Inquilab Logo Happiest Places to Work

خلاء سے قطبی روشنیاں دیکھ کر خلا باز انیل مینن حیران، ناسا نے تصاویر جاری کیں

Updated: August 03, 2026, 10:09 PM IST | New York

بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) پر موجود ہند نژاد امریکی خلا باز انیل مینن نے زمین کے گرد مدار میں گردش کے دوران خلا سے نظر آنے والی دلکش قطبی روشنیاں (Auroras) کی تصاویر شیئر کی ہیں۔ ناسا کے مطابق یہ روشنیاں سورج سے آنے والے برقی ذرات کے زمین کے مقناطیسی میدان اور فضائی ذرات سے ٹکرانے کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) پر تعینات ہند نژاد امریکی خلا باز انیل مینن نے خلا سے زمین پر نمودار ہونے والی شاندار قطبی روشنیاں (Auroras) دیکھنے کا اپنا تجربہ دنیا کے ساتھ شیئر کیا ہے۔ زمین کے گرد گردش کرتے ہوئے انہوں نے ان قدرتی مناظر کی تصاویر بھی ریکارڈ کیں، جنہیں ناسا اور خلائی شائقین کی جانب سے بھرپور توجہ حاصل ہو رہی ہے۔ انیل مینن گزشتہ ماہ ۱۴؍ جولائی کو قزاخستان کے بائیکونور کاسموڈروم سے Soyuz MS-29 خلائی جہاز کے ذریعے اپنے پہلے خلائی مشن پر روانہ ہوئے تھے۔ ان کے ساتھ روسی خلا باز پیوتر دوبروف اور آنا کیکینا بھی موجود تھیں۔ تین گھنٹے کے سفر کے بعد خلائی جہاز کامیابی سے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے منسلک ہو گیا۔ خلاء سے لی گئی تصاویر میں سبز اور نیلے رنگ کی روشنی کی لہریں زمین کے افق پر پھیلی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ ان روشنیوں کو Aurora Borealis اور Aurora Australis کہا جاتا ہے، جو اس وقت بنتی ہیں جب سورج سے خارج ہونے والے برقی ذرات زمین کے مقناطیسی میدان اور بالائی فضائی تہوں میں موجود گیسوں سے ٹکراتے ہیں۔ اس عمل کے نتیجے میں آکسیجن اور نائٹروجن کے ایٹم روشنی خارج کرتے ہیں، جس سے آسمان میں دلکش رنگ بکھر جاتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: میگڈو جیل میں فلسطینی قیدی بھوک، طبی غفلت اور تشدد کا شکار: کمیشن کی تشویشناک رپورٹ

ناسا کے مطابق انیل مینن اپنے آٹھ ماہ کے قیام کے دوران متعدد اہم سائنسی تجربات انجام دیں گے۔ ان میں مائیکرو گریویٹی میں سیمی کنڈکٹر کرسٹل کی تیاری، مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے الٹراساؤنڈ ٹیکنالوجی کی جانچ، خلاء میں خون کی گردش پر تحقیق اور بایو پرنٹنگ سے متعلق تجربات شامل ہیں، جن کے نتائج مستقبل کے خلائی مشنز اور زمین پر طبی تحقیق دونوں کے لیے مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ انیل مینن امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے ان چند ہند نژاد خلا بازوں میں شامل ہیں جنہیں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر طویل المدتی سائنسی مشن کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ وہ پیشے کے اعتبار سے ایمرجنسی میڈیسن کے معالج اور امریکی اسپیس فورس میں کرنل بھی رہ چکے ہیں۔ ناسا کے مطابق انہوں نے ماضی میں افغانستان میں خدمات انجام دیں اور ہمالین ریسکیو ایسوسی ایشن کے ساتھ ماؤنٹ ایورسٹ پر کوہ پیماؤں کو طبی امداد بھی فراہم کی۔ 

خلاء سے قطبی روشنیوں کے یہ مناظر ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ زمین کا مقناطیسی میدان نہ صرف ہمیں شمسی شعاعوں سے تحفظ فراہم کرتا ہے بلکہ اسی کی بدولت آسمان پر یہ حیرت انگیز قدرتی منظر بھی وجود میں آتا ہے، جسے خلاء سے دیکھنا ایک منفرد تجربہ تصور کیا جاتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK