Inquilab Logo Happiest Places to Work

۳؍ سال بعد فلسطینی میراتھن کی واپسی، بیت لحم اور غزہ میں ہزاروں افراد کی شرکت

Updated: May 09, 2026, 9:10 PM IST | Jerusalem

فلسطین ہائر کونسل فار یوتھ اینڈ اسپورٹس کے زیر اہتمام ۱۰؍ ویں فلسطینی بین الاقوامی میراتھن کا انعقاد تقریباً ۳؍ سال بعد کیا گیا، جس میں بیت لحم اور غزہ میں بیک وقت دوڑیں منعقد ہوئیں۔ ’’ہم آزادی کے لیے بھاگتے ہیں‘‘ کے نعرے کے تحت ہونے والی اس میراتھن میں فلسطینی اور بین الاقوامی رنرز نے شرکت کی۔ بیت لحم میں مکمل اور ہاف میراتھن کے فاتحین کا اعلان کیا گیا، جبکہ غزہ میں تقریباً ۲۵۲۳؍ افراد شریک ہوئے۔ منتظمین نے اسے فلسطینی اتحاد، مزاحمت اور امید کی علامت قرار دیا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

فلسطین ہائر کونسل فار یوتھ اینڈ اسپورٹس کے سربراہ جبرئیل رجب نے جمعہ کو بیت لحم میں منعقدہ ۱۰؍ فلسطینی بین الاقوامی میراتھن کے فاتحین کو اعزازات سے نوازا، جبکہ یہ میراتھن مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں بیک وقت منعقد کی گئی۔ تقریب بیت لحم کے مرکزی مینجر اسکوائر میں ہوئی جہاں مقامی حکام، سیکوریٹی اہلکاروں، شہریوں اور بڑی تعداد میں شرکاء نے شرکت کی۔ تقریباً ۳؍ سال کی معطلی کے بعد اس میراتھن کی واپسی ہوئی ہے۔ منتظمین کے مطابق غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ اور مغربی کنارے میں بڑھتے ہوئے تشدد کے باعث یہ ایونٹ گزشتہ دو برس سے منعقد نہیں ہو سکا تھا۔ ’’ہم آزادی کے لیے بھاگتے ہیں‘‘ کے عنوان سے ہونے والی اس دوڑ کا آغاز چرچ آف دی نیٹیٹی کے قریب سے ہوا، جہاں فلسطینی اور غیر ملکی رنرز نے بھرپور شرکت کی۔

۱۹۵ء۴۲؍ کلومیٹر کی مکمل میراتھن میں سمیر الجولانی نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ جنوبی بیت لحم کے دھیشیہ پناہ گزین کیمپ سے تعلق رکھنے والے محمد توفیق العیسیٰ دوسرے جبکہ راملہ کے احمد طہتیسرے نمبر پر رہے۔ ۲۱؍  کلومیٹر کی ہاف میراتھن میں اردن کے لوئے البوسطا فاتح قرار پائے، جبکہ اسرائیل کے اندر کفر قاسم سے تعلق رکھنے والے حمزہ امیر دوسرے اور جنوبی الخلیل کے ظہیریہ قصبے کے احمد وریدت تیسرے نمبر پر رہے۔ خواتین کی ہاف میراتھن میں کفر قرع سے تعلق رکھنے والی بیاں اسامہ نے پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ امریکہ میں مقیم ریم علی اور کنیڈا میں مقیم حبا عطاء اللہ بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہیں۔

ریس کا راستہ مینجر اسکوائر، Church of the Nativity، بلال بن رباح مسجد، اسرائیلی علیحدگی کی دیوار، عیدہ اور دھیشیہ پناہ گزین کیمپوں سمیت مختلف علاقوں سے گزرتا ہوا جنوبی بیت لحم تک پہنچا۔ ادھر غزہ میں بھی متوازی میراتھن منعقد ہوئی۔ یہ دوڑ وادی غزہ پل سے شروع ہوئی اور ساحلی سڑک کے ساتھ تقریباً پانچ کلومیٹر تک جاری رہی۔ فلسطینی منتظمین کے مطابق اس میں تقریباً ۲۵۲۳؍ افراد نے شرکت کی۔ غزہ میں نوجوانوں اور کھیلوں کی سپریم کونسل کے ڈائریکٹر جنرل یحییٰ الخطیب نے اس دن کو ’’ہر لحاظ سے قومی دن‘‘ قرار دیا۔ ان کے مطابق میراتھن فلسطینی اتحاد، بحالی اور امید کی علامت ہے۔

یہ بھی پڑھئے : اسرائیلی پابندی کے سبب مقبوضہ مغربی کنارے میں جلدی بیماری میں اضافہ:اقوام متحدہ

انہوں نے کہا کہ یہ پہلا موقع تھا جب غزہ کے اندر باقاعدہ میراتھن منعقد کی گئی، جبکہ ماضی میں غزہ کے رنرز بیت لحم کے ایونٹ میں شرکت کرتے رہے تھے۔ فلسطینی قومی ایتھلیٹکس ٹیم کے رکن خلیل الطرابن نے امید ظاہر کی کہ یہ میراتھن غزہ میں مستقل سالانہ روایت بن جائے گی۔ ایک اور شریک مصطفیٰ جابر نے کہا کہ یہ دوڑ ’’امید، چیلنج اور زندگی جاری رکھنے کے عزم‘‘ کا پیغام ہے۔ فلسطینی حکام کے مطابق اکتوبر ۲۰۲۳ء کے بعد مغربی کنارے میں تشدد، گرفتاریوں اور جھڑپوں میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ غزہ میں جنگ کے باعث بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ اس کے باوجود میراتھن کی بحالی کو فلسطینی عوام کے حوصلے اور مزاحمت کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK