Inquilab Logo Happiest Places to Work

گڈچرولی : شراب پی کر بیوی کو پیٹنے پر ایک ہزار روپے جرمانہ

Updated: March 26, 2026, 12:44 PM IST | Ali Imran | Gadchiroli

گائوں والوں نے مل کر قرارداد منظور کی ، شراب بیچنے والو پر ۲۰؍ ہزار روپے جرمانہ، خبر دینے والے کو ۵؍ ہزار انعام۔

Women Also Actively Participated In This Campaign.Photo:INN
اس مہم میں خواتین نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا- تصویر:آئی این این
 چھتیس گڑھ کی سرحد پر واقع ودربھ کے ضلع گڈچرولی میں ایک جگہ ہے ابوجھامڑ۔ اسی جنگلاتی علاقے ابوجھامڑ سے متصل بھامرا گڑھ تعلقہ ہے جہا  صرف ۱۷۰۰ لوگوں پر مشتمل برہمن پلی گاؤں ہے جو  شراب کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہو گیا ہے۔ ان لوگوں نے گاؤں میں شراب بیچنے پر ۲۰؍ہزار روپے اور شراب پی کر گھر میں شور شرابہ اور بیوی کے ساتھ مارپیٹ کرنے پر ایک ہزار روپے جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس جرمانے سے جمع حاصل ہونے والی رقم کو گاؤں کی ترقی کیلئے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 
 
 
 بتادیں کہ برہمن پلی گائوں گڈچرولی شہر سے ۱۳۰؍ کلومیٹر کی دوری پر واقع  ہےاور چھتیس گڑھ کی سرحد گاؤں کے بہت قریب ہے۔ شراب کی وجہ سے اس گاؤں میں روزانہ لڑائی جھگڑے اور گھریلو تشدد ہوتے رہتے ہیں۔ یہاں محنت سے کمائی گئی رقم شراب پر اُڑائی جا رہی تھی جس سے بچوں کی تعلیم اور صحت پر برا اثر پڑ رہا تھا۔ اس صورتحال کو بدلنے کیلئے ’’مکتی پتھ‘‘ مہم  شروع کی گئی ۔اس کے تحت گزشتہ دنوں منعقدہ گرام سبھا میں برہمن پلی کو شراب سے پاک کرنے کی قرارداد پیش کی گئی۔ تجویز کردہ قوانین پر عمل درآمد اور نگرانی کیلئے گاؤں کی سطح پر ایک کمیٹی تشکیل دی گئی اور شراب مخالف قوانین کا ایک سیٹ تیار کیا گیا جس کے مطابق شراب بیچتے ہوئے پکڑے جانے والے پر ۲۰؍ہزار روپے اور نشے کی حالت میں اپنی بیوی کو مارنے والے یا ہنگامہ کرنے والے کیلئے ایک ہزار روپے جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔ جبکہ شراب بیچنے والوں کی حمایت یا حفاظت کرنے والوں کو بھی دو ہزار روپے جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔
 
 
اس کے علاوہ گاؤں میں چھپ چھپا کر شراب بیچنے والوں پر نظر رکھنے اور اُس کی خبر دینے والوں کے لئے ۵؍ہزار روپے انعام کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ شراب کے کاروبار سے وابستہ افراد کو ’’روزگار گارنٹی اسکیم‘‘ کے تحت کام نہ دینے اور اُن کے راشن کارڈ پر ملنے والے سرکاری اناج کو روکنے پر بھی بات چیت کی گئی ہے۔ اس کارگزاری سے حاصل ہونے والی جرمانے کی رقم اسکولوں کی مرمت، صحت کی سہولیات، سڑکوں کی مرمت اور دیہات کی خوبصورتی کیلئے استعمال کی جائے گی۔ اس پر گائوں کے تمام لوگ متفق ہیں جبکہ خواتین نے راحت کا سانس لیا ہے۔ یاد رہے کہ حال ہی میں سانگلی کے ایک گائوں میں گائوں والوں نے مل کر گالی دینے والوں پر ۵۰۰؍ روپے جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ دیہی علاقوں میں اب لوگ خود قانونی اقدام کر رہے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK