Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل نے فلسطینی گول کیپر کو قتل کردیا، کل ۱۰۰۰؍ سے زائد کھلاڑیوں کا قتل

Updated: June 30, 2026, 7:04 PM IST | Gaza

اسرائیل نے خان یونس سروس کلب کے گول کیپرسلیم خضر الاشقر کو گولی مارکر ہلاک کردیا، ۳۲؍ سالہ کھلاڑی اپنے فٹ بال کیریئر کے دوران الاقصیٰ اور المصدر اسپورٹس کلب کی نمائندگی کر چکے تھے۔

Khan Younis Service Club goalkeeper Salim Khader al-Ashqar. Photo: X
فلسطینی گول کیپر سلیم خضر الاشقر۔ تصویر: ایکس

اسرائیلی فوجوں نے غزہ کی پٹی کے شہر خان یونس کے شمال مشرق میں واقع قصبہ القرارہ میں فلسطینی گول کیپر سلیم خضر الاشقر کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ خبر رساں ادارے وفا کے مطابق۳۲؍ سالہ الاشقر خان یونس سروسز کلب کے گول کیپر تھے اور اپنے فٹ بال کیریئر کے دوران الاقصیٰ اور المصدر اسپورٹس کلب کی بھی نمائندگی کر چکے تھے۔مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ الاشقر کی شادی صرف پانچ ماہ قبل ہوئی تھی اور وہ اپنے پہلے بچے کی پیدائش کا انتظار کر رہے تھے۔ وہ سات بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے۔

یہ بھی پڑھئے: آذربائیجان کا اسرائیل کے آرمینی نسل کشی تسلیم کرنے کے فیصلے پر اعتراض

وفا کے مطابق الاشقر کی ہلاکت کے ساتھ ہی اکتوبر۲۰۲۳ء میں غزہ پر اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ کے آغاز سے اب تک ہلاک ہونے والے فلسطینی کھیلوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد۱۰۰۹؍ ہو گئی ہے، جن میں۵۶۷؍ فلسطینی کھلاڑیوں کا تعلق فٹ بال سے تھا۔واضح رہے کہ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے بعد سے اسرائیل کے ظالمانہ حملوں میں ۷۴؍ ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں، اس کے علاوہ ایک لاکھ ۷۵؍ ہزار سے زائد زخمی ہیں، جبکہ ان میں زیادہ تر تعداد خواتین اور بچوں کی ہے، اس کے علاوہ اسرائیل نے بمباری کے ذریعے پورے غزہ کے شہری نظام کو تباہ کردیا۔اور راہداری بند کرکے خطے میں قحط کے حالات پیدا کردیئے۔ بعد ازاں امریکی ثالثی میں اسرائیل اور حماس کے مابین جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کے روزانہ کی بنیاد پر حملے جاری ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل نے غزہ سے فلسطینیوں کی منتقلی کے منصوبے کیلئے نئی اصطلاح اپنائی

اسرائیل کے حملوں کا نشانہ بننے والے فلسطینیوں میں ایک بڑی تعداد مختلف شعبوں کے وابستہ سرکردہ افراد کی ہے، ان میں ایک نمایاں شعبہ کھیل کا ہے۔ اسرائیل نے اب تک ایک ہزار سے زائد کھلاڑیوں کو قتل کیا، جو ،مختلف کھیلوں سے وابستہ تھے۔ ۔ فلسطین فٹبال ایسوسی ایشن کے مطابق صرف فٹبال سے وابستہ کھلاڑی، کوچ اور ریفریوں کی ہلاکتوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔اس کے علاوہ  اسرائیلی حکام نے فلسطین خواتین فٹبال ٹیم کی دو انٹرنیشنل کھلاڑیوں رند الحلاوانی اورنتالی ابو دایہ کو حراست میں لیا۔  فٹبال کے علاوہ والی بال، باسکٹ بال، ایتھلیٹکس اور دوسرے کھیلوں سے وابستہ کھلاڑی بھی  اسرائیلی حملوں میں شہید ہوئے ہیں۔فلسطین فٹبال ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ فلسطینی کھلاڑیوں کو باضابطہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK