امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے قانون سازوں کو بتایا ہے کہ غزہ کے۷۰؍ فیصد علاقے پر اسرائیلی قبضے کا منصوبہ ٹرمپ انتظامیہ کے جنگ ختم کرنے کے منصوبے کا حصہ نہیں ہے۔
EPAPER
Updated: June 03, 2026, 9:57 PM IST | Washington
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے قانون سازوں کو بتایا ہے کہ غزہ کے۷۰؍ فیصد علاقے پر اسرائیلی قبضے کا منصوبہ ٹرمپ انتظامیہ کے جنگ ختم کرنے کے منصوبے کا حصہ نہیں ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے قانون سازوں کو بتایا ہے کہ غزہ کے۷۰؍ فیصد علاقے پر اسرائیلی قبضے کا منصوبہ ٹرمپ انتظامیہ کے جنگ ختم کرنے کے منصوبے کا حصہ نہیں ہے۔روبیو نے قانون سازوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ غزہ کے لیے بین الاقوامی استحکام فورس کا خواہاں ہے، جو اس بات پر منحصر ہے کہ حماس مستقبل میں تنازع روکنے کے لیے اپنے آپ کو غیر مسلح کر لے۔ اس کے ساتھ ہی روبیو نے قانون سازوں کے غزہ میں انسانی بحران پر سخت سوالات کا سامنا کیا۔ڈیموکریٹک رکن کانگریس روزا ڈی لورو نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی ہدایت کا حوالہ دیا جس میں اسرائیلی فوج کو غزہ کے۷۰؍ فیصد علاقے پر ’’قبضہ‘‘ کرنے کہا گیا تھا ، اس کے جواب میں روبیو نے کہا، ’’ہمارا منصوبہ مختلف ہے۔ اس میں یہ بات نہیں ہے۔‘‘ بعد ازاں مزید دباؤ پر روبیو نے دہرایا،’’ نیتن یاہو نے یہ بیان دیا، لیکن یہ ہمارے منصوبے کا حصہ نہیں ہے۔‘‘
دریں اثناء روبیو نے اس الزام کو مسترد کیا کہ امریکی انتظامیہ نے غزہ بحران کو بھلا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ غزہ کے لیے بین الاقوامی استحکام فورس تلاش کر رہی ہے، بشرطیکہ حماس غیر مسلح ہو جائے۔ انہوں نے کہا، ’’جب تک حماس غیر مسلح نہیں ہو جاتی، کوئی بھی غزہ میں پیسہ نہیں لگائے گا۔‘‘
واضح رہے کہ اکتوبر۲۰۲۵ء کو جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج نے تقریباً روزانہ حملوں میں ۹۳۲؍فلسطینیوں کو ہلاک کیا ہے۔ اس کے علاوہ نیتن یاہو نے حال ہی میں کہا ہے کہ اسرائیل غزہ میں اپنا قبضہ بڑھا کر۷۰؍ فیصد تک کرے گا، جبکہ اس وقت فوج تقریباً۶۰؍ فیصد علاقے پر قابض ہے۔ حالانکہ ٹرمپ منصوبے کے پہلے مرحلے میں اسرائیلی فوج ’’یلو لائن‘‘ تک واپس آ گئی تھی، جس کے تحت غزہ کے ۵۳؍ فیصد علاقے پراسرائیلی قبضہ تھا۔
بعد ازاں ڈی لورو نے روبیو سے مغربی کنارے کی حقیقی انضمام کے بارے میں بھی سوال کیا۔روبیو نے کہا کہ ٹرمپ نے ہمیشہ اس علاقے کے یک طرفہ حیثیت میں تبدیلی کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’صدر نے واضح طور پر بار بار کہا ہے کہ وہ ان تبدیلیوں کے حق میں نہیں ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایسی حرکتیں غزہ کے معاہدے کو پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔‘‘ جبکہ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے بعد سے مغربی کنارے میں اسرائیلی جارحیت میں اضافہ ہوا ہے، جہاں حکام کے مطابق۱۱۶۸؍ اموات اور تقریباً۲۳۰۰۰ گرفتاریاں ہو چکی ہیں۔