غزہ میں قید یرغمالوں کی رہائی کے معاہدے کیلئے ہزاروں اسرائیلیوں کا ملک بھر میں مظاہرہ کیا، مظاہرین نے اسرائیلی حکومت پر فلسطینیوں کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگایا۔
EPAPER
Updated: August 31, 2025, 5:02 PM IST | Telaviv
غزہ میں قید یرغمالوں کی رہائی کے معاہدے کیلئے ہزاروں اسرائیلیوں کا ملک بھر میں مظاہرہ کیا، مظاہرین نے اسرائیلی حکومت پر فلسطینیوں کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگایا۔
ہزاروں اسرائیلیوں نے سنیچر کو ملک بھر کے کئی شہروں میں غزہ کی پٹی میں فلسطینی گروہوں کی قید میں موجودیرغمالوں کی رہائی کو یقینی بنانے کے لیے ایک معاہدے کا مطالبہ کرتے ہوئے مظاہرے کیے۔روزنامہ `یدیعوت آحرونوت کے مطابق، تل ابیب کے ہوسٹیجز اسکوائر میں، وسطی اسرائیل میں، ہزاروں افراد جمع ہوئے جن میں قیدیوں کے خاندان بھی شامل تھے۔ اسی طرح کے مظاہرے دیگر شہروں بشمول شمال میں حیفا میں بھی منعقد کیے گئے۔اخبار کے مطابق، مظاہرین نےوزیر اعظم نیتن یاہو اور اس کی حکومت پر معاہدے میں رکاوٹ ڈالنے اور ان کے پیاروں کو خطرے میں چھوڑنے کا الزام عائد کرتے ہوئے نعرے لگائے۔
ایک اسرائیلی قیدی، ماتان زنگاؤکر، کی والدہ نے نیتن یاہو پر تبادلے کا معاہدہ طے کرنے کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگایا۔تل ابیب میں فوج کے ہیڈکوارٹر کے باہر ایک پریس کانفرنس میں عینا نے کہا، ’’اگر ماتان تابوت میں واپس آیا، تو صرف ماتان اور میں ہی قیمت ادا نہیں کریں گے۔ میں ذاتی طور پر اس بات کو یقینی بناؤں گی کہ نیتن یاہو پر سوچے سمجھے قتل کے الزامات لگائے جائیں۔‘‘
دریں اثناءاسرائیل نے اکتوبر۲۰۲۳ء سے غزہ میں تقریباً۶۳؍ ہزار ۴۰۰؍ فلسطینیوں کو ہلاک کیا ہے۔ اس فوجی کارروائی نے اس محصور پٹی کو تباہ کر دیا ہے، جہاں قحط کا سامنا ہے۔گزشتہ نومبر میں، بین الاقوامی فوجداری عدالت نے غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور اس کے سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیے تھے۔اسرائیل کو اس محصور پٹی پر اپنی جنگ کی وجہ سے بین الاقوامی عدالت انصاف میں نسل کشی کے مقدمے کا بھی سامنا ہے۔