Inquilab Logo

فرانس انتخابی نتائج: معلق پارلیمان کے سبب اب آگے کیا ہوگا؟کون سی پارٹیاں اتحاد کرسکتی ہیں؟

Updated: July 10, 2024, 1:32 PM IST | Agency | Paris

اقتدارسازی کے لئے کون سی مساوات بن سکتی ہے اور وزارت عظمیٰ کس پارٹی کے حصے میں آسکتی ہے؟ اس حوالے سے فرینچ نیوز ایجنسی ۲۴؍ نے یہ ۷؍قیاس آرائیاں کی ہیں۔

Results of the French parliamentary elections 2024 according to statistics. Photo: INN
فرانس کے پارلیمانی انتخابات ۲۰۲۴ء کے نتائج اعداوشمار کی زبانی۔ تصویر : آئی این این

فرانس کےدوسرے مرحلے کے عام انتخابات کے نتائج میں  کسی بھی سیاسی جماعت کو واضح اکثریت نہ ملنے سے معلق پارلیمان وجود میں  آئی ہے۔ سیاسی بے یقینی کو مدنظر رکھتے ہوئے صدرایمانوئل میکرون نے رخصت پزیر وزیراعظم گیبرئیل اتال سے کہا ہے کہ وہ ملک کے استحکام کے مدنظر عارضی طور پراپنے عہدے پر برقرار رہیں۔ ’فرانس ۲۴‘ کی رپورٹ کے مطابق حکومت سازی کیلئے سیاسی پارٹیوں  کے مابین گفت وشنید جاری ہے۔ ۵۷۷؍رکنی پارلیمان میں  اقتدار سازی کیلئے ۲۸۹؍ نشستیں د رکار ہیں۔ چونکہ کسی بھی پارٹی کو واضح اکثریت نہیں  ملی ہے، اس لئے مخلوط حکومت بننے کے قوی امکان ہیں۔ 
 دھیان رہے کہ پارلیمان(نیشنل اسمبلی) میں  ۳؍بلاک وجود میں  آگئے ہیں۔ ۷؍جولائی کو ظاہر کئے جانے والے نتائج حیرت انگیز رہے اور بائیں  بازو کے اتحاد’نیوپاپولر فرنٹ الائنس‘ نے سب سے زیادہ ۱۸۲؍نشستیں جیت لی ہیں۔ اس اتحاد میں فرانس اَن بوویڈ پارٹی کے ساتھ سوشلسٹ، گرینزاور کمیونسٹ شامل ہیں۔ صدر میکرون کی رنیسنس پارٹی کو ۱۶۲؍ سیٹیں اور دائیں بازو کے اتحاد(ریسمبلمنٹ نیشنل) کو ۱۴۳؍سیٹیں ملی ہیں۔ ’فرانس ۲۴‘ نے معلق پارلیمان کے پس منظر میں حکومت سازی اور سیاسی بحران کے حل کیلئے ۷؍صورتوں  کا اندازہ لگایا ہے۔ 


(۱)سب سے زیادہ ۱۸۲؍سیٹیں جیتنے والے بائیں بازو کے اتحاد این پی ایف کے بانی جے ایل مینیچن نے کہا ہے کہ ’’میکرون کا یہ فرض ہے کہ وہ زمام حکومت این پی ایف کو سونپ دیں۔ ‘‘ اگر ایسا ہوتا ہے اس صورت میں میکرون کی پارٹی کو این پی ایف کے ساتھ مل کر اقتدار چلانا ہوگا اور وزارت عظمیٰ کا عہدہ این پی ایف کے پاس ہوگا۔ 
(۲)چونکہ صد ر میکرون نےملک کے استحکام کا حوالہ دے کر گیبرئیل اتال کا استعفیٰ نامنظور کردیا ہے، اسلئے اب وہ غیرمتعینہ مدت تک عبوری وزیراعظم کے طور پر رہ سکتے ہیں۔ 
(۳) جرمنی کی طرز کا سیاسی اتحاد۔ فرانس ۲۴؍ کا اندازہ ہے معلق پارلیمان کا مسئلہ حل کرنے کا ممکنہ راستہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مختلف الخیال سیاسی پارٹیاں  اقتدار سازی کے لئے جرمنی کی طرز پر حلیف بن جائیں اور عظیم اتحاد بنالیں۔ حالانکہ فرانس میں  اب تک ایسا کبھی نہیں  ہوا ہے۔ سوشلسٹ لیڈر فاؤر اور میلنچن بھی اقتدار سازی کیلئے اعتدال پسند یا دائیں  بازو کی جماعتوں  کے ساتھ کسی قسم کے اتحاد کے امکانات مسترد کرچکے ہیں۔ میکرون کی رینیسن پارٹی بھی فرانس اَن بوویڈ کے ساتھ کسی قسم کے اتحاد کے حق میں  نہیں  ہے۔ 
(۴) چوتھی صورت ’مائناریٹی حکومت‘ کی ہوسکتی ہے۔ واضح  اکثریت نہ ہونے کے باوجود سب سے زیادہ سیٹیں  حاصل کرنے والی پارٹی(این ایف پی) حکومت بناسکتی ہے۔ تاہم اسے دیگر پارٹیوں  کے منتخب اراکین کی حمایت درکار ہوگی۔  صدارتی خیمہ (میکرون کی پارٹی) بھی اسی طرز پر حکومت بناسکتی ہے۔ 
(۵) ٹیکنوکریٹک گورنمنٹ کا قیام بھی ہوسکتا ہے، جس میں  سبھی جماعتوں  کے منتخبہ اراکین میں سے قابل اور متعلقہ فیلڈ کا تجربہ رکھنےوالوں کو وزارتیں دی جائیں۔ 
(۶) ۶؍جون ۲۰۲۳ء کو میکرون نے پارلیمان تحلیل کرکے قبل از وقت انتخابات کا اعلان کیا تھا، تاکہ سیاسی صورتحال واضح  ہوجائے۔ جو کہ معلق نتائج کے سبب ممکن نہیں  ہوسکا ہے۔ لہٰذا اب ایک بار پھر پارلیمنٹ کی تحلیل ممکن نہیں ۔ کیونکہ فرانسیسی آئین کی دفعہ ۱۲؍ کے تحت ایک سال میں  دوبارپارلیمان تحلیل نہیں  کی جاسکتی، نئی حکومت کو کم ازکم ایک سال مدت کار (۲۰۲۵ء کے گرما تک) مکمل کرنی ہوگی۔ 
(۷) دوسرے راؤنڈ کے انتخابات سے قبل میلنچن بتاچکے ہیں، انہوں  نے کہا تھا کہ’’اگر کوئی میجاریٹی میں نہیں آتا ہےتو اس بحران کا حل میکرون کے لئے یہ ہوسکتا ہے کہ وہ مستعفی ہوجائیں۔ کیونکہ ان حالات کے ذمہ دار وہ خود ہیں۔ ‘‘حالانکہ اس تعلق سے میکرون پہلے ہی واضح طور پر کہہ چکے ہیں  کہ نتائج خواہ کچھ بھی ہوں  وہ عہدہ صدارت نہیں چھوڑیں  گے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK