Updated: May 27, 2026, 7:02 PM IST
| Gaza
غزہ کے شہر دیر البلح میں واقع شہداء الاقصیٰ اسپتال کے قریب قائم کیمپ اور غزہ سٹی کے ایک اسکول میں بچوں کے لیے حج کے مناسک کی عملی مشق کا اہتمام کیا گیا، جہاں کم سن بچوں نے احرام باندھ کر طواف، سعی اور دیگر ارکانِ حج ادا کیے۔ منتظمین کے مطابق اس سرگرمی کا مقصد بچوں کو دینی تعلیم دینا اور جنگ، بمباری اور محاصرے کے ماحول میں ان کے چہروں پر خوشی لانا تھا۔
غزہ میں جاری جنگ، تباہی اور اسرائیلی ناکہ بندی کے درمیان فلسطینی بچوں نے ایک علامتی حج تقریب کے ذریعے روحانی وابستگی اور مقدس سرزمین تک پہنچنے کی خواہش کو زندہ کردیا۔ مرکزی غزہ کے شہر دیر البلح میں واقع الاقصیٰ شہداء اسپتال کے قریب قائم پناہ گزین کیمپ اور غزہ سٹی کے ایک اسکول میں بچوں کو حج کے تمام مناسک عملی طور پر سکھائے گئے، جہاں ننھے بچوں نے احرام پہن کر خانۂ کعبہ کے طواف، صفا و مروہ کی سعی، رمی اور دیگر ارکانِ حج کی مشق کی۔ اس منفرد اور جذباتی منظر کے ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئے، جن میں بچے سفید احرام میں انتہائی سنجیدگی اور عقیدت کے ساتھ مناسک ادا کرتے دکھائی دیے۔ منتظمین کا کہنا تھا کہ جنگ کے خوفناک ماحول میں پروان چڑھنے والے بچوں کو دینی شعور دینا اور ان کی نفسیاتی کیفیت کو بہتر بنانا اس پروگرام کا بنیادی مقصد تھا۔
واضح رہے کہ غزہ کے فلسطینی رواں برس بھی حج کی سعادت سے محروم رہے ہیں۔ اسرائیلی ناکہ بندی، رفح بارڈر کی بندش اور مسلسل جنگی حالات کے باعث ہزاروں فلسطینی مکہ مکرمہ جانے سے محروم رہے۔ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے قبل غزہ کے شہری قرعہ اندازی اور رفح کراسنگ کے ذریعے مصر پہنچ کر سعودی عرب روانہ ہوتے تھے، مگر جنگ کے بعد یہ راستہ تقریباً مکمل طور پر بند ہوگیا۔ غزہ میں بچوں کی یہ علامتی حج تقریب ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں جنگ کے بچوں پر تباہ کن نفسیاتی اثرات کے بارے میں مسلسل خبردار کررہی ہیں۔ مختلف رپورٹس کے مطابق غزہ کے بیشتر بچے شدید ذہنی دباؤ، خوف، نقل مکانی اور مسلسل بمباری کے ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ بعض اداروں نے بتایا کہ بچے کھیلوں میں بھی جنگ، جنازوں اور بمباری کے مناظر دہرانے لگے ہیں، جو ان کی ذہنی کیفیت کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
دوسری جانب دیر البلح کے الاقصیٰ شہداء اسپتال کو غزہ جنگ کے دوران شدید دباؤ کا سامنا رہا ہے، جہاں زخمی بچوں اور متاثرہ خاندانوں کی بڑی تعداد زیر علاج رہی۔ بین الاقوامی میڈیا اور امدادی اداروں کی رپورٹس کے مطابق اسپتالوں میں جگہ اور ادویات کی شدید قلت کے باوجود طبی عملہ مسلسل زخمی بچوں کی جان بچانے میں مصروف ہے۔
فلسطینی سوشل میڈیا صارفین نے بچوں کی اس علامتی حج تقریب کو ’’محاصرے میں امید کی تصویر‘‘ قرار دیا۔ کئی افراد نے لکھا کہ اگرچہ غزہ کے بچے خانۂ کعبہ تک نہیں پہنچ سکے، مگر ان کے دلوں میں حج کی محبت اور روحانی وابستگی آج بھی زندہ ہے۔ جنگ اور تباہی کے درمیان یہ منظر دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے جذباتی پیغام بن کر ابھرا، جہاں معصوم بچے احرام میں امن، عبادت اور امید کی علامت دکھائی دیے۔