• Thu, 10 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان کےخلائی سفر میں شریکِ سفر بنیں فرانس اور دنیا کے دیگر ممالک: مودی

Updated: September 10, 2026, 8:03 PM IST | Paris

مودی نے پیرس میں منعقدہ پہلی بین الاقوامی اسپیس سمٹ سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خلائی شعبے کے روز افزوں استعمال اور بدلتی صورتحال کے درمیان عالمی تعاون، استحکام اور شمولیت کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

Narendra Modi.Photo:PTI
نریندرمودی۔ تصویر:پی ٹی آئی

وزیراعظم نریندر مودی نے خلائی مہمات کے فوائد پوری انسانیت تک پہنچانے پر زور دیتے ہوئے فرانس اور دنیا کے دیگر ممالک کو ہندوستان کے خلائی سفر میں شریکِ سفر بننے کی دعوت دی ہے۔ مودی نے جمعرات کو پیرس میں منعقدہ پہلی بین الاقوامی اسپیس سمٹ سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خلائی شعبے کے روز افزوں استعمال اور بدلتی صورتحال کے درمیان عالمی تعاون، استحکام اور شمولیت کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے خلا کے مدار  زیادہ پر ہجوم ، ٹیکنالوجی زیادہ طاقتور اور خلائی شعبے میں شراکت داروں کی تعداد بڑھ رہی ہے، دنیا کے اختیارات واضح ہونے چاہئیں- تصادم کے بجائے تعاون، قلیل مدتی فوائد کے بجائے استحکام اور اخراج کے بجائے شمولیت۔ وزیراعظم نے کہا کہ خلا کے امکانات لامحدود ہیں لیکن اس کی ذمہ داری اجتماعی ہے۔ صدیوں سے خلا انسان کے تصور کو جلا بخشتا رہا ہے، لیکن آج یہ آب و ہوا، فصلوں، سمندروں اورکمیونٹیز سے لے کر زمین پر زندگی کے مختلف پہلوؤں کو متاثر کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:’’رن بالی‘‘ کا ٹیزر جاری، وجے دیوراکونڈا اور ’’دی ممی‘‘ کے ویلن آرنالڈ ووسلومیں مقابلہ

مودی نے کہا کہ ہندوستان وسودھیو کٹمبکم  یعنی ایک زمین، ایک خاندان، ایک مستقبل کے جذبے پر یقین رکھتا ہے اور اس جذبے کو زمین سے آگے خلا تک لے جانے کی ضرورت ہے۔ ہندوستان بین الاقوامی قانون، بات چیت اور کثیر جہتی تعاون پر مبنی محفوظ، تحفظ یافتہ، پرامن اور پائیدار خلائی شعبے کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سائنسی ڈیٹا کا استعمال کھلے پن اور سچائی کے ساتھ عام مفاد کے لیے ہونا چاہیے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہندوستان کا خلائی سفر اسی فلسفے کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے فرانس اور دنیا کے دیگر ممالک کو ہندوستان کے خلائی سفر میں شریکِ سفر بننے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا’’پیرس کی بین الاقوامی اسپیس سمٹ یہ واضح پیغام دے کہ انسانیت اور آنے والی نسلوں کے لیے دنیا مل کر خلا میں امکانات  کی تلاش، جدت طرازی اور اس کی حفاظت کرے گی۔‘‘اسرو نے اپنی بہترین کارکردگی اور کم لاگت والی مہمات کے لیے عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کی ہے۔ سیٹیلائٹ ٹیکنالوجی کسانوں اور ماہی گیروں کے ساتھ ساتھ موسم کی پیش گوئی، آفت کے تدارک اور نیویگیشن میں مفید ثابت ہو رہی ہے۔ ہندوستانی راکٹوں کے ذریعے ۳۴؍ ممالک کے ۴۳۰؍ سے زائد پے لوڈز خلا میں بھیجے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرو کی ٹیکنالوجیز اور شراکت داریاں صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی خدمت کر رہی ہیں۔   مودی نے اسرو کی کامیابی کا سہرا ہندوستانی سائنسدانوں، انجینئرس اور ٹیکنیشنز کی نسلوں کی محنت اور لگن کے سر باندھا۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں نے دن رات کام کرتے ہوئے ایک کے بعد ایک مہم میں کامیابی حاصل کی اور خلائی شعبے کے حامل ممالک کے درمیان ہندوستان کو فخر کا مقام دلایا۔

یہ بھی پڑھئے:ژینگ کو شکست دے کر ریباکینا یو ایس اوپن کے سیمی فائنل میں پہنچ گئیں

ہندوستان کی خلائی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے   مودی نے کہا کہ چندریان ۳؍ نے ہندوستان کو چاند کے جنوبی قطب کے قریب اترنے والا پہلا ملک بنایا۔ آدتیہ ایل  ایک سورج کے رازوں کو سمجھنے میں مدد کر رہا ہے اور گزشتہ سال ایک ہندوستانی نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) کا دورہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان ۲۰۳۵ ءتک اپنا خلائی اسٹیشن قائم کرنے اور ۲۰۴۰ء تک ایک ہندوستانی کو چاند پر بھیجنے کی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کوششوں کا رہنما اصول یہ ہے کہ ان کے فوائد پوری انسانیت تک پہنچنے چاہئیں۔ مودی نے کہا کہ اسرو کے ساتھ ہندوستان کا نجی خلائی شعبہ بھی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور کاروباری توانائی اسرو کی بہترین صلاحیت کے ساتھ جڑ رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ۱۹۶۰ء  کی دہائی میں تھمبا سے ہندوستانی خلائی پروگرام کے آغاز کے وقت سے ہی فرانس ہندوستان کا قابلِ اعتماد شراکت دار رہا ہے۔ فی الحال دونوں ممالک کا تعاون زمین کے مشاہدے  اور جدید ٹیکنالوجیز تک پھیلا ہوا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK