Inquilab Logo Happiest Places to Work

سنجے گائیکواڑ کی چار سو مذمت ، رکنیت منسوخ کرنے کا مطالبہ

Updated: April 25, 2026, 12:06 AM IST | Nadeem Asran | Kolhapur

گووند پانسرے کی بہو نے ’کون تھا شیواجی؟‘ نامی کتاب دوبارہ شائع کرنے کا عزم ظاہر کیا، ونچت بہوجن اگھاڑی نے کارکنان کو کتاب کے اجتماعی مطالعے کی ہدایت دی

Govind Pansare`s daughter-in-law Megha Pansare will get the book republished (File)
گووند پانسرے کی بہو میگھا پانسرے کتاب کو دوبارہ شائع کروائیں گی (فائل

 ایک روز قبل شیوسینا (شندے) کے رکن اسمبلی سنجے گائیکواڑ نے گووند پانسرے کی کتاب ’ کون تھا شیواجی‘ کے پبلشر کو فون کرکے جان سے مارنے کی دھمکی دی تھی اور ان کے ساتھ گالی گلوچ کی تھی۔ اب اس معاملے پر نہ صرف سنجے گائیکوار کی چاروں طرف مذمت ہو رہی ہے بلکہ اس کتاب کے پیغام کو عوام تک پہنچانے کا عزم ظاہر کیا جا رہا ہے۔ چھترپتی شیواجی کے خاندان سے تعلق رکھنے والے چھترپتی شاہو نے سنجے گائیکواڑ کی اسمبلی کی رکنیت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ 
 کتاب کو دوبارہ شائع کیا جائے گا 
 گووند پانسرے کی بہو میگھا پانسرے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گووند پانسرے کا قتل ان کے نظریات کی وجہ سے ہی ہوا تھا۔ اب حکومت میں شامل ایک رکن اسمبلی ان کی کتاب کے تعلق سے نازیبا کلمات ادا کر رہا ہے۔ اس طرح کی زبان کااستعمال قابل مذمت ہے۔ میگھا پانسرے کا کہنا ہے کہ مجھے یقین ہے کہ سنجے گائیکواڑ نے ’کون تھا شیواجی‘ پڑھی ہی نہیں ہوگی۔ گووند پانسرے نے اس کتاب میں چھترپتی شیواجی کے اصل کردار کو پیش کیا ہے جس کی وجہ سے وہ ایک عوامی حکمراں  کہلاتے تھے۔ پانسرے کی بہو نے کہا ’’ ہم چھترپتی شیواجی کے تعلق سے گووند پانسرے کے نظریات کو عوام تک پہنچانے کیلئے اس کتاب کو دوبارہ شائع کریں گے اور اسے عوام میں تقسیم کریں گے۔ انہوں نے چھترپتی شیواجی کی ریاست مہاراشٹر میں ایک رکن اسمبلی کی جانب غلیظ زبان کے استعمال پر افسوس کا اظہار کیا اور اسے قابل مذمت قرار دیا۔
  سنجے گائیکواڑ کی رکنیت منسوخ کی جائے 
  اس دوران کولہاپور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے چھترپتی شیواجی کے خاندان سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمان چھترپتی شاہو مہاراج نے کہا ہے کہ کس سے کس طرح کی بات کرنی چاہئے سنجے گائیکواڑ کو علم ہونا چاہئے۔ مجھے نہیں معلوم کہ اسمبلی کی رکنیت منسوخ کرنے کا کیا قانون ہے لیکن میرا مطالبہ ہے کہ سنجے گائیکواڑ کی رکنیت کو منسوخ کیا جائے۔ یاد رہے کہ کتاب کے پبلشر پرکاش آمبی نے کولہا پور ہی کے راجا رام پوری پولیس اسٹیشن میں سنجے گائیکواڑ کے خلاف شکایت درج کروائی ہے۔ جمعرات کی شام وہاں سنجے گائیکواڑ کے خلاف احتجاج بھی کیا گیا ہے۔
 کتاب کے اجتماعی مطالعے کی ہدایت 
پرکاش امبیڈکر کی قیادت والی ونچت بہوجن اگھاڑی نے اپنے فیس بک پیج پر ہدایت نامہ جاری کیا ہے جس کی رو سے پارٹی کے تمام ضلع اور تعلقہ اکائیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں گووند پانسرے کی کتاب ’ کون تھا شیواجی ‘ اجتماعی مطالعے کا اہتمام کریں۔ پارٹی چاہتی ہے کہ اس طرح عوام تک یہ بات پہنچائی جائے کہ گووند پانسرے نے چھترپتی شیواجی کے کون سے اوصاف کتاب میں بیان کئے ہیں جن کی وجہ سے انہیں عوامی حکمراں کہا جاتا ہے۔ 
 سنجے گائیکواڑ کا اظہار افسوس  
  ہر طرف سے مذمت ہونے کے بعد سنجے گائیکواڑ نے اپنی حرکت پر اظہار افسوس کیا  لیکن اس میں بھی وہ اپنے موقف کو درست قرار دینے کی کوشش کرتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے نامناسب الفاظ سے کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے تو میں اس پر معافی مانگتا ہوں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی انتباہ دیا کہ وہ چھترپتی شیواجی  سے متعلق کسی قسم کی توہین برداشت نہیں کریں گے۔ سنجے گائیکواڑ نے کہا کہ’’ چھترپتی شیواجی کا تذکرہ ہمیشہ احترام کے ساتھ کیا جانا چاہئے۔ میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں چھترپتی شیواجی مہاراج کے نام پر کسی قسم کا تضحیک آمیز ذکر برداشت نہیں کروں گا۔ میں نے متعلقہ کتاب کے عنوان  پر اعتراض کیا تھا، لیکن یہ تہذیب یا ثقافتی کا معاملہ نہیں احترام کا معاملہ ہے۔‘‘ انہوں نے کہا’’ مجھے معلوم ہے کہ حالیہ تنازع میں میرے زبان سے نکلے کچھ الفاظ نامناسب تھے اور اگر اس سے کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہو تو میں اس کیلئے معذرت خواہ ہوں۔ مجھے امید ہے کہ متعلقہ افراد چھترپتی شیواجی کیلئے وفاداری اور احترام کو برقرار رکھتے ہوئے مناسب ترمیم کریں اور مستقبل میں ایسی چیزوں سے گریز کریں گے۔‘‘ حالانکہ کتاب کے پبلشر نے ترمیم سے انکار کیا ہے۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK