جنگ کے خاتمے کے حتمی انتظامات اور بعد کے انتظامات پر غور کیا گیا۔
EPAPER
Updated: April 05, 2026, 11:54 AM IST | Mumbai
جنگ کے خاتمے کے حتمی انتظامات اور بعد کے انتظامات پر غور کیا گیا۔
فلسطینی تنظیم حماس کے وفدنےمصر کا دورہ کرتے ہوئے جنگ بندی کے نفاذ اور غزہ کے مستقبل کے خدوخال طے کرنے کیلئے اہم مذاکرات کیے۔ رپورٹس کے مطابق حماس کے وفد نے مصری حکام کے ساتھ تفصیلی ملاقاتیں کیں، جن میں جنگ کے خاتمے کے حتمی انتظامات اور غزہ کے بعد کے حالات پر غور کیا گیا۔حماس نے بتایا کہ اس کے وفد نے فلسطینی دھڑوں کی شرکت کے ساتھ ایک وسیع اجلاس میں بھی شرکت کی، جس میں امن کونسل کے نمائندے نکولے ملادینوف سمیت مصر، قطر اور ترکی کے ثالثین موجود تھے۔بیان کے مطابق یہ مذاکرات غزہ میں جنگ بندی معاہدے پر مکمل عمل درآمد اور انسانی بحران کےخاتمے کیلئےجاری بین الاقوامی کوششوں کا حصہ ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ہرمز کھلوانا ٹرمپ کے بس کی بات نہیں: امریکی انٹیلی جنس
اجلاس کے دوران حماس اور دیگر فلسطینی دھڑوں نے اس بات پر زور دیا کہ نظریاتی باتوں سے آگے بڑھتے ہوئے عملی اقدامات کیے جائیں اور جنگ بندی معاہدے کے تمام مراحل پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔غزہ کے مستقبل کے حوالے سے حماس اور دیگر گروپس نے’فلسطینی عبوری قومی کمیٹی‘کے قیام اور اس کی فوری فعالیت کا مطالبہ کیاتاکہ ایک مشترکہ نظام کے تحت انتظامی امور اور بنیادی خدمات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔حماس نے عبدالفتاح السیسی کی قیادت میںمصر کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ثالث ممالک کے کردار کی بھی تعریف کی۔تنظیم کے مطابق وفد کو قاہرہ میں مذاکرات کے اگلے مراحل کے لیے دوبارہ مدعو کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: طیاروں کو مار گرانے کے بعد ایران کے حوصلے بلند
واضح رہے کہ خلیل الحیہ کی سربراہی میں حماس کا وفد بدھ کے روز قاہرہ پہنچا تھا تاکہ جنگ بندی معاہدے کے نفاذ کا جائزہ لیا جا سکے۔یاد رہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں جنگ بندی معاہدے کے باوجود غزہ میں تشدد اور جانی نقصان کا سلسلہ تاحال جاری ہے، جبکہ یہ معاہدہ اسرائیل اور حماس کے درمیان طویل جنگ کے خاتمے کی ایک اہم کوشش ہے۔