Inquilab Logo Happiest Places to Work

آئی پی ایل ۲۰۲۶ء: کروڑوں روپے لینے والے ۵؍ ناکام کھلاڑی

Updated: June 02, 2026, 9:05 PM IST | Mumbai

آئی پی ایل ۲۰۲۶ء میں کئی نوجوان اور کچھ تجربہ کار کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ تاہم، کچھ ایسے نام بھی رہے جنہیں خریدنے یا ٹیم میں برقرار رکھنے کے لیے فرنچائزز نے کروڑوں روپے خرچ کیے، لیکن ان کھلاڑیوں کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی۔

Rishabh Pant.Photo:X
رشبھ پنت۔ تصویر:ایکس

آئی پی ایل ۲۰۲۶ء میں کئی نوجوان اور کچھ تجربہ کار کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ تاہم، کچھ ایسے نام بھی رہے جنہیں خریدنے یا ٹیم میں برقرار رکھنے کے لیے فرنچائزز نے کروڑوں روپے خرچ کیے، لیکن ان کھلاڑیوں کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی۔ آئیے ایسے ہی پانچ کھلاڑیوں کے بارے میں جانتے ہیں۔

 کیمرون گرین
کیمرون گرین  کوکولکاتا نائٹ رائیڈرس نے خریدنے کے لیے۲۰ء۲۵؍ کروڑ روپے خرچ کیے تھے، لیکن وہ توقعات پر پورا نہ اتر سکے۔ بیٹنگ میں انہوں نے ۱۴؍ میچوں میں ۱۴۵؍ کے اسٹرائیک ریٹ سے صرف ۳۲۲؍ رنز بنائے اور پورے سیزن میں صرف دو نصف سنچریاں اسکور کیں۔ ابتدائی میچوں میں انہوں نے انجری سے واپسی کا حوالہ دیتے ہوئے بولنگ نہیں کی، اور بعد میں بھی گیند کے ساتھ کوئی خاص اثر نہ چھوڑ سکے۔
رشبھ پنت
رشبھ پنت ، جو ۲۷؍ کروڑ روپے میں فروخت ہوئے تھے، کالکھنؤ سپرجائنٹس کی جانب سے کھیلتے ہوئے آئی پی ایل  ۲۰۲۶ء میں بھی مایوس کن مظاہرہ رہا۔ انہوں نے ۱۴؍میچوں میں ۱۳۸؍ کے اسٹرائیک ریٹ سے صرف ۳۱۲؍ رنز بنائے۔ پورے سیزن میں وہ صرف ایک نصف سنچری ہی اسکور کر سکے۔ ان کی بیٹنگ میں ناکامی ایل ایس جی کے لیے اس سیزن بھی نقصان دہ ثابت ہوئی۔
 سوریہ کمار یادو
سوریہ کمار یادو کو برقرار رکھنے کے لیے ممبئی انڈینس ۳۵ء۱۶؍ کروڑ روپے خرچ کیے تھے۔ تاہم، اس سیزن وہ رنز بنانے کے لیے شدید جدوجہد کرتے نظر آئے۔ انہوں نے ۱۳؍ اننگز میں ۱۴۷؍ کے اسٹرائیک ریٹ سے صرف ۲۷۰؍ رنز بنائے اور دو نصف سنچریاں اسکور کیں۔ ان کی ناکامی ممبئی انڈینز کی خراب کارکردگی کی ایک بڑی وجہ بنی۔

یہ بھی پڑھئے:گیت ’’مسکارا‘‘ میں شروَری واگھ کا الگ انداز


 نکولس پورن
نکولس پورن کو آئی پی ایل ۲۰۲۶ءمیں لکھنؤ سپرجائنٹس  نے ۲۱؍ کروڑ روپے میں برقرار رکھا تھا، لیکن وہ توقعات پر پورا نہ اتر سکے۔ انہوں نے ۱۴؍ میچوں میں ۱۲۷؍کے معمولی اسٹرائیک ریٹ سے صرف ۲۳۴؍ رنز بنائے اور پورے سیزن میں صرف ایک نصف سنچری اسکور کی۔

یہ بھی پڑھئے:آئرلینڈ کی ویسٹ انڈیز پر پہلی ٹی۲۰؍ فتح: اورلا پرینڈرگاسٹ کی آل راؤنڈکارکردگی


ہاردک پانڈیا
ہاردک پانڈیا ، جو ممبئی انڈینز کے کپتان تھے، کے لیے یہ سیزن ایک ڈراؤنے خواب کی طرح ثابت ہوا۔ ۱۰؍ میچوں میں انہوں نے ۱۳۸؍ کے اسٹرائیک ریٹ سے صرف  ۲۰۶؍ رنز بنائے اور ایک بھی نصف سنچری اسکور نہ کر سکے۔ بولنگ میں بھی وہ صرف ۴؍ وکٹیں حاصل کر سکے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK