Inquilab Logo Happiest Places to Work

’دریائےسندھ کوئی ہتھیار نہیں جسےہندوستان کے ہاتھوں میں دیاجائے‘: بلاول بھٹو کی سنگین نتائج کی وارننگ

Updated: July 01, 2026, 5:05 PM IST | Islamabad

بلاول نے پانی کے معاہدے کو قومی سلامتی کا معاملہ قرار دیتے ہوئے اس بات پر اصرار کیا کہ اس کی بحالی کے بغیر خطے میں پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ”پاکستان اپنے پانی، اپنے عوام، اپنے معاہدے، اپنی خودمختاری اور اپنے مستقبل کا دفاع کرے گا۔“

Bilawal Bhutto. Photo: X
بلاول بھٹو۔ تصویر: ایکس

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان اور ہندوستان کے درمیان سندھ طاس معاہدہ معطل رہتا ہے تو علاقائی امن پر اس کے ”سنگین نتائج“ برآمد ہوں گے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ پاکستان اپنے پانی کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ہر قیمت پر ان کا دفاع کرے گا۔

۳۰ جون کو اسلام آباد میں ایک بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ ”ہم امن چاہتے ہیں، لیکن وقار کے ساتھ امن۔ ہم قانون کے تحت مذاکرات چاہتے ہیں۔ ہم بقائے باہمی چاہتے ہیں، لیکن محکومی نہیں۔“ انہوں نے سندھ آبی نظام کو پاکستان کی بقا اور مستقبل کیلئے بنیادی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ”دریائے سندھ کوئی پریشر پوائنٹ نہیں ہے۔ سندھ کوئی سودے بازی کا مہرہ نہیں ہے۔ سندھ کوئی ہتھیار نہیں ہے جسے ہندوستان کے ہاتھوں میں دے دیا جائے۔ دریائے سندھ پاکستان کی شہ رگ ہے۔“

یہ بھی پڑھئے: پاکستان میں آبی بحران: سندھ طاس معاہدے پر وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ہندوستان کو جنگ کی دھمکی دی

بلاول نے پانی کے معاہدے کو قومی سلامتی کا معاملہ قرار دیتے ہوئے اس بات پر اصرار کیا کہ اس کی بحالی کے بغیر خطے میں پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ”پاکستان اپنے پانی، اپنے عوام، اپنے معاہدے، اپنی خودمختاری اور اپنے مستقبل کا دفاع کرے گا۔“

پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس وارننگ کو دہراتے ہوئے کہا کہ ”مشترکہ پانیوں کو کبھی بھی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہئے۔“ انہوں نے خبردار کیا کہ پانی کی تقسیم کے موجودہ انتظامات کو تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کے علاقائی استحکام کیلئے ”سنگین نتائج“ ہوں گے۔ سابق وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر نے مزید کہا کہ اس معاہدے میں یکطرفہ سیاسی فیصلوں کے ذریعے ترمیم یا اسے ختم نہیں کیا جا سکتا اور اس کیلئے دونوں حکومتوں کی منظوری درکار ہوگی۔

یہ بھی پڑھئے: پاکستان کا افغانستان میں فضائی حملہ، ۳۶؍افرادہلاک ، ۱۶۳؍زخمی

پاکستانی لیڈران کے برعکس، ہندوستان کا مؤقف رہا ہے کہ ۱۹۶۰ء میں طے پانے والا یہ معاہدہ ”پرانا“ ہو چکا ہے اور اسے سرحد پار دہشت گردی کے مسئلے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اقوامِ متحدہ میں ہندوستان کے مستقل مشن کے فرسٹ سیکریٹری انوپم سنگھ نے کہا کہ ”یہ منطق سے بالاتر ہے کہ ایک ایسی ریاست جو پالیسی کے ہتھیار کے طور پر دہشت گردی برآمد کرتی ہے، وہ خیر سگالی اور دوستی پر مبنی تعاون کے مراعات کا مطالبہ جاری رکھے ہوئے ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”۱۹۶۰ء کے ایک معاہدے کو دائمی استحقاق نہیں مانا جا سکتا۔“

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK