Updated: June 30, 2026, 2:59 PM IST
| Tal Aviv
اسرائیلی ٹی وی چینل ۱۳؍ کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی سیاسی اور سیکوریٹی حکام نے غزہ سے فلسطینیوں کی منتقلی کے منصوبے کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح ’’رضاکارانہ نقل مکانی‘‘ (Voluntary Migration) کو تبدیل کرکے ’’آزادانہ نقل و حرکت کا منصوبہ‘‘ (Free Movement Plan) کر دیا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ تبدیلی بین الاقوامی سطح پر اس منصوبے کو زیادہ قابل قبول بنانے کی کوشش کا حصہ ہے۔
اسرائیلی ٹی وی چینل ۱۳؍ نے دعویٰ کیا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر جبری نقل مکانی سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات کے پیش نظر اسرائیلی سیاسی اور سیکوریٹیحکام نے غزہ سے فلسطینیوں کی منتقلی کے منصوبے کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح ’’رضاکارانہ نقل مکانی‘‘ کو تبدیل کرکے ’’آزادانہ نقل و حرکت کے منصوبے‘‘ سے بدل دیا ہے۔ چینل ۱۳؍ نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ سیکوریٹی اور انٹیلی جنس اداروں سمیت متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ آئندہ اس منصوبے کے لیے ایسی اصطلاح استعمال کریں جو بین الاقوامی برادری میں زیادہ قابل قبول سمجھی جائے۔ رپورٹ کے مطابق، اس منصوبے پر مختلف ممالک سے رابطے رکھنے والے ذرائع نے امید ظاہر کی ہے کہ اصطلاحات میں تبدیلی کے بعد ان ممالک کے مؤقف میں نرمی آسکتی ہے اور ماضی میں ناکام رہنے والی سفارتی کوششوں کو دوبارہ آگے بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو کے سبب اسرائیل ٹرمپ کے ہاتھوں ذلیل ہوا: سابق اسرائیلی وزیرِ انصاف
چینل ۱۳؍ کے مطابق، ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ غزہ میں حماس اب بھی موجود ہے اور اسرائیل زیادہ سے زیادہ فلسطینیوں کو غزہ چھوڑنے پر آمادہ دیکھنا چاہتا ہے۔ رپورٹ میں یاد دلایا گیا کہ اپریل میں اسرائیلی اخبار ہاریٹز نے خبر دی تھی کہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اپنی بین الاقوامی امور کی مشیر کیرولین گلِک کو فلسطینیوں کی ممکنہ منتقلی کے منصوبے پر کام کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی، جس کے تحت صومالی لینڈ اور جمہوریہ کانگو سمیت مختلف ممالک سے رابطے کیے گئے، تاہم ان کوششوں سے کوئی عملی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ اسی طرح دسمبر ۲۰۲۵ء میں اسرائیلی چینل ۱۲؍ نے رپورٹ کیا تھا کہ سیکوریٹی اداروں نے حکومت کو غزہ سے فلسطینیوں کی زمینی، فضائی اور بحری راستوں سے منتقلی کا منصوبہ پیش کیا تھا، تاہم مختلف ممالک کے ساتھ ہونے والے رابطے کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ کے حملوں کے بعد ایران کی جوابی کارروائی، ٹرمپ کی ایران کو سخت دھمکی
اسرائیلی حکومت غزہ سے فلسطینیوں کی منتقلی کو مسلسل ’’رضاکارانہ ہجرت‘‘ کے تصور کے تحت پیش کرتی رہی ہے، جبکہ فلسطینی اتھاریٹی، حماس، عرب ممالک اور متعدد بین الاقوامی اداروں نے بارہا خبردار کیا ہے کہ جاری جنگ، وسیع پیمانے پر تباہی اور ناکہ بندی کے ماحول میں کسی بھی بڑے پیمانے کی نقل مکانی کو رضاکارانہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ دوسری جانب اسرائیلی حکومت مسلسل اس مؤقف کا اعادہ کرتی رہی ہے کہ اگر کوئی فلسطینی غزہ چھوڑنا چاہے تو اسے یہ حق حاصل ہونا چاہیے اور ایسے افراد کے لیے دوسرے ممالک میں آباد ہونے کے امکانات تلاش کیے جانے چاہییں، تاہم اس حوالے سے کسی بھی ملک کے ساتھ کسی حتمی معاہدے کی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھئے: ڈونالڈ ٹرمپ کی ڈجیٹل ٹیکس لگانے والوں کو ٹیریف کی دھمکی
غزہ میں جاری جنگ کے دوران انسانی بحران پر بھی عالمی تشویش برقرار ہے۔ مختلف بین الاقوامی ادارے جنگ کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان، نقل مکانی اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کی نشاندہی کر رہے ہیں، جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس کے خلاف ہیں اور وہ بین الاقوامی قانون کے مطابق کارروائی کر رہا ہے۔ اسرائیل کو غزہ میں اپنی فوجی کارروائیوں پر نسل کشی اور جنگی جرائم کے الزامات کا بھی سامنا ہے، جنہیں اسرائیلی حکومت مسلسل مسترد کرتی آئی ہے۔