Inquilab Logo Happiest Places to Work

یوپی: پنچایت انتخابات نہ کرانے پر ہائیکورٹ سخت برہم

Updated: June 04, 2026, 11:31 AM IST | Hamidullah Siddiqui | Lucknow

الٰہ آباد ہائیکورٹ نے مدت ختم ہونے کے بعد پردھانوں کو ہی ایڈمنسٹریٹر بنانے کے معاملے میں یوگی حکومت کی سرزنش کی۔

Allahabad High Court. Photo: INN
الہ آباد ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این
الٰہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے اتر پردیش میں پنچایت انتخابات کے انعقاد میں تاخیر پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے ریاستی الیکشن کمیشن سے واضح طور پر پوچھا ہے کہ انتخابات کب کرائے جائیں گے۔ عدالت نے کمیشن کو ہدایت دی ہے کہ وہ آئندہ سماعت پر پنچایت انتخابات کی ممکنہ تاریخ سے آگاہ کرے۔عدالت نے ریاستی حکومت سے دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کے ریزرویشن کے معاملے پر بھی وضاحت طلب کی ہے اور حکم دیا ہے کہ۱۰؍ جولائی کو ہونے والی اگلی سماعت کے دوران او بی سی کمیشن کی رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔
 
 
یہ معاملہ ریاستی حکومت کے ۲۵؍مئی کے اس حکم کے خلاف دائر درخواست سے متعلق ہے، جس کے تحت موجودہ گرام پردھانوں کی مدتِ کار میں چھ ماہ کی توسیع کرتے ہوئے انہیں نئے انتخابات تک ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیا گیا تھا۔جسٹس شیکھر بی صراف اور جسٹس اے کے چودھری پر مشتمل تعطیلاتی بنچ نے سماعت کے دوران ریاستی الیکشن کمیشن سے استفسار کیا کہ آخر پنچایت انتخابات کب منعقد ہوں گے اور اس کی تاریخ کیوں نہیں بتائی جا رہی ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں ریاستی حکومت سے بھی جواب طلب کیا ہے۔ درخواست گزار امریندر ناتھ کا موقف ہے کہ اتر پردیش پنچایت راج ایکٹ کی دفعہ  ۱۲؍ کے مطابق کسی گرام پردھان کی مدتِ کار حلف لینے کی تاریخ سے صرف پانچ سال تک محدود ہوتی ہے۔ تاہم حکومت نے مقررہ وقت پر انتخابات نہ کرا کر موجودہ پردھانوں کو ہی ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیا، جس سے ان کی مدتِ کار غیر معینہ مدت تک بڑھ گئی ہے، جو قانون کی روح کے خلاف ہے۔
 
 
درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ماضی میں اگر کسی وجہ سے پنچایت انتخابات وقت پر نہیں ہو پاتے تھے تو اے ڈی او پنچایت یا کسی دوسرے سرکاری افسر کو ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا جاتا تھا، لہٰذا اس بار بھی یہی طریقہ اختیار کیا جانا چاہیے تھا۔ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کے اس فیصلے پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ جمہوری عمل کو غیر ضروری طور پر مؤخر نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت اب  ۱۰؍ جولائی کو ہونے والی اگلی سماعت میں او بی سی کمیشن کی رپورٹ اور انتخابات کے شیڈول سے متعلق تفصیلات کا جائزہ لے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK