Inquilab Logo Happiest Places to Work

پی او کے کی کوریج پر پاکستان میں الجزیرہ تک رسائی محدود، ’زرد صحافت‘ کا الزام

Updated: August 04, 2026, 4:03 PM IST | Islamabad

پاکستان مقبوضہ کشمیرمیں احتجاج اور انتخابی بدامنی کی کوریج کے بعد بین الاقوامی نشریاتی ادارے الجزیرہ تک رسائی محدود کئے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم، حکومتِ پاکستان نے کسی باضابطہ پابندی کی تصدیق نہیں کی۔ ادھر وزارتِ اطلاعات نے الجزیرہ کی انتخابی رپورٹنگ کو جانبدارانہ اور ’’زرد صحافت‘‘ قرار دیتے ہوئے اس پر حقائق کو مسخ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

Scene after the protest in PoK. Photo: INN
پی او کے میں احتجاج کے بعد کا منظر۔ تصویر: آئی این این

پاکستان مقبوضہ کشمیر (پی او کے) میں جاری احتجاج، انتخابی تشدد اور سیکوریٹی کارروائیوں کی وسیع کوریج کے بعد یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ پاکستان نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے الجزیرہ تک رسائی محدود کر دی ہے۔ تاہم اسلام آباد نے تاحال اس حوالے سے کسی بھی قسم کی سرکاری پابندی کی تصدیق نہیں کی۔ پاکستان بھر میں متعدد صارفین نے شکایت کی کہ الجزیرہ انگلش کی ویب سائٹ ان کیلئے قابلِ رسائی نہیں رہی۔ اس کے بعد سماجی کارکنوں، اپوزیشن لیڈروں اور سوشل میڈیا صارفین نے الزام عائد کیا کہ یہ پابندیاں مظفرآباد سے نشر ہونے والی ان رپورٹس کے ردِعمل میں لگائی گئی ہیں جن میں شہریوں کے خلاف سیکوریٹی کریک ڈاؤن اور انتخابات کے دوران پیدا ہونے والی بدامنی کو نمایاں طور پر دکھایا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: جاپان: ۳؍ سال سے غزہ کے حق میں تنہا احتجاج کرنے والے کارکن

خبر رساں ایجنسی اے این آئی (ANI) کے مطابق، الجزیرہ انگلش ان متعدد بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں شامل تھا جن تک پاکستان کے بعض علاقوں میں صارفین کی رسائی مبینہ طور پر محدود ہو گئی۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ کئی مقامی اور علاقائی ڈجیٹل نیوز پلیٹ فارمز تک رسائی بھی متاثر ہوئی، اگرچہ پاکستانی حکام نے ایسی کسی کارروائی کا باضابطہ اعتراف نہیں کیا۔ یہ مبینہ پابندیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب پاکستان کو پی او کے میں بدامنی سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر بڑھتی ہوئی تنقید کا سامنا ہے، جہاں گزشتہ کئی ہفتوں سے احتجاج، مواصلاتی بندشوں اور مظاہرین و سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: گوگل نے انٹرنیٹ کے بغیر کام کرنے والا روبوٹک اے آئی دماغ متعارف کیا

الجزیرہ پر پابندی کے دعوے کیوں کئےجا رہے ہیں ؟
الجزیرہ تک رسائی محدود کئے جانے کے دعوے سب سے پہلے سوشل میڈیا پر سامنے آئے، جہاں پاکستان کے مختلف حصوں سے صارفین نے بتایا کہ وہ الجزیرہ کی ویب سائٹ نہیں کھول پا رہے۔ بعد ازاں سماجی کارکنوں اور اپوزیشن شخصیات نے ان مبینہ رکاوٹوں کو پی او کے کی صورتحال پر الجزیرہ کی تفصیلی رپورٹنگ سے جوڑ دیا۔ پاکستانی حکومت نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ اس نے الجزیرہ کو بلاک کیا ہے۔ تاہم، وزارتِ اطلاعات و نشریات نے الجزیرہ کی انتخابی کوریج پر تنقید کرتے ہوئے اسے جانبدارانہ رپورٹنگ قرار دیا۔ وزارت نے اتوار (۲؍ اگست) کو جاری اپنے بیان میں کہا کہ اس نے مظفرآباد کے پولنگ اسٹیشنوں سے الجزیرہ کی ’’منتخب‘‘ رپورٹنگ کا نوٹس لیا ہے۔ بیان میں کہا گیا:’’ہم نے آج مظفرآباد کے چند منتخب پولنگ اسٹیشنوں سے الجزیرہ کی جانبدارانہ رپورٹنگ کا نوٹس لیا ہے۔ مخصوص اوقات، پہلے سے تیار کردہ بیانات اور منتخب افراد کے ذریعے چینل نے آزاد جموں کشمیر کے انتخابات اور ووٹنگ کے عمل کو غلط انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ‘‘وزارتِ اطلاعات نے الجزیرہ پر ’’زرد صحافت‘‘ (Yellow Journalism) کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ اس کی رپورٹوں نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں انتخابی عمل کی مسخ شدہ تصویر پیش کی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK