Updated: February 05, 2026, 10:09 PM IST
| Manchester
مانچسٹر سٹی کے کوچ پیپ گارڈیالا نے غزہ میں جاری صورتحال کو نسل کشی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ محض کسی ایک خطے کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں ہونے والی ناانصافیوں پر خاموشی اختیار نہیں کی جا سکتی اور ہر انسان کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ آواز اٹھائے۔
مانچسٹر سٹی کے ہیڈ کوچ پیپ گارڈیالا۔ تصویر: ایکس
مانچسٹر سٹی کے ہیڈ کوچ پیپ گارڈیالا نے غزہ میں جاری جنگی صورتحال کو نسل کشی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مسئلہ کسی ایک قوم یا خطے تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ یہ بیان انہوں نے ایک عوامی گفتگو کے دوران دیا، جس میں انہوں نے دنیا کے مختلف حصوں میں جاری تنازعات اور انسانی جانوں کے ضیاع پر بات کی۔ گارڈیالا نے کہا کہ جدید دور میں معلومات، تصاویر اور ویڈیوز سب کے سامنے ہیں، اس کے باوجود خاموش رہنا اخلاقی طور پر درست نہیں ہو سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطین کے غزہ علاقے میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس پر آنکھیں بند کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح دنیا کے دیگر حصوں میں بھی انسانی جانوں کے ضیاع اور ظلم کے واقعات ہو رہے ہیں، جن میں یوکرین، روس اور سوڈان کا حوالہ بھی دیا گیا۔ گارڈیالا کے مطابق یہ تمام واقعات اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ عالمی سطح پر ناانصافی ایک مستقل مسئلہ بن چکی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اقوام متحدہ کا علاحدہ فلسطینی ریاست پر زور
گارڈیالا نے واضح کیا کہ ان کا مؤقف سیاسی نہیں بلکہ انسانی بنیادوں پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانیت کی تاریخ میں شاید پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ مظالم کے مناظر اس قدر واضح اور فوری طور پر دنیا کے سامنے آ رہے ہوں، اس کے باوجود عالمی ردعمل کمزور دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قسم کا تشدد، خواہ وہ کہیں بھی ہو، قابلِ مذمت ہونا چاہیے اور انسانوں کو ایک دوسرے کے دکھ درد پر خاموش تماشائی نہیں بننا چاہیے۔ ان کے بقول، جب عام شہری، بچے اور خواتین جنگوں کی زد میں آتے ہیں تو یہ پوری دنیا کے ضمیر کا امتحان ہوتا ہے۔ گارڈیالا نے مزید کہا کہ وہ اپنے عوامی مقام اور اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے انسانی اقدار کے حق میں بات کرتے رہیں گے۔ ان کے مطابق اگر ایسے معاملات پر آواز نہ اٹھائی جائے تو معاشرے میں بے حسی بڑھتی ہے اور ناانصافی معمول بن جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ہمارے ہاتھ باندھے گئے، ناروا سلوک کیا گیا اور کھلونے اور سامان بھی چھینا گیا‘‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ کھیل، سیاست اور سماج ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں، کیونکہ آخرکار ان سب کا مرکز انسان ہوتا ہے۔ گارڈیالا کے مطابق، جب انسانیت کو نقصان پہنچتا ہے تو ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی حد تک اس کے خلاف مؤقف اختیار کریں۔ ان کے اس بیان کو کھیلوں کے دائرے سے باہر بھی خاصی توجہ حاصل ہوئی ہے، کیونکہ ایک عالمی شہرت یافتہ فٹ بال کوچ کی جانب سے اس طرح کا دوٹوک مؤقف کم ہی دیکھنے میں آتا ہے۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خاموشی اختیار کرنا ان کے نزدیک سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ گارڈیالا نے کہا کہ وہ کسی حل کا دعویٰ نہیں کر رہے، لیکن اتنا ضرور سمجھتے ہیں کہ انسانی جان کی قدر ہر بحث اور ہر اختلاف سے بالاتر ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق یہی اصول دنیا کو بہتر سمت میں لے جا سکتا ہے۔