• Sat, 05 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اگر مرکزی بینک نے شرح سود میں کمی نہ کی تو سرپلس ممالک سے تجارت روک دیں گے: ٹرمپ

Updated: September 05, 2026, 8:59 AM IST | Washington

امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہےکہ اگر مرکزی بینک ( فیڈرل ریزرو ) نے شرح سود میں کمی نہ کی تو وہ ان ممالک کے ساتھ تجارت روک دیں گے ، جوامریکہ کے ساتھ تجارتی سرپلس رکھتے ہیں،ساتھ ہی انہوں نے فیڈرل ریزرو کے عہدیداروں پر زور دیا کہ وہ قرضے لینے کی لاگت کم کریں۔

US President Donald Trump. Photo: X
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: ایکس

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر اگست کے ملازمتوں کے اعداد و شمار پر، جن کے مطابق ایک لاکھ ۶۲؍ ہزارنئی نوکریاں شامل ہوئی تھیں ،ردعمل دیتے ہوئے دھمکی دی۔ انہوں نے لکھا، ’’شرح سود کم کرو کیونکہ امریکہ کی ساکھ ابھی چند عرصہ قبل کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہے، اور مزید کہا،’’شرح کم کرو ورنہ میں ان ممالک کے ساتھ تجارت بند کروں گا جن کے ساتھ ہمارا تجارتی خسارہ ہے۔‘‘ٹرمپ نے یہ پیغام فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش اور بورڈ کے دیگر اراکین کو مخاطب کیا، اور ان پر زور دیا کہ ’’ہوشیار بنیں‘‘ اور ’’محب وطن بنیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی اخبار کی انوکھی تجویز، مقروض امریکیوں کے قرضے معاف کر کے انہیں ایران پر حملے کیلئے بھیج دو

ان کا کہنا تھا کہ امریکی معیشت کی مضبوطی شرح سود میں کمی کا جواز فراہم کرتی ہے، اور امریکہ کو دنیا میں ’’سب سے کم شرح سود‘‘ رکھنی چاہیے۔ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہیں ایسی کارروائی کا قانونی اختیار حاصل ہے، اور اس سلسلے میں انہوں نے ٹیرف (محصول) سے متعلق سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیا، جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس میں ’’صدر‘‘کو مکمل حق تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے لکھا، ’’یہ ٹیرف سے بہتر ہے،‘‘ واضح رہے کہ ٹرمپ پہلے بھی فیڈرل ریزرو کو شرح سود کم کرنے پر زور دیتے رہے ہیں۔ اس تازہ بیان میں انہوں نے دوسرے ممالک کے امریکہ کے ساتھ تجارتی سرپلس کو بھی دباؤ کے طور پر استعمال کیا، اور کہا کہ امریکی منظوری کے بغیر وہ ممالک اپنی مالی حیثیت کھو دیں گے اور ’’مالی اعتبار سے اشرافیہ‘‘ نہیں رہیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK