Inquilab Logo Happiest Places to Work

طیاروں کو مارگرانے کے بعد ایران کے حوصلے بلند

Updated: April 04, 2026, 11:43 PM IST | Washington

۲۳؍ سال بعد کوئی امریکی جنگی طیارہ مار گرایا گیا، پائلٹ کی تلاش جاری ، ایران نے انعام کا اعلان کیا ، نئے ایئر ڈیفنس سسٹم کو کریڈٹ دیا ، واشنگٹن میں ہنگامی سلامتی اجلاس

US Air Force F-15 fighter jet shot down by Iran with new air defense system
امریکی فضائیہ کا ایف ۱۵؍ جنگی طیارہ جسے ایران نے نئے ایئر ڈیفنس سسٹم کی مدد سے مار گرایا

  ایرانی فوج کی جانب سے ۲؍ امریکی طیارے مار گرائے جانے کےبعد ایران کے حوصلے مزیدبلند ہو گئے ہیں جبکہ اس نے  ان جہازوں میں موجود پائلٹوں کی تلاش بھی شروع کردی ہے۔ ایران کے حوصلے اس لئے بھی بلند ہیں کیوں کہ اس نے ایک ماہ کے اندر اندر امریکہ کے ۷؍ جنگی طیارے مار گرائے ہیں۔ اس سے امریکہ کو شدید مالی نقصان بھی ہوا ہے کیوں کہ ان میں امریکہ کا وہ ایف ۳۵؍ طیارہ بھی ہے جس کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اسے دنیا کا کوئی بھی راڈار نہیں پکڑ سکتا ۔ایران نے گزشتہ دنوں اس طیارہ کو بھی مارگرایا تھا۔یہ طیارہ کافی مہنگا بھی ہوتا ہے۔ اسی لئے یہ جنگ اب امریکہ کےلئے وبالِ جان بنتی جارہی ہے۔ ۷؍ طیاروں کا مارگرایا جانا اس لئے بھی اہم ہے کیوں کہ گزشتہ ۲۳؍ سال سے اس کا کوئی بھی طیارہ اس طرح سے تباہ نہیں کیا گیا ہے ۔
 امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ایران کی جانب سے گرائے گئے  امریکی جنگی جہازوں میں  ۲؍  ایف۳۵؍ ، ایک  ایف ۱۵؍ ایگل، ایک اے ۱۰؍ اور ۳؍ ای تھری جاسوس طیارے شامل  ہیں۔ دوسری طرف امریکہ نے ایران میں گرائے گئے اپنے لڑاکا طیارے کے پائلٹ کی تلاش کے لیے مہم تیز کر دی ہے ۔اس کے  لئے وہ اے سی۱۳۰؍ گن شپ کا استعمال کر رہا ہے۔ایران نے آبنائے ہرمز اور اپنی فضائی حدود میں امریکی جنگی طیاروں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ 
 عالمی میڈیا کے مطابق ایران نےاپنی فضائی حدود میں امریکہ کے۲؍ عدد ایف۳۵؍ اور ایک اے۔۱۰؍طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم امریکہ نے تصدیق کی ہے کہ مار گرائے جانے والے طیاروں میں ایف ۱۵؍ ای اسٹرائک ایگل اور اے۱۰؍ طیارہ شامل ہے۔امریکہ کے ایف۱۵؍ طیارے میں پائلٹ اور عملہ کا رُکن سوار تھا جن میں سے ایک کو بازیاب کرالیا گیا جبکہ ایک تلاش جاری ہے۔اس ریسکیو آپریشن کے لیے جانے والے دو امریکی فوجی ہیلی کاپٹرز اور ایک ڈرون کو ایران نے مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ ہیلی کاپٹرز میں موجود تمام اہلکار محفوظ ہیں ۔ ادھر ایرانی فوج نے دعویٰ کیا کہ ایک امریکی اے ۱۰؍ طیارے کو خلیج فارس کے جنوبی حصے میں مار گرایا ہے۔ یہ واقعہ کچھ گھنٹے پہلے ہرمز کے راستے کے قریب پیش آیا۔ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ وہی اے ۱۰؍ ہے جو ایف۱۵؍کی ریسکیو کے دوران نشانہ بنایا گیا تھا یا الگ واقعہ ہے۔ ایران نے اپنی اس کا رروائی کا کریڈٹ اپنے نئے ایئر ڈیفنس سسٹم کو دیا ہےجو نہایت درست طریقے سے ایرانی فضائی حدود میں آنے والے دشمن طیاروں، ڈرون اور دیگر چیزوں کو نشانہ بنارہا ہے۔ ایران نے اس کے ساتھ ہی پائلٹ کی تلاش کیلئے انعام کا اعلان کیا ہے۔ 
  دریں اثناءمریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی قومی سلامتی کی ٹیم نے وہائٹ ہاؤس میں ایک ہنگامی  اجلاس منعقد کیا۔ یہ اجلاس امریکی جنگی طیارے مار گرائے جانے کے بعد کے حالات پر غور کرنے کے لئے بلایا گیا تھا ۔  امریکی نیٹ ورک ’اے بی سی نیوز‘ کے مطابق یہ واقعہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہ راست تصادم کے آغاز کے بعد سے اب تک کی خطرناک ترین پیش رفت ہے۔ وہائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ یہ اجلاس میدانی صورت حال اور واقعے کے اثرات کا جائزہ لینے کے لئے منعقد کیا گیا۔ اس اجلاس میں ٹرمپ بھی موجود تھے اور وہ اس طرح سے ہونے والے ہزیمت پر کافی برہم بھی تھے۔ انہوں نے افسران کو کچھ سخت ہدایات دی ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK