مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے کہا ہے کہ ہندوستان اور یورپی یونین (ای یو) کے درمیان مجوزہ آزاد تجارتی معاہدہ دونوں کے لیے اہم تبدیلی کا ذریعہ ثابت ہوگا اور اس سے ہندوستان اور جرمنی کی صنعتوں کے درمیان تعاون کو نئی مضبوطی ملے گی۔
EPAPER
Updated: October 23, 2026, 4:07 PM IST | New Delhi
مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے کہا ہے کہ ہندوستان اور یورپی یونین (ای یو) کے درمیان مجوزہ آزاد تجارتی معاہدہ دونوں کے لیے اہم تبدیلی کا ذریعہ ثابت ہوگا اور اس سے ہندوستان اور جرمنی کی صنعتوں کے درمیان تعاون کو نئی مضبوطی ملے گی۔
مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے کہا ہے کہ ہندوستان اور یورپی یونین (ای یو) کے درمیان مجوزہ آزاد تجارتی معاہدہ دونوں کے لیے اہم تبدیلی کا ذریعہ ثابت ہوگا اور اس سے ہندوستان اور جرمنی کی صنعتوں کے درمیان تعاون کو نئی مضبوطی ملے گی۔ انہوں نے یہ بات جرمنی کی وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور و توانائی کیتھرینا رائخے کے ساتھ ملاقات کے بعد کہی۔ اس ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو وسعت دینے، صنعتی تعاون بڑھانے اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔جرمنی کے سرکاری دورے پر موجود پیوش گوئل نے ہندوستان اور جرمنی کے درمیان تعاون کے لیے متعدد اہم شعبوں کی نشاندہی کی۔ ان میں مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹر، جدید صنعتی پیداوار، اہم معدنیات، سبز ہائیڈروجن، قابلِ تجدید توانائی، توانائی ذخیرہ کرنے کی ٹیکنالوجی اور مضبوط عالمی رسدی زنجیریں شامل ہیں۔ دونوں لیڈروں نے ہندوستان کے صنعتی اور ڈجیٹل نظام میں سرمایہ کاری بڑھانے کے امکانات پر بھی بات چیت کی۔ اس تعاون سے جدید ٹیکنالوجی کی تیاری، صنعتی صلاحیت میں اضافے اور کاروباری اداروں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
پیوش گوئل نے کہا کہ ملاقات میں اس بات پر توجہ مرکوز کی گئی کہ ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ کس طرح دونوں خطوں کے کاروباری اداروں کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق، اس معاہدے سے ہندوستانی اور جرمن کاروباری اداروں کو اپنی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے اور باہمی تعاون کو آگے بڑھانے کے مواقع مل سکتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ سرکاری بیان کے مطابق، پیوش گوئل ۲۲؍ سے ۲۷؍ اکتوبر تک جرمنی اور نیدرلینڈز کے سرکاری دورے پر ہیں۔ ان کے ساتھ تقریباً ۱۰۰؍ کاروباری اداروں اور نئے کاروباری منصوبوں کے نمائندے بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:ہیری بروک نے ون ڈے کرکٹ کی تاریخ کا تیز ترین دُہرا سیکڑہ بنا ڈالا
اس دورے کا بنیادی مقصد ہندوستان کی اہم اقتصادی شراکت داریوں کو مضبوط کرنا، دوطرفہ تجارت میں اضافہ کرنا اور صنعتی و تکنیکی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ حکومت کو امید ہے کہ اس دورے کے ذریعے ہندوستانی کمپنیوں کے لیے یورپی منڈیوں میں نئے امکانات پیدا ہوں گے اور بیرونی سرمایہ کاری کو بھی تقویت ملے گی۔جرمنی میں قیام کے دوران پیوش گوئل برلن گلوبل ڈائیلاگ میں شرکت کریں گے، جہاں وہ عالمی پالیسی سازوں اور بڑے کاروباری اداروں کے رہنماؤں کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں گے۔ اس موقع پر ہندوستان کی معاشی استحکام، بڑھتی ہوئی صنعتی صلاحیت اور عالمی رسدی زنجیروں کو مضبوط بنانے میں اس کے کردار کو نمایاں کیا جائے گا۔
اجلاس کے موقع پر جرمنی کی اقتصادی امور و توانائی کی وزیر کے علاوہ وفاقی چانسلری میں اقتصادی و مالیاتی پالیسی کے مشیر اور جی سیون و جی ۲۰؍ کے نمائندے کے ساتھ اعلیٰ سطح کی دوطرفہ ملاقاتیں بھی طے تھیں۔ان ملاقاتوں میں تجارت اور سرمایہ کاری کے امکانات کو بڑھانے، جدید انجینئرنگ، ماحول دوست نقل و حمل اور صاف ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو تیز کرنے اور ہندوستان۔یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدے کے تحت منڈیوں تک رسائی کے ممکنہ مواقع پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
جرمنی کے بعد پیوش گوئل نیدرلینڈز کا دورہ کریں گے، جہاں وہ دی ہیگ میں دونوں حکومتوں کے درمیان اعلیٰ سطح کی بات چیت کی قیادت کریں گے۔ اس دوران وہ نیدرلینڈز کے اقتصادی امور و آب و ہوا کے وزیر اور وزیر برائے خارجہ تجارت و ترقیاتی تعاون کے ساتھ دوطرفہ وزارتی ملاقاتیں کریں گے۔ ان مذاکرات میں تجارت کے نئے مواقع تلاش کرنے، سرمایہ کاری بڑھانے اور ماحول دوست معیشت کی جانب منتقلی سے متعلق اقدامات پر توجہ دی جائے گی۔ اس کے علاوہ شمالی ہالینڈ کے کمشنر اور ڈچ پارلیمنٹ کی خارجہ تجارت و یورپی امور سے متعلق کمیٹیوں کے ارکان کے ساتھ بھی اہم تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے:لندن فلم فیسٹیول میں مینا کماری کی فلم ’’پاکیزہ‘‘ کا جادو
ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کی بات چیت دونوں کے لیے اہم اقتصادی موضوع ہے۔ ایسے معاہدے سے تجارتی رکاوٹوں میں کمی، منڈیوں تک رسائی میں بہتری اور سرمایہ کاری کے نئے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں، تاہم اس کے حقیقی اثرات معاہدے کی حتمی شرائط اور نفاذ پر منحصر ہوں گے۔پیوش گوئل کا جرمنی اور نیدرلینڈز کا دورہ ہندوستان کی یورپی ممالک کے ساتھ اقتصادی شراکت داری کو وسعت دینے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹر، قابلِ تجدید توانائی، جدید صنعت اور صاف ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں تعاون ہندوستان کے صنعتی ترقیاتی منصوبوں اور عالمی تجارت میں اس کی شمولیت کے لیے اہم ثابت ہوسکتا ہے۔