Inquilab Logo

خدام ِحج کا کام دلانےکے نام پردھوکہ، متاثرین پولیس سے رجوع

Updated: June 24, 2024, 11:12 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbra

دھوکہ بازوں کےخلاف کارروائی کا پولیس سے مطالبہ، عمرہ و حج میں خادم کے طو رپر بھیجنے کے بہانے ۸۶۰؍ لوگوں سے تقریباً ۲؍ کروڑ روپے اینٹھے گئے تھے۔

Victims of fraud can be seen outside Mumbra Police Station. Photo: INN
فریب دہی کا شکار ہونے والے افراد کو ممبرا پولیس اسٹیشن کے باہر دیکھا جا سکتا ہے۔ تصویر : آئی این این

عمرہ اور حج کیلئے مکہ مکرمہ جانےوالے عازمین کے خادم کے طو رپر فی کس ۳۵؍ تا ۴۰؍ ہزار روپے لے کر سعود ی لے جانے کے بہانے ٹھگے گئے ۱۲؍ تا ۱۵؍ متاثرین تھانے میونسپل کارپوریشن(ٹی ایم سی ) کے سابق اپوزیشن لیڈر اشرف شانو پٹھان کی قیادت میں اتوار کو ممبرا پولیس اسٹیشن پہنچے۔ ان متاثرین نے ممبرا پولیس کو تحریری درخواست دی ہے کہ خاطیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے اورجو رقم ان سے لی گئی ہے اسے واپس کروایاجائے اور دھوکہ بازوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ جن ایجنٹس نے متاثرین سے رقم لی تھی ان سے تقریباً ایک ماہ بعد بھی جب رقم نہیں ملی تو متاثرین ممبرا پولیس اسٹیشن پہنچے۔ اس فریب دہی کا شکار ہونے والوں کی تعداد ۸۶۰؍ تا۹۶۸؍ بتائی گئی ہے جن سے کل تقریباً ۲؍کروڑ روپے کی دھوکہ بازی کی گئی ہے۔ متاثرین میں نہ صرف ممبرا اور ممبئی بلکہ کرناٹک اور دیگر ریاست کے افراد بھی شامل ہیں۔ اس معاملہ میں کرناٹک کا ایک معاون ایجنٹ بھی شامل ہے جس نے فریب دہی کرنے والے کلیدی ملزم کے خلاف کرناٹک میں فریب دہی کی ایف آئی آر درج کرنے کی تصدیق کی ہے اور یہ یقین بھی دلایا ہے کہ جیسے جیسے رقم کاانتظام ہوگا ویسے ویسے متاثرین کی رقم لوٹائی جائے گی۔ (اس ضمن میں تفصیلی رپورٹ۲۷؍ مئی ۲۰۲۴ء کے انقلاب میں صفحہ ۳؍  شائع ہو چکی ہے)

یہ بھی پڑھئے: ہماچل میں جس جاوید کی دُکان لوٹی گئی، یوپی پولیس نے اُسی کو گرفتار بھی کرلیا

اتوار کو متاثرین کے ہمراہ اشرف (شانو) پٹھان نے پولیس افسران سے ملاقات کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایاکہ’’عمرہ اور حج کیلئے مکہ جانے والے عازمین کو خدمات کیلئے بڑی تعداد میں خادموں کی ضرورت ہوتی ہے۔ مختلف ایجنٹس یہ خدام فراہم کرتے ہیں۔ چونکہ ان خادموں کو اچھی اجرت ملتی ہے اس لئے غریب بے روزگار افراد ایک خاص مدت کیلئےمکہ جاتے ہیں۔ ایک ایجنٹ اور اس کے ساتھیوں نے ممبرا کے تقریباً ۳۰۰؍ افراد کو خادم کے طور پرلے جانے کے عوض فی کس ۳۵؍ہزار تا ۶۵؍ ہزار روپے لئے اور انہیں ۱۲۰؍ دنوں کی خدمت کیلئے فی کس ۲؍ ہزار ۲۰۰؍ روپے ریال (۴۸؍ہزار روپے ) تنخواہ دینے کا یقین دلایا تھا لیکن انہیں دھوکہ دے دیا۔ متاثرین کو ممبرا میں شادی محل ہال میں فارم وغیرہ پُر کروایاتھا۔ پہلے مقامی ایجنٹ نے سعودی لے جانے کیلئےیکے بعد دیگر ے ۲؍ تا ۳؍  تاریخیں دیں لیکن انہیں نہیں  لےجایا گیااور اس کے بعد اپنا فون بھی بند کر کے کر وڑوں روپے کا جھانسہ دے کر فرار ہو گیا۔ شانو پٹھان نے بتایاکہ ’’متاثرین میں غریب اور متوسط طبقے کے افراد شامل ہیں اور ان کیلئے ۳۵؍ ہزار روپے بھی معنی رکھتے ہیں۔ لہٰذا مَیں نے ڈی سی پی اور سینئر انسپکٹرسے درخواست کی ہے کہ ان کی رقم لوٹانے میں تعاون کرے۔ ‘‘
 ایک متاثرہ نے بتایاکہ ایجنٹ کا سوشل میڈیا انسٹا گرام اور یو ٹیوب پر چینل ہے جس کے ذریعے اس نے یہ ظاہر کیا تھا کہ وہ سعودی میں رہتا ہے اور خدمت ویزا پر افراد کو لے جاتا ہے۔ اس نے شادی محل میں سیمینار بھی منعقد کیا تھاجس میں سبسکرائبر کے ساتھ بنگلور اور دیگر جگہوں سے شرکا کو بلایا تھا۔ بتایاگیا تھاکہ رمضان سے پہلے جاکر حج تک :۳؍مہینے تک کام کرنا ہوگا۔ اس نےمتمنی افراد سے آن لائن رقم جمع کی تھی اور وہاٹس ایپ گروپ پر روانگی کی تاریخ پہ تاریخ دی لیکن اب وہ غائب ہے۔ متاثرین میں بنگلور، اتر پردیش اور آسام کے شہری بھی شامل ہیں۔ پولیس کو دی گئی شکایت میں ایجنٹ محمد عادل اور اس کے ساتھیوں :رفعت سید، رونق پروین، شہباز شاہنواز سید، محمد رفیق، محمد حنیف گوڑاکے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیاگیاہے۔ 
ہم متاثرین کی رقم لوٹائیں گے 
  اس تعلق سے محمد حنیف (کرناٹک)سے فون پر رابطہ قائم کرنے پر انہوں نے بتایاکہ ’’فریب دراصل ہم نے نہیں بلکہ ینیت نیش کمپنی کے شمس الدین نے کیا ہے۔ اس نے ملک بھر کے ۸۶۰؍ افراد سے تقریباً ۲؍ کروڑ کی دھوکہ دہی کی ہے۔ چونکہ کمیشن کی لالچ میں ہم نے شہریوں سے رقم لے کر اسے دی تھی اس لئے ہم بھی اس معاملہ میں پھنس گئے ہیں۔ ہم نے ۱۷؍ مئی کوسمپی پولیس اسٹیشن (کرناٹک ) میں شکایت درج کرائی ہے۔ اور ہم متاثرین کی رقم یقینی طور پر لوٹا دیں گے، اس کے لئے ایک ایجنٹ اپنا گھر بھی فروخت کر رہا ہےلیکن اگر پولیس ہمیں گرفتار کر لے گی تو ہم یہ رقم کیسے لوٹا سکیں گے۔ متاثرین کو صبر کرنا ہوگا۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK