ایک رپورٹ کے مطابق برطانوی مسلمان خیراتی کاموں میں سالانہ تقریباً ۲ء۲؍ بلین پاؤنڈ عطیہ کرتے ہیں، جس کے بعد وہ برطانیہ کی سب سے فراخ دل کمیونٹی میں شامل ہوگئے ہیں۔
EPAPER
Updated: January 02, 2026, 4:02 PM IST | London
ایک رپورٹ کے مطابق برطانوی مسلمان خیراتی کاموں میں سالانہ تقریباً ۲ء۲؍ بلین پاؤنڈ عطیہ کرتے ہیں، جس کے بعد وہ برطانیہ کی سب سے فراخ دل کمیونٹی میں شامل ہوگئے ہیں۔
تھنک ٹینک ایکوئی کی نئی تحقیق کے مطابق، برطانوی مسلمان برطانیہ کے سب سے زیادہ فیاض عطیہ دہندگان میں شامل ہیں، جو ہر سال خیراتی مقاصد کے لیے تقریباً ۳؍ ارب ڈالر دیتے ہیں، جو قومی اوسط سے چار گنا زیادہ ہے۔اگرچہ یہ سخاوت روایتی طور پر بین الاقوامی امداد کی مد میں ہوتی ہے، لیکن اب مقامی عطیات کی طرف ایک بڑھتا ہوا رجحان پایا جاتا ہے۔ایکوئی نے اپنی رپورٹ میں تبصرہ کیا کہ’’ اگرچہ برطانوی مسلمانوں کے خیراتی عطیات کا ایک بڑا حصہ بین الاقوامی انسان دوست مقاصد کیلئےوقف ہوتا ہے، لیکن اس میں برطانیہ میں قائم اقدامات کو وسعت دینے کی نمایاں غیر مستعمل صلاحیت موجود ہے۔‘‘
واضح رہے کہ یہ رجحان جزوی طور پر ایک نسلی اور ثقافتی تبدیلی سے متحرک ہے۔نوجوان برطانوی مسلمان پیشہ ور افراد اپنے عطیات تیزی سے برطانیہ کے داخلی مقاصد کی طرف موڑ رہے ہیں، خواہ وہ مذہبی ہوں یا سیکولر۔ وہ مقامی بحرانوں جیسے کہ بے گھر، خوراک کے عدم تحفظ اور بچوں کی غربت کے قابل دید مسائلکو دور کرنے کیلئے عطیہ کر رہے ہیں۔ایکوئی نے فلاحی ریاست کے طور پر موجود خلاء پر کرنے میں برطانوی مسلمان خیراتی اداروں کے کردار پر روشنی ڈالی ہے۔‘‘ رپورٹ میں کہا گیاکہ ’’رکاوٹوں کے باوجود، بڑے اور چھوٹے دونوں طرح کے ادارے رہائشی امداد، ہنگامی نقد گرانٹس اور نفسیاتی مدد پیش کرتے ہیں جومذہب سے قطعہ نظر مختلف گروہوں کے فائدہ اٹھانے والوں کے لیے ہیں۔یہ گراں قدر کام ہے جو تناؤ کا شکار عوامی خدمات پر براہ راست دباؤ کو کم کرتا ہے، جسے اکثر تسلیم نہیں کیا جاتا۔
یہ بھی پڑھئے: نیویارک سٹی: پہلے مسلمان میئر ظہران ممدانی نے قرآن مجید پر حلف لیا
تاہم، رپورٹ مقالی مصروفیت کے لیے اہم چیلنجز بھی نشان زد کرتی ہے۔ ان میں ڈی بینکنگ، سیکیورٹائزیشن، حکومتی فنڈنگ کی پابند شرائط، اور مکمل سرکاری قبولیت کی کمی شامل ہیں، جو مسلم قیادت والی خیراتی تنظیموں کے اثرات کو کم کرسکتی ہیں۔ان رکاوٹوں سے نمٹنے کے لیے، ایکوئی زیادہ مذہبی خواندگی اور جامع پالیسی سازی کا مطالبہ کرتا ہے۔تھنک ٹینک نے کہا کہ ’’مسلمان دیگر مذہبی قیادت والی تنظیموں کے ساتھ تعاون اور شمولیت کے اصولوں پر مبنی حکمت عملی کے ذریعے سماجی ہم آہنگی کو بڑھا سکتے ہیں،جس کے نتیجے میں مسلم اقدامات کا زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے، اور شہری زندگی میں برطانوی مسلمانوں کے تعاون کے بارے میں تصورات کو نئی شکل دے سکتاہے۔
ایکوئی نے یہ بھی تجویز کیا ہے کہ ’’ میچ فنڈنگ‘‘ جیسے ثابت شدہ امدادی طریقے، مذہبی اداروں کوبرطانیہ پر مرکوز عطیات کی جانب راغب کر سکتے ہیں۔یہ نقطہ نظر اس بات کو یقینی بنائے گا کہ مقامی اور بین الاقوامی دونوں طرح کی کمزور آبادی برطانوی امدادسے استفادہ حاصل کرسکے۔