Updated: January 03, 2026, 2:58 PM IST
| Gaza
غزہ کی ۱۴۰۰؍ سالہ قدیم جامع عمری مسجد، جو دسمبر ۲۰۲۳ء میں اسرائیلی حملے میں شدید طور پر تباہ ہو گئی تھی، اب بحالی کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ تاریخی مینار کی تباہی اور ساختی نقصان کے باوجود، ماہرین اور مقامی افراد مسجد کو اس کی اصل شناخت کے ساتھ دوبارہ تعمیر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جسے غزہ کے عوام امید اور استقامت کی علامت سمجھ رہے ہیں۔
غزہ کی قدیم ترین اور سب سے بڑی مسجد العمری۔ تصویر: آئی این این
غزہ کی قدیم ترین اور سب سے بڑی مسجد العمری مسجد کی بحالی کا کام باضابطہ طور پر شروع ہو گیا ہے۔ یہ مسجد دسمبر ۲۰۲۳ء میں ایک اسرائیلی حملے کے نتیجے میں شدید طور پر تباہ ہو گئی تھی، جس کے بعد اسے کھنڈرات کی صورت میں چھوڑنا پڑا تھا۔ اب، طویل انتظار اور مسلسل مشکلات کے بعد، اس تاریخی عبادت گاہ کو دوبارہ زندگی دینے کی کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔ تقریباً ۱۴۰۰؍ سال پرانی یہ مسجد نہ صرف غزہ بلکہ پورے فلسطین کے اہم ترین مذہبی اور تاریخی مقامات میں شمار ہوتی ہے۔ اسرائیلی حملے کے دوران مسجد کو شدید ساختی نقصان پہنچا تھا، جس میں اس کا تاریخی مینار مکمل طور پر منہدم ہو گیا تھا جبکہ مرکزی ہال، محراب، صحن اور اندرونی دیواریں بھی بری طرح متاثر ہوئیں۔ حملے کے بعد کئی ماہ تک مسجد ملبے کا ڈھیر بنی رہی، جو غزہ میں جاری جنگ اور ثقافتی تباہی کی علامت بن گئی تھی۔
جامع عمری مسجد کی تاریخی اہمیت غیر معمولی ہے۔ یہ مسجد مملوک اور عثمانی ادوار کی طرزِ تعمیر کے نمایاں عناصر کی حامل ہے، جن میں پتھریلی محرابیں، کشادہ صحن، قدیم ستون اور خطاطی کے نادر نمونے شامل ہیں۔ صدیوں تک یہ مسجد نہ صرف عبادت کا مرکز رہی بلکہ دینی تعلیم، سماجی اجتماعات اور عوامی رابطے کا بھی اہم مقام سمجھی جاتی رہی ہے۔ غزہ کے باشندوں کیلئے جامع عمری مسجد محض ایک عمارت نہیں بلکہ ان کی مذہبی، ثقافتی اور تاریخی شناخت کا حصہ ہے۔ بحالی کے منصوبے سے وابستہ ماہرین کے مطابق، ابتدائی مرحلے میں ملبہ ہٹانے، دیواروں کو سہارا دینے اور مزید گرنے سے بچانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ اس کے بعد مسجد کے تاریخی خدوخال کو محفوظ رکھتے ہوئے تعمیرِ نو کی جائے گی۔ ماہرین آثارِ قدیمہ اور انجینئرز اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ بحالی کے دوران اصل طرزِ تعمیر، مواد اور ڈیزائن کو زیادہ سے زیادہ برقرار رکھا جائے، تاکہ مسجد اپنی تاریخی شناخت کھو نہ دے۔
غزہ کے مقامی باشندوں نے بحالی کے آغاز کو امید کی علامت قرار دیا ہے۔ کئی شہریوں کا کہنا ہے کہ جنگ اور تباہی کے ماحول میں جامع عمری مسجد کی تعمیرِ نو ایک مضبوط پیغام ہے کہ فلسطینی عوام نہ صرف زندہ رہنے بلکہ اپنی تہذیب اور تاریخ کو محفوظ رکھنے کا عزم بھی رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق، یہ مسجد غزہ کی اجتماعی یادداشت کا حصہ ہے، اور اس کی بحالی ان کے حوصلے کو مضبوط کرے گی۔ دوسری جانب، ثقافتی ورثے کے تحفظ کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل محاصرہ، وسائل کی کمی اور تعمیراتی سامان کی قلت بحالی کے عمل کو سست کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تاریخی عمارتوں کی بحالی کیلئے خصوصی مہارت، وقت اور مالی وسائل درکار ہوتے ہیں، جو موجودہ حالات میں آسانی سے دستیاب نہیں۔ اس کے باوجود، بحالی کا آغاز خود ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: برطانوی مسلمان برطانیہ کی سب سے فراخ دل کمیونٹی: رپورٹ
بین الاقوامی سطح پر بھی جامع عمری مسجد کی تباہی پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ کئی ثقافتی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے کہا تھا کہ تاریخی اور مذہبی مقامات کو نشانہ بنانا ثقافتی ورثے کی تباہی کے مترادف ہے۔ ان حلقوں کے مطابق، ایسے مقامات کی بحالی نہ صرف عمارتوں کی مرمت ہے بلکہ ایک قوم کی تاریخ اور شناخت کی حفاظت بھی ہے۔ جامع عمری مسجد کی بحالی ایسے وقت میں شروع ہو رہی ہے جب غزہ کو شدید انسانی بحران، بنیادی سہولیات کی کمی اور وسیع پیمانے پر تباہی کا سامنا ہے۔ اس پس منظر میں، مسجد کی تعمیرِ نو کو بہت سے لوگ مزاحمت، ثابت قدمی اور امید کی علامت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ راستہ طویل اور مشکل ہے، مگر یہ قدم اس بات کا اعلان ہے کہ غزہ کی روح ابھی زندہ ہے۔