Updated: May 11, 2026, 6:02 PM IST
| Paris
فرانس میں محققین انسانی آنکھ کے ’’ڈجیٹل ٹوینس‘‘ تیار کر رہے ہیں تاکہ دنیا بھر میں تیزی سے پھیلتے مایوپیا (نظر کی کمزوری) کے مسئلے سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق ۲۰۵۰ء تک تقریباً ۵؍ ارب افراد مایوپیا کا شکار ہو سکتے ہیں۔ یہ منصوبہ ہر مریض، خصوصاً بچوں، کے لیے مخصوص اصلاحی لینز اور بہتر علاج تجویز کرنے میں مدد دے گا۔
خیالی خاکہ۔ تصویر: آئی این این
فرانسیسی محققین انسانی آنکھ کے ’’ڈجیٹل ٹوینس‘‘ تیار کرنے کے ایک جدید منصوبے پر کام کر رہے ہیں جس کا مقصد دنیا بھر میں تیزی سے بڑھتے ہوئے مایوپیا، یعنی نزدیک کی کمزور بینائی، کے بحران سے نمٹنا ہے۔ فرانسیسی نشریاتی ادارے بی ایف ایم کے مطابق یہ تحقیق ’’پریموم‘‘ نامی ایک سائنسی منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت ماہرین ہر مریض کی آنکھ کا الگ ’’ڈجیٹل ماڈل‘‘ تیار کر رہے ہیں تاکہ بیماری کے بڑھنے کی رفتار اور علاج کے ممکنہ نتائج کا پہلے سے اندازہ لگایا جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مایوپیا اب عالمی صحت کا ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ۲۰۵۰ء تک دنیا بھر میں تقریباً ۵؍ ارب افراد مایوپیا کا شکار ہو سکتے ہیں، جن میں سے تقریباً ایک ارب افراد شدید نوعیت کے مایوپیا میں مبتلا ہوں گے۔
فرانس میں بھی صورتحال تشویشناک ہوتی جا رہی ہے، جہاں اس وقت تقریباً ۳۰؍ فیصد آبادی مایوپیا کا شکار ہے، جبکہ آنے والے برسوں میں اس شرح میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق مایوپیا صرف عینک لگانے تک محدود مسئلہ نہیں بلکہ یہ وقت کے ساتھ سنگین پیچیدگیوں کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ شدید مایوپیا کے نتیجے میں ریٹینا الگ ہونے، گلوکوما اور قبل از وقت موتیا جیسے امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ تحقیقی منصوبے کے تحت سائنسداں مریضوں کے کلینیکل، جینیاتی اور طرزِ زندگی سے متعلق معلومات کو استعمال کرتے ہوئے آنکھوں کے ’’ڈجیٹل جڑواں‘‘ تیار کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے : سعودی عرب: سیکوریٹی فورسیز کا غیر قانونی عازمین حج کے خلاف کریک ڈاؤن
ان ماڈلز کی مدد سے ڈاکٹر یہ جان سکیں گے کہ کسی مریض میں مایوپیا کس رفتار سے بڑھ سکتا ہے اور کون سا علاج یا لینز اس کے لیے زیادہ مؤثر ثابت ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی سے ہر مریض کے لیے ’’ذاتی نوعیت‘‘ کا علاج ممکن ہو سکے گا، خاص طور پر ان بچوں کے لیے جو شدید مایوپیا کے خطرے سے دوچار ہیں۔ اس تحقیق میں جدید ’’اسمارٹ چشمے‘‘ بھی استعمال کیے جا رہے ہیں جو اسکرین ٹائم، باہر گزارے گئے وقت اور چشمہ پہننے کی عادات کا ڈیٹا جمع کریں گے۔ محققین کے مطابق یہ معلومات بیماری کے بڑھنے کے پیٹرن کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دیں گی۔
یہ بھی پڑھئے : ۳؍ سال بعد فلسطینی میراتھن کی واپسی، بیت لحم اور غزہ میں ہزاروں افراد کی شرکت
سائنسداں اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ ماحول اور طرزِ زندگی کے عوامل، مثلاً بچوں کا کم وقت باہر گزارنا یا مسلسل اسکرین استعمال کرنا، مایوپیا میں اضافے کا سبب کیسے بنتے ہیں۔ تحقیق کے تحت ’’پریمیوم ۱۰۰۰‘‘ نامی ایک کلینیکل اسٹڈی بھی ۲۰۲۵ء میں شروع کی گئی، جس میں ابتدائی طور پر ۳۰۰؍ بچوں کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ بچوں کو مایوپیا کنٹرول سلوشنز فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی پانچ سال تک مسلسل نگرانی کرے گی، جبکہ منصوبے کا ہدف ایک ہزار بچوں کا تفصیلی مطالعہ کرنا ہے۔ ماہرین امید ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ نئی ٹیکنالوجی نہ صرف مایوپیا کی بروقت تشخیص میں مدد دے گی بلکہ مستقبل میں بینائی کے علاج کے طریقوں کو بھی مکمل طور پر تبدیل کر سکتی ہے۔