچھلانگ لگا کر جان دے دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اُترپردیش میں ایک بھی مسلم کو بلٹ پروف جیکٹ نہیں ملی، حکومت پر جانبداری کا الزام
دابھاڈے نے صحافیوں کو بتایا کہ ۱۹؍سالہ نوجوان چاہتا تھا کہ اس کے والد گھر واپس آئیں۔ انہو ںنے بتایاکہ اس کیس کا آئی فون سے کوئی تعلق نہیںہے۔اس نے یہ بھی کہا کہ کنال کے پاس پڑھائی کیلئے ایک فون تھا، جبکہ اس کی ماں کے پاس بھی تھا۔کلیانی کے مطابق ’’میرے بہنوئی (مرلی دھر) ایک ڈرائیور تھے لیکن غریب نہیں تھے۔ ان کے پاس ایک کھیت تھا جس سے ان کی اچھی آمدنی ہوتی تھی ۔یہ فون کا معاملہ نہیںتھا ۔کنال چاہتا تھا کہ اس کے والد گھر آجائیں ۔اگر اسے فون کی ضرورت تھی تو وہ ۲۰؍سے۲۵؍ ہزار میںایک سیکنڈ ہینڈ فون بہ آسانی خرید سکتا تھا ، اس میںکوئی مسئلہ نہیںتھا۔‘‘ کلیانی دابھاڑے نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کنال خودکشی نہیں کرنا چاہتا تھا۔ وہ اپنے والد کو گھر واپس آنے پر راضی کرنا چاہتا تھا۔کنال اور اس کے والد کے درمیان حالیہ بات چیت کو یاد کرتے ہوئےکلیانی دابھاڑے نے بتایا کہ کنال اور اس کے والد کے درمیان اس سانحہ سے پانچ یا چھ دن پہلے بات چیت ہوئی تھی ۔ اس نے اپنے والد کو گھر واپس آنے کو کہا تھا لیکن اس کے والد نے اپنے ہی والدین اور بہنوں کے بارے میں اسے کچھ بات بتائی ۔ کنال نوعمر تھا اور شاید یہ سب کچھ نہیں سمجھ سکتا تھا۔ اسی سبب غلط فہمیاں بڑھتی رہیں اور وہ مسلسل پریشان رہنے لگا۔کلیانی کے بقول ’’اس نے مجھے کبھی نہیں بتایا کہ اس کے ذہن میں اس طرح (خود کشی کا ) کوئی خیال چل رہا ہے اور میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ ایسا کرے گا۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ ایک اچانک پیش آنے والا واقعہ ہے کیونکہ اس کے والدین اس سے بہت پیار کرتے تھے اور فیملی میں کوئی مالی بحران بھی نہیں تھا۔ کنال کے والد اس سے بہت پیار کرتے تھے، حالانکہ وہ اس کے ساتھ نہیں رہ رہے تھے۔‘‘اس دوران سنگیتاکی ایک اور بہن پلوی پاٹل نے بھی کہا کہ آئی فون کے تعلق سےباتیں صرف افواہ ہیں اورایسی باتیں پھیلانے والے حقائق نہیں جانتے ۔ انہوں نے لوگوں سے حقیقت جانے بغیرسنی سنائی باتیں نہ پھیلانے کی اپیل کی اور ایسی باتوں کو خاندان کیلئے انتہائی تکلیف دہ قراردیا۔
یہ بھی پڑھئے: شکر کی دو قیمتیں طے کرنے کا فارمولا، عام صارفین اور صنعتوں کیلئے مختلف داموں کی تجویز
سنگیتا کی پرانی پوسٹ میں کیا ہے؟
اس پورے معاملے میںکنال کی والدہ سنگیتا مرلی دھر کی پرانی پوسٹ سامنے آئی ہے جس میںکسی کانام لئے بغیرکہا گیا ہےکہ’’تم نے جائیداد پر سے میرے اور میرے بیٹے کے حقوق چھین لئے۔تم نے کبھی بھائیوں اور ماں باپ اور ساتھ رہنے کی اجازت نہیںدی ۔تم نے میری ہنستی کھیلتی فیملی کوبرباد کردیا ۔تم نے میرے بیٹےکو اس کے ماں باپ سے جدا کردیا۔تمہاری سات پشتیں اس کا انجام بھگتیں گی ۔یہ میری بددعا ہے۔‘‘اس پوسٹ میںکسی کا نام نہیںہے۔ پولیس اس پوسٹ کے حوالے سے بھی تحقیقات کررہی ہےاور کہا جارہا ہےکہ یہ کوئی خاندانی اور جائیداد کا تنازع بھی ہوسکتا ہے۔ بتایا جارہاہےکہ کنال نے ایک سال پہلے بھی ا سی مقام پرخود کشی کی کوشش کی تھی مگراسے بچا لیاگیاتھا۔ ایسی بھی خبریں ہیںکہ سنگیتا اورمرلی دھرکےبڑے بیٹے کی موت کے بعدخاندان میںتناؤ کی صورتحال تھی۔