Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان اور ایران کے درمیان ایندھن کی تجارت بحال

Updated: March 28, 2026, 1:04 PM IST | New Delhi

ہفتے بھر میں  ایل پی جی کا پہلا بڑا جہازیہاں  پہنچے گا، ایندھن سے متعلق مسائل حل ہونے کی امید، نئی دہلی ماسکو سے بھی تیل ا ورگیس کی خریداری کیلئے کوشاں۔

Prime Minister Modi with Iranian President Masoud Pezishkian. Photo: INN
وزیراعظم مودی ایران کے صدر مسعود پیزشکیان کے ساتھ۔ تصویر: آئی این این

امریکی پابندیوں میں عارضی نرمی کے بعد ہندوستانی ریفائنریوں نے ایرانی خام تیل اور ایل پی جی کی خریداری شروع کر دی ہے تاکہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی وجہ سے ایندھن کی سپلائی کی کمی کو پورا کیا جا سکے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعرات کو اعلان کیاکہ ہندوستان سمیت’’دوست‘‘ ممالک کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔ بہرحال ایران سے براہ راست ایندھن خریدنے کے ہندوستان کے فیصلے سے ملک میں   ایندھن کی قلت بڑی حد تک کم ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان روس سے بھی تیل اور گیس کی خریداری کی تیاری کررہاہے۔ 
ایل پی جی سے بھرا پہلاایرانی کارگو جہاز اسی ہفتے ہندوستان پہنچنے گاجبکہ آنے والے دنوں میں خام تیل اور ایل پی جی کی مزید کئی کھیپوں کی توقع ہے۔ ذرائع کے مطابق ریفائنریاں نیشنل ایرانی آئل کمپنی کے ساتھ بات چیت کر رہی ہیں تاکہ جلد از جلد زیادہ سے زیادہ خام تیل اور ایل پی جی حاصل کیا جا سکے۔ ذرائع کے مطابقکچھ معاہدے طے پا چکے ہیں۔ یاد رہے کہ ۱۹-۲۰۱۸ءسے ہندوستان کی ایران سے تیل کی درآمد تقریباً بند تھی کیونکہ اسی عرصہ میں امریکہ نے ایران پر سخت پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ اس کی وجہ سے ہندوستان کو مجبوراً درآمد روکنی پڑی تھی۔ تاہم حالیہ جنگ کے بعد امریکہ نے تہران کے خام تیل پر عائد کچھ پابندیاں ہٹا دی ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان توانائی کی تجارت دوبارہ شروع ہوتی نظر آ رہی ہے۔ پابندیوں سے پہلے ہندوستان کی کل خام تیل درآمدات کا ۱۰؍ فیصد حصہ ایران سے آتا تھا۔ ایران اور ہندوستان کے درمیان ’ایندھن کی تجارت‘ کی بحالی کو راحت بھری خبر تصور کیا جا رہا ہے۔ 
 انڈین آئل کارپوریشن نے آخری بار جون۲۰۱۸ء میں ایران سے ایل پی جی کی خریداری کی تھی۔ اس بار آنے والی کھیپ میں تقریباً۴۳؍ہزار ٹن بیوٹین اور پروپین گیس شامل ہے۔ یہ مقدار ہندوستان کی صرف آدھے دن کی ضرورت پوری کرنے کیلئے کافی ہے، جہاں ایل پی جی کا استعمال عموماً کھانا پکانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ ملک اپنی مجموعی ضرورت کا تقریباً دو تہائی حصہ بیرون ملک سے منگاتا ہے، جس میں سے ۹۰؍ فیصد حصہ مشرقِ وسطیٰ سے آتا ہے۔ یہ سپلائی بیشتر آبنائے ہرمز کے ذریعہ ہوتی ہے، جو جنگ کے آغاز کے بعد تقریباً بند ہو گیا تھا۔ ہندوستان اپنی ایل پی جی کی مجموعی ضروریات کا تقریباً۶۰؍ فیصد حصہ درآمد کرتا ہے۔ جنگ شروع ہونے کے بعد ہندوستان میں گھریلو ایل پی جی پیداوار میں ۴۰؍ فیصد اضافہ ہوا ہے، جس سے مجموعی کھپت کا تقریباً۵۶؍ فیصد حصہ پورا ہو رہا ہے، لیکن اس کے باوجود درآمد کی ضرورت برقرار ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق فروری۲۰۲۶ء میں ہندوستان کی مجموعی کھپت۲ء۸۲؍ ملین میٹرک ٹن رہی۔ ایل پی جی کی سپلائی کو خام تیل سے بھی زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے، کیونکہ ملک میں اس کا بنیادی استعمال کھانا پکانے کیلئے ہوتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ناندیڑ میں بی ایڈ سی ای ٹی امتحان میں بدانتظامی، طلبہ کا شدید احتجاج

انرجی ڈاٹا کمپنی ’وورٹیکسا‘ کے شپنگ اعداد و شمار کے مطابق یکم مارچ سے۱۸؍ مارچ کے درمیان ہندوستان کی خام تیل کی درآمد گزشتہ ماہ کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً ۲۳؍ فیصد کم رہی۔ اگر آبنائے ہرمز پورے مہینے بند رہتی ہے تو ماہرین کے مطابق مارچ میں خام تیل کی درآمد تقریباً۲۰؍ فیصد تک کم ہو سکتی ہے۔ 
اُدھر ماسکو سے بھی ہندوستان تیل اور گیس کی تیاری کررہا ہے۔ یاد رہے کہ امریکہ کے ذریعہ جرمانہ کی شکل میں  ٹیرف عائد کئے جانے کی وجہ سے ہندوستان نے روسی خام تیل کی خریداری کم کر دی تھی۔ صرف ۲؍ ماہ بعد دہلی اور ماسکو توانائی کے شعبے میں اپنے تعاون کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔ معاملے سے واقف ۲؍ افراد کے مطابق دونوں اس بات پر متفق ہو گئے ہیں کہ یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد پہلی بار روس کی جانب سے مائع قدرتی گیس کی براہِ راست فروخت دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کی جائے۔ اگر ہندوستان اس معاہدے کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کرتا ہے، جو مغربی پابندیوں کی خلاف ورزی کا خطرہ رکھتا ہے، تو ذرائع کے مطابق مذاکرات چند ہفتوں میں مکمل ہو سکتے ہیں۔ 
ان مذاکرات کی تفصیلات، جو امریکہ-اسرائیل کے ایران پر حملے کے باعث توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پس منظر میں ہو رہے ہیں، اس سے پہلے سامنے نہیں آئی تھیں۔ ذرائع کے مطابق۱۹؍ مارچ کو دہلی میں روس کے نائب وزیر توانائی پاویل سوروکین اور ہندوستان کے وزیر پیٹرولیم و گیس ہردیپ سنگھ پوری کے درمیان ملاقات کے دوران ایل این جی معاہدے پر بات چیت کےمعاملے میں  ’’زبانی اتفاق‘‘ہوا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK