فرانس نے خشک سالی کے باعث دریاؤں کے بہاؤ میں کمی کے نتیجے میں ۳؍ جوہری ری ایکٹر بند کر دیے ،فرانسیسی توانائی کمپنی EDF نے شدید گرمی کے دوران متعدد ری ایکٹر کی پیداوار میں بھی کمی کر دی۔
EPAPER
Updated: August 04, 2026, 6:01 PM IST | Paris
فرانس نے خشک سالی کے باعث دریاؤں کے بہاؤ میں کمی کے نتیجے میں ۳؍ جوہری ری ایکٹر بند کر دیے ،فرانسیسی توانائی کمپنی EDF نے شدید گرمی کے دوران متعدد ری ایکٹر کی پیداوار میں بھی کمی کر دی۔
فرانس کی مقامی میڈیا لی فیگارو کی رپورٹف کے مطابق فرانسیسی توانائی کمپنی EDF نے خشک سالی کے حالات کے باعث دریاؤں میوز اور موسلا میں پانی کے بہاؤ میں کمی کے بعد تین جوہری ری ایکٹر بند کر دیے۔لی فیگارو کے مطابق، پیر کو دوپہر تک شمال مشرقی آرڈینس علاقے میں چوز نیوکلیئر پاور پلانٹ کے دو ری ایکٹر اور موسلا میں کیٹنوم سہولت کا ایک ری ایکٹر بند رہا۔EDF نے دریائے میوز کے انتظام سے متعلق۱۹۹۸؍ کے فرانکو-بیلجیئم معاہدے کی تعمیل کے لیےسنیچر کی دیر شب چوز ری ایکٹر نمبر ایک بند کیا۔جبکہ پلانٹ کا دوسرا ری ایکٹر اسی معاہدے کے تحت۱۱؍ جولائی سے بند ہے۔ EDF نے کہا کہ یہ معاہدہ فرانس اور بیلجیئم دونوں میں دریائے میوز کے صارفین کے لیے پانی کے مناسب بہاؤ کو برقرار رکھنے کے لیے بجلی کی پیداوار کو ایڈجسٹ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فرانس جنگلاتی آگ: امیروں کے گھر بچانے کیلئے دیہاتیوں کو نظر انداز کرنے کا الزام
دریں اثناء کمپنی نے دریائے موسلا میں پانی کی سطح میں کمی کی وجہ سے احتیاط کے طور پر جمعہ سےسنیچر کی درمیانی شب کیٹنوم پلانٹ کے ایک ری ایکٹر کو بھی بند کر دیا۔EDF نے چار دیگر ری ایکٹرز: بیوجی ۳؍، ٹریکاسٹن ۴؍ اور سینٹ-البان ایک اور۲؍ کی پیداوار میں بھی کمی کی ہے یا کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ واضح رہے کہ فرانس۵۷؍ جوہری ری ایکٹر چلاتا ہے، جو ملک کی تقریباً ۷۰؍ فیصد بجلی پیدا کرتے ہیں۔جوہری پاور پلانٹس عموماً دریاؤں یا سمندر کے قریب واقع ہوتے ہیں کیونکہ انہیں ٹھنڈا رکھنے کیلئے بڑی مقدار میں پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ خشک سالی اور گرمی کی لہروں کے دوران، دریاؤں کے بہاؤ میں کمی اور پانی کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت EDF کو پیداوار کو محدود یا معطل کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: خلاء سے قطبی روشنیاں دیکھ کر خلا باز انیل مینن حیران، ناسا نے تصاویر جاری کیں
دراصل یہ پابندیاں آبی ماحولیاتی نظام کی حفاظت کے لیے ہیں تاکہ پلانٹس خارج شدہ پانی سے دریاؤں کو مزید گرم کرنے یا جب پانی کی سطح کم ہو تو بعض کیمیائی اور تابکار اخراج کو جاری کرنے سے روک سکے۔یاد رہے کہ آرڈینس اور موسلا محکموں کو پیر کو زرد گرمی کی لہر کی وارننگ کے تحت رکھا گیا تھا کیونکہ شدید درجہ حرارت ملک کے کئی حصوں کو متاثر کرتا رہا۔