غزہ امن بورڈ کی پہلی حکمت عملی پر مبنی گاڑیاں بین الاقوامی فوجی اڈے پر پہنچیں، جبکہ خطے میں موجود بین الاقوامی فوج کی تعناتی کیلئے ساز و سامان کی فراہمی کا عمل جاری ہے۔
EPAPER
Updated: July 01, 2026, 3:06 PM IST | Gaza
غزہ امن بورڈ کی پہلی حکمت عملی پر مبنی گاڑیاں بین الاقوامی فوجی اڈے پر پہنچیں، جبکہ خطے میں موجود بین الاقوامی فوج کی تعناتی کیلئے ساز و سامان کی فراہمی کا عمل جاری ہے۔
غزہ امن بورڈ، جو جنوری میں ٹرمپ کی پہل پر غزہ میں پرامن تصفیے تک پہنچنے کی کوششوں کے تحت قائم کیا گیا تھا، نے منگل کو غزہ کی پٹی میں بین الاقوامی سیکیورٹی فورس (آئی ایس ایف) کے اڈے پر پہلی ’’ٹیکٹیکل گاڑی‘‘ کی آمد کا اعلان کیا، جبکہ اس علاقے میں کثیر القومی فورس کی تعیناتی کے لیے لاجسٹک تیاریاں جاری ہیں۔امن بورڈ نے امریکی سوشل میڈیا کمپنی ایکس پر کہا کہ ’’ٹیکٹیکل گاڑیاں لاجسٹک سپورٹ ایریا، اینڈیورنس پر پہنچ گئیں۔‘‘اس اعلان کے ساتھ گاڑیوں کی آمد کی دستاویزی تصاویر بھی جاری کی گئیں۔ادھر، حماس کا ایک وفد منگل کو قاہرہ پہنچا تاکہ مصری حکام اور ثالثوں کے ساتھ غزہ جنگ بندی معاہدے کے نفاذ پر بات چیت کر سکے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل نے فلسطینی گول کیپر کو قتل کردیا، کل ۱۰۰۰؍ سے زائد کھلاڑیوں کا قتل
واضح رہے کہ امن بورڈ جنوری میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی پہل پر قائم کیا گیا تھا، جو غزہ میں پرامن تصفیے تک پہنچنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ بورڈ کی غزہ سے متعلق پہلی میٹنگ۱۹؍ فروری کو واشنگٹن میں یونائیٹڈ اسٹیٹس انسٹیٹیوٹ آف پیس میں ٹرمپ کی قیادت میں ہوئی تھی۔یہ پہل ٹرمپ کے۲۰؍ نکاتی منصوبے کے دوسرے مرحلے کا حصہ تھی، جس کا مقصد غزہ میں جنگ ختم کرنا ہے اور جسے گزشتہ نومبر کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی حمایت حاصل تھی۔بعد ازاں جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں جنگ بندی، اسرائیل اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ، مستقل جنگ بندی، اور اسرائیل کی بتدریج واپسی شامل تھی۔ تاہم، اسرائیل نے اس معاہدے کی تقریباً روزانہ بنیاد پر خلاف ورزی جاری رکھی ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل نے غزہ سے فلسطینیوں کی منتقلی کے منصوبے کیلئے نئی اصطلاح اپنائی
جبکہ دوسرے مرحلے کے تحت، اسرائیل سے علاقے سے مزید واپسی کی توقع ہے، اس کے علاوہ ایک بین الاقوامی استحکام فورس سیکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھالے گی، جس میں انسانی امداد اور تعمیر نو کے مواد کی ترسیل میں سہولت فراہم کرنا شامل ہے۔ واضح رہے کہ امریکی حمایت کے ساتھ، اسرائیل نے اکتوبر۲۰۲۳ء میں غزہ میں نسل کشی کی جنگ شروع کی، جس کے نتیجے میں فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق۷۳؍ ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید ہوئے اور۱۷۳۰۰۰؍ سے زیادہ زخمی ہوئے، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔