Inquilab Logo Happiest Places to Work

فرانس جنگلاتی آگ: امیروں کے گھر بچانے کیلئے دیہاتیوں کو نظر انداز کرنے کا الزام

Updated: August 04, 2026, 10:58 AM IST | Paris

لوبورج نامی دیہات کے باشندوں کا کہنا ہےکہ انہیں نظرانداز کرتے ہوئے فائر فائٹنگ ٹیمیںکاب فیریٹ بھیجی گئیں جہاں دولت مند افراد کے لگژری وِلاز موجود ہیں۔

The fires in France have destroyed large areas of forests and villages. Photo: INN
فرانس کی آگ نے بڑے پیمانے پر جنگلات اور دیہاتوں کوتباہ کیا ہے ۔ تصویر: آئی این این

جنوب مغربی فرانس کے علاقے ’گیروند‘ کے ایک چھوٹے سے قصبے کے  باشندوں نے پیرس حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے امیر لوگوں کے گھروں کو جنگلاتی آگ سے بچانے کیلئے ان کے گاؤں کو قربان کر دیا ۔ برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق جسے العربیہ نے بھی شائع کیا، چھوٹے سے گاؤں لو بورج کے تقریباً۷۰۰؍ باشندے فرانسیسی حکام کے خلاف قانونی کارروائی کی تیاری کر رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے ان کے گاؤں کو نظرانداز کرتے ہوئے فائر فائٹنگ ٹیموں کو امیروں  کےعلاقےکاب فیریٹ کی جانب منتقل کر دیا جہاں دولت مند افراد کے لگژری وِلاز موجود ہیں جہاں وہ چھٹیاں گزارنے آتے ہیں۔ کاب فیریٹ کا جزیرہ نما فرانس کے امیر طبقے کے لیے موسم گرما میں تفریحی مقام کے طور پر مشہور ہے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ: بورڈ آف پیس کے ایلچی کا نیتن یاہو حملے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ

جنوب مغربی فرانس میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پھیلنے والی جنگلاتی آگ میں تباہ ہونے والے۲۴۰؍ مکانات میں سے۱۸۳؍ گھر لو بورج میں واقع تھے ۔ تقریباً۱۵۰۰؍ عمارتوں پر مشتمل اس قصبے کی ۱۰؍ فیصد سے زیادہ عمارتیں آگ کی لپیٹ میں آ کر تباہ ہو گئیں۔ گزشتہ ہفتے سٹی کونسل کے اجلاس میں کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب آگ سے متاثرہ اور اپنے گھر کھونے والے شہریوں نے مقامی حکام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔اس علاقے کی رہائشی لودیوین دورینیاک نےجو متاثرہ افراد کی جانب سے دائر کی جانے والی قانونی درخواست کی سربراہ ہیں ، فیس بک پر لکھا’’ہمارا مقصد واضح ہے، ہمیں درست جواب چاہئے، واقعات کی مکمل حقیقت سامنے لانی ہے اور ہمیں پہنچنے والے نقصانات کا معاوضہ حاصل کرنا ہے۔‘‘انہوں نے فرانسیسی نیوز ویب سائٹ فرانس انفو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا’’ہم اس سانحہ کے ذمہ دار ہر شخص کا احتساب کریں گے۔ ہمیں واقعی ایسا محسوس ہوا کہ ہمیں تنہا چھوڑ دیا گیا۔کاب فیریٹ کے امیر رہائشیوں میں فرانسیسی ارب پتی زَیوئے نیل بھی شامل ہیں، جنہوں نے ٹیلی کمیونی کیشن کے شعبے سے دولت کمائی۔‘‘رپورٹس کے مطابق انہوں  نے۲۰۲۱ء میں اپنا تعطیلاتی گھر ایک کروڑ ۷۰؍ لاکھ یورو میں خریدا تھا۔ اداکارہ ماریون کوتیار کا بھی اسی علاقے میں ایک گھر ہے۔اسی سال بہار میں اس جزیرہ نما میں پہلا فائیو اسٹار ہوٹل ویلا کولیٹ بھی کھولا گیا، جسے معروف معمار فلپ اسٹارک نے ڈیزائن کیا، جن کا اپنا گھر بھی کاب فیریٹ میں موجود ہے۔یہ تنازع فرانسیسی حکومت کی اعلیٰ سطح تک پہنچ گیا ہے۔ تاہم وزیراعظم سیباستین لیکورنو نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ان افراد کو تنقید کا نشانہ بنایا جنہیں انہوں نے سازشی نظریات پھیلانے والے قرار دیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK