Inquilab Logo Happiest Places to Work

ڈابر ہنی پر ایف ایس ایس اے آئی کی کارروائی، فروخت روکنے کا حکم

Updated: August 04, 2026, 4:04 PM IST | New Delhi

ہندوستان کی فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھاریٹی آف انڈیانے ڈابر انڈیا لمیٹڈ کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنی بعض غذائی مصنوعات کی فروخت فوری طور پر روک دے،کیونکہ ان کی پیکجنگ پر درج ’’۱۰۰؍فیصد یا ۱۰۰؍ فیصد خالص‘‘ جیسے دعوے گمراہ کن اور قابلِ تصدیق نہیں سمجھے گئے ہیں۔

Dabur.Photo:INN
ڈابرہنی۔ تصویر:آئی این این

ہندوستان کی فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھاریٹی آف انڈیا(ایف ایس ایس اے آئی ) (FSSAI)  نے  ڈابر انڈیا لمیٹڈ کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنی بعض غذائی مصنوعات کی فروخت فوری طور پر روک دے،کیونکہ ان کی پیکجنگ پر درج ’’۱۰۰؍فیصد یا ۱۰۰؍ فیصد خالص‘‘ جیسے دعوے گمراہ کن اور قابلِ تصدیق نہیں سمجھے گئے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:جاپان: بچوں کی دیکھ بھال کیلئے رخصت لینے والے مردوں کی شرح پہلی بار ۵۰ فیصد سے تجاوز کرگئی


ایف ایس ایس اے آئی کے مطابق ایسی لیبلنگ صارفین کو یہ تاثر دے سکتی ہے کہ مصنوعات مکمل طور پر خالص یا اصلی ہیں جبکہ اس قسم کے دعوؤں کے لیے واضح اور قابلِ ثبوت سائنسی بنیاد موجود ہونی چاہیے۔ ریگولیٹر نے کہا کہ مبہم اور غیر مصدقہ دعوے فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی ہیں، اس لیے متعلقہ مصنوعات کی فروخت پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ 
جن مصنوعات پر یہ کارروائی کی گئی ہے ان میں  ڈابر ہنی ، بعض اقسام کا گھی ،  ناریل کا تیل ، آرگینک ایپل سائڈر ونیگر ،  ہوم میڈ کوکونٹ ملک  اور دیگر ایسی اشیاء شامل ہیں جن پر ’’۱۰۰؍فیصد‘‘کا دعویٰ درج تھا۔  ڈابر انڈیا نے اس معاملے پر اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی متعلقہ حکام کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے اور اپنے تمام فوڈ پروڈکٹس کے معیار اور حفاظتی اصولوں پر سختی سے عمل کرتی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ ریگولیٹری ہدایات کے مطابق ضروری اقدامات کرے گی۔  
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایف ایس ایس اے آئی کی اس کارروائی کا

یہ بھی پڑھئے:کشور کمار کیلئےفلم کاکوئی ایسا شعبہ نہیں تھا جس میں انہیں دلچسپی نہ رہی ہو

مقصد کسی مخصوص برانڈ کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ فوڈ لیبلنگ میں شفافیت کو یقینی بنانا ہے، تاکہ صارفین کو مصنوعات کے بارے میں درست اور واضح معلومات فراہم کی جا سکیں۔ اس اقدام کو خوراک کی صنعت میں گمراہ کن تشہیر کے خلاف سخت نگرانی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK