• Fri, 23 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ماتھیران میں تیندوے کے بچے دکھائی دئیے، سیاح اور مقامی افرادسراسیمہ

Updated: October 23, 2026, 3:52 PM IST | Siraj Sheikh | Matheran

مشہور سیاحتی مقام ماتھیران کے ’ون ٹری ہل‘ اور’ امن لاج‘ کے آس پاس تیند وے کے دو بچے کئی بار نظر آنے کی وجہ سے مقامی لوگوں اور سیاحوں میں خوف و ہراس کا ماحول ہے۔

R. B. Gaikwad, a resident of Matheran, captured this image of a leopard cub. Photo: INN
ماتھیران کے رہنے والے آر بی گائیکواڑنے تیندوےکے بچے کی یہ تصویر کھینچی ہے۔ تصویر: آئی این این

مشہور سیاحتی مقام ماتھیران کے ’ون ٹری ہل‘ اور’ امن لاج‘ کے آس پاس تیند وے کے دو بچے کئی بار نظر آنے کی وجہ سے مقامی لوگوں اور سیاحوں میں خوف و ہراس کا ماحول ہے۔ کچھ کو تیندوے کے یہ بچے رات کے اندھیرے میں اور کچھ کو بھری دوپہر میں دکھائی دئیے۔

چونکہ ماتھیران ایک ماحول دوست زون ہے اور یہاں گاڑیوں کا داخلہ ممنوع ہے، اس لئے لوگ عام طور پر پیدل یا گھوڑوں پر سفر کرتے ہیں۔ ایسے میں تیندوےکی موجودگی سے تشویش کاماحول ہے۔ اس واقعہ کے بعد سے پورے علاقے میں سنسنی پھیل گئی ہے اور لوگ گھروں سے باہر نکلنے میں شدید خوف محسوس کر رہے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: رتنا گیری: ہر نئی ساحل پر نایاب سمندری مخلوق ’بومبے ڈوریڈ سلگ‘ دیکھی گئی، محققین بھی حیران

مقامی ذرائع کے مطابق، یہ بچے ماتھیران کے ون ٹری ہل اور امن لاج   کے قریبی جنگلاتی علاقے سے نکل کر سڑکوں پر آگئے۔ تیندوے کے بچوں کو اس طرح آزادانہ گھومتا دیکھ کر وہاں موجود سیاح ڈرے سہمے ہوئے ہیں۔ جبکہ مقامی دکانداروں اور رہائشیوں نے حفاظت کے پیشِ نظر فوری طور پر اپنے دروازے بند کر دئے ہیں۔

محکمہ جنگلات نے کیا ہدایت جاری کیں

اطلاع ملتے ہی محکمہ جنگلات کی ٹیمیں متحرک ہو گئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ جہاں تیندوے کے بچے ہوتے ہیں، وہاں ان کی ماں بھی موجود ہوتی ہے، جو اپنے بچوں کی حفاظت کے لئے انسانوں پر حملہ آور ہو سکتی ہے۔ محکمہ جنگلات انتظامیہ نے مقامی لوگوں اور سیاحوں سے کہا کہ شام کے بعد اور صبح سویرے غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلیں اگر بہت ضروری ہو تو اکیلے جانے کے بجائے گروپ کی شکل میں جائیں۔جنگل کے راستوں پر چلتے وقت آپس میں بات چیت کریں یا موبائل پر دھیمی آواز میں موسیقی چلائیں تاکہ تیندوا انسانوں کی موجودگی پا کر راستہ بدل لے۔ تیندوے عام طور پر انسانوں پر براہ راست حملے سے کتراتے ہیں جب تک کہ انہیں خطرہ محسوس نہ ہو۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK