• Sun, 18 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

علی شعث نے غزہ انتظامی کمیٹی کے سربراہ کی حیثیت سے فرائض کا آغاز کر دیا

Updated: January 18, 2026, 7:02 PM IST | Gaza

علی شعث نے غزہ انتظامی کمیٹی کے سربراہ کی حیثیت سے فرائض کا آغاز کر دیا،ان کا کہنا ہے کہ ان کا پہلا اقدام کمیٹی کے مشن اسٹیٹمنٹ کو اپنانا اور اس پر دستخط کرنا تھا۔

Ali Shaath with other members of the committee. Photo: X
علی شعث کمیٹی کے دیگر اراکین کے ہمراہ۔ تصویر: ایکس

ڈاکٹر علی شعث نے باضابطہ طور پر قومی کمیٹی برائے انتظامِ غزہ (NCAG) کے سربراہ کی حیثیت سے اپنے فرائض کا آغاز کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا پہلا اقدام کمیٹی کے مشن اسٹیٹمنٹ کو اپنانا اور اس پر دستخط کرنا تھا۔سنیچر کی شام ایکس پر جاری بیان میںشعث  نے کہا، ’’آج، اپنے پہلے سرکاری اقدام کے طور پر، میں نےکمیٹی کے مشن اسٹیٹمنٹ کو اپنایا اور اس پر دستخط کیے، جس سے ہمارے انتظامی  اصولوں کی توثیق ہوتی ہے۔‘‘بعد ازاں انہوں نے کہا کہ کمیٹی سلامتی کونسل کی قرارداد ۲۸۰۳؍ اور صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے۲۰؍ نکاتی امن منصوبے کا مجاز ہے، اور اس کام کا مقصد غزہ کے عبوری دور کو پائیدار فلسطینی خوشحالی کی بنیاد میں بدلنا ہے۔‘‘ شعث نے مزید کہا کہ’’ کمیٹی بورڈ آف پیس کی رہنمائی میں، جس کی صدارت صدر ڈونالڈ ٹرمپ کریں گے، اور غزہ کے لیےاعلیٰ پائے کے نمائندوں کی حمایت اور معاونت سے کام کرے گی۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: غزہ انتظامیہ کے سربراہ نے ایک سالہ بجٹ محفوظ کر لیا، تعمیر نو کے فنڈ کیلئے زور

انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہمارا مشن غزہ کی پٹی کو نہ صرف انفراسٹرکچر بلکہ نفسیاتی طور پر بھی دوبارہ تعمیر کرنا ہے۔‘‘بیان کے مطابق، کمیٹی کا ہدف سلامتی قائم کرنا، بجلی، پانی، صحت اور تعلیم سمیت ضروری خدمات بحال کرنا، اور امن، جمہوریت اور انصاف پر مبنی حکمرانی کو فروغ دینا ہے۔شعث نے کہا کہ ’’کمیٹی دیانتداری اور شفافیت کے اعلیٰ ترین معیارات کے ساتھ کام کرے گی اور ایسی پیداواری معیشت کی تعمیر کے لیے کام کرے گی جو بے روزگاری کو سب کے لیے مواقع سے بدل سکے۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’ہم امن کو اپناتے ہوئے حقیقی فلسطینی حقوق اور خودارادیت کے راستے کو محفوظ بنانے کی کوشش کریں گے ۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: غزہ میں اسرائیل کے فضائی حملے

واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس نے جمعہ کو غزہ میں اقتدار کی منتقلی کی نگرانی کرنے والی ایک نئی ’’ٹیکنوکریٹک‘‘ کمیٹی کے اراکین کا اعلان کیا، جو اس خطے پر اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ ختم کرنے کے ٹرمپ کے۲۰؍ نکاتی منصوبے کا حصہ ہے۔ شعث فلسطینی اتھارٹی میں سابق فلسطینی ڈپٹی منسٹر رہ چکے ہیں۔وائٹ ہاؤس نے شعث کو ’’قابل احترام ٹیکنوکریٹک لیڈر‘‘ قرار دیا ہے جو عوامی خدمات کی بحالی، شہری اداروں کی تعمیر نو اور غزہ میں روزمرہ کی زندگی کو مستحکم کرنے کی نگرانی کریں گے، جبکہ طویل مدتی حکمرانی کی بنیاد رکھیں گے۔‘‘ بیان میں کہا گیا ہے کہ حکمرانی اور خدمات کی حمایت کیلئے ایک غزہ ایگزیکٹو بورڈ کا بھی اعلان کیا گیا ہے، جس میں ترکی کے وزیر خارجہ حکن فدان؛ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹ کوف، ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر؛ سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر؛ متحدہ عرب امارات کی وزیر مملکت برائے بین الاقوامی تعاون ریم الہاشمی، تجربہ کار قطری سفارت کار علی الثوادی اور مصر کے انٹیلی جنس سربراہ حسن رشاد شامل ہیں۔
تاہم وِٹکوف نے بدھ کو غزہ جنگ بندی منصوبے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہان کی توجہ خطے کو فوج سے پاک کرنے، ٹیکنوکریٹک حکمرانی اور تعمیر نو پر مرکوز ہوگی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK