Inquilab Logo Happiest Places to Work

وجے کی ’’جنا نا ئیگن‘‘ جلد ہی ریلیز ہوگی: پروڈیوسر کی تصدیق

Updated: May 11, 2026, 7:08 PM IST | Chennai

سی جوزف وجے، جنہیں تھلاپتھی وجے کے نام سے جانا جاتا ہے، نے اتوار کے روز تمل ناڈو کے وزیرِ اعلیٰ کے طور پر باضابطہ حلف اٹھا لیا۔ اس شاندار تقریب میں خاندان کے افراد، سیاسی رہنما اورسیکڑوں پُرجوش حامی شریک تھے۔ اس موقع پر’’جنا نا ئیگن‘‘ کے پروڈیوسر کے وینکٹ نارائن بھی موجود تھے۔

Thalapathy Vijay.Photo;iNN
تھلاپتی وجے۔ تصویر:آئی این این

سی  جوزف وجے، جنہیں تھلاپتھی وجے کے نام سے جانا جاتا ہے، نے اتوار کے روز تمل ناڈو کے وزیرِ اعلیٰ کے طور پر باضابطہ حلف اٹھا لیا۔ اس شاندار تقریب میں خاندان کے افراد، سیاسی رہنما اورسیکڑوں پُرجوش حامی شریک تھے۔ اس موقع پر’’جنا نا ئیگن‘‘ کے پروڈیوسر کے  وینکٹ نارائن بھی موجود تھے۔
حلف برداری کی تقریب کے بعد وینکٹ نارائن نے مختصر طور پر میڈیا سے بات چیت کی اور ’’جنا نا ئیگن‘‘ کی طویل عرصے سے مؤخر ریلیز کے بارے میں گفتگو کی۔ یہ فلم گزشتہ چار ماہ سے تعطل کا شکار ہے۔ فلم کو اصل میں جنوری میں ریلیز کیا جانا تھا، لیکن اب تک سنیما گھروں میں پیش نہیں کیا گیا، جس کے باعث مداحوں میں اس کے مستقبل کے حوالے سے تجسس بڑھتا جا رہا ہے۔
’’جنا نا ئیگن‘‘ کی ریلیز کی تاریخ کے بارے میں
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کے  وینکٹ نارائن نے بتایا کہ ’’جنا نا ئیگن‘‘ اس وقت سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن(سی بی ایف سی )  کی منظوری کا انتظار کر رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ ’’’ہم  سی بی ایف سی کے سرٹیفکیٹ کا انتظار کر رہے ہیں۔ جیسے ہی سرٹیفکیٹ ملے گا، ہم فلم ریلیز کر دیں گے۔ ہم بہت خوش ہیں۔ وجے سر کو تمل ناڈو کا وزیرِ اعلیٰ بننے پر مبارکباد دیتے ہیں۔ ایک نیا باب شروع ہو رہا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ سر اپنے تمام وعدے پورے کریں گے۔’’جنا نا ئیگن‘‘ سرٹیفکیٹ ملتے ہی ریلیز کر دی جائے گی۔‘‘
اس سے قبل جب انتخابی نتائج میں یہ تصدیق ہوئی کہ سی۔ جوزف وجے کی جماعت’’تملگا ویٹری کزگم‘‘ (ٹی وی کے)(TVK) نے تمل ناڈو میں اکثریت حاصل کر لی ہے، تو پروڈیوسر نے سوشل میڈیا کے ذریعے وجے کو مبارکباد دی تھی۔ یہ پیغام  کے وی این  پروڈکشنز کے آفیشل ایکس  اکاؤنٹ پر پوسٹ کیا گیا تھا۔
بیان میں کہا گیا کہ ’’ہمارے ’’جنا نا ئیگن‘‘، تھلاپتھی وجے سر کو تمام مشکلات کے باوجود آج تاریخ رقم کرنے پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد۔ یہ واقعی ایک انقلاب ہے، اور ایسا انقلاب جو آنے والی نسلوں تک گونجے گا۔‘‘
’’جنا نا ئیگن‘‘ تنازع
’’جنا نا ئیگن‘‘ کو سی  جوزف وجے کی سیاست میں مکمل شمولیت سے قبل ان کی آخری فلم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ فلم کو اصل میں ۹؍ جنوری کو شاندار انداز میں سنیما گھروں میں ریلیز کیا جانا تھا، لیکن  سی بی ایف سی  سے بروقت سرٹیفیکیشن نہ ملنے کے باعث اس کی ریلیز غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ فلم میں مامیتھا بائیجو، پوجا ہیگڑے اور بوبی دیول بھی اہم کرداروں میں نظر آئیں گے۔

یہ بھی پڑھئے:ٹرولنگ کے بعد بھومی پیڈنیکر ’’دی رائلز‘‘ سیزن ۲؍ سے علاحدہ


گزشتہ کئی ماہ سے یہ پروجیکٹ سرٹیفیکیشن کے مرحلے میں پھنسا ہوا ہے۔ رپورٹس کے مطابق فلم کو پہلی بار دسمبر ۲۰۲۵ءمیں سی بی ایف سی  کی جانچ کمیٹی کے سامنے پیش کیا گیا تھا، جس کے بعد کمیٹی نے مبینہ طور پر متعدد کٹس تجویز کیں اور کہا کہ مطلوبہ تبدیلیوں کے بعد فلم کویو/ اے سرٹیفکیٹ دیا جا سکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پروڈیوسرز نے ان تبدیلیوں سے اتفاق کیا اور بعد میں ترمیم شدہ ورژن دوبارہ جمع کروا دیا۔تاہم، بعض مناظر پر اعتراضات سامنے آنے کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا اور فلم کو نظرِ ثانی کمیٹی کے پاس بھیج دیا گیا۔ اس اقدام نے نہ صرف سرٹیفیکیشن کے عمل میں مزید تاخیر پیدا کی بلکہ فلم کی بین الاقوامی ریلیز اور ڈسٹری بیوشن منصوبوں کو بھی متاثر کیا۔

یہ بھی پڑھئے:ملبے پر فٹ بال: غزہ کے یتیم بچوں نے میدان میں پناہ تلاش کر لی


جاری تاخیر کے دوران وجے نے عوامی طور پر الزام عائد کیا کہ اس رکاوٹ کے پیچھے ایک سازش ہے اور حکمران سیاسی جماعتوں پر صورتحال کو متاثر کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انتخابی عرصے کے دوران ان کی ذاتی زندگی سے متعلق معلومات جان بوجھ کر لیک کی گئیں تاکہ انہیں سیاسی طور پر نشانہ بنایا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK