Updated: August 03, 2026, 10:08 PM IST
| Gaza
بورڈ آف پیس (Board of Peace) کے غزہ کے لیے خصوصی ایلچی نکولائے ملادینوف نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ میں فوجی حملے فوری طور پر روکیں۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق ملادینوف نے کہا کہ حالیہ حملے جنگ بندی کے روڈ میپ پر عمل درآمد کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور انسانی صورتحال کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔ انہوں نے دونوں فریقوں سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے اور جنگ بندی کے معاہدے پر عمل کرنے کی اپیل بھی کی۔
نکولائے ملادینوف۔ تصویر: آئی این این
بورڈ آف پیس کے غزہ کے لیے خصوصی ایلچی نکولائے ملادینوف نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں جاری فوجی کارروائیاں فوری طور پر روکیں۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق انہوں نے خبردار کیا کہ حالیہ حملے نہ صرف جنگ بندی کے روڈ میپ کو نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ غزہ میں پہلے سے سنگین انسانی بحران کو بھی مزید خراب کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ملادینوف نے کہا کہ ’’اسرائیل کو غزہ میں اپنے حملے روکنے چاہییں اور جنگ بندی کے معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔‘‘
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جنگ بندی کا کامیاب نفاذ صرف اسی صورت ممکن ہے جب تمام فریق اپنی اپنی ذمہ داریوں پر بیک وقت عمل کریں۔ ملادینوف نے کہا کہ ’’دونوں فریقوں پر معاہدے کے تحت واضح ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، اور ان پر مکمل عمل درآمد ہی پائیدار امن کی بنیاد بن سکتا ہے۔‘‘ رپورٹ کے مطابق ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں حالیہ اسرائیلی حملوں میں مزید فلسطینی ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جبکہ جنگ بندی پر عمل درآمد کے حوالے سے سفارتی کوششوں کو بھی نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مکہ مکرمہ: بین الاقوامی زائرین کے استقبال میں دنیا بھر میں پانچواں مقام
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ملادینوف نے وزیر اعظم نیتن یاہو سے کہا کہ موجودہ فوجی کارروائیاں جنگ بندی کے فریم ورک کو کمزور کر رہی ہیں اور اعتماد سازی کے عمل کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ غزہ میں انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور عام شہریوں کا تحفظ فوری ترجیح ہونا چاہیے۔ ادھر اسرائیلی حکومت کی جانب سے اس رپورٹ پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم حالیہ دنوں میں اسرائیلی حکام مسلسل یہ مؤقف دہراتے رہے ہیں کہ غزہ میں کسی بھی مستقل جنگ بندی سے قبل حماس کی عسکری صلاحیت کا خاتمہ اور اس کا مکمل طور پر غیر مسلح ہونا ضروری ہے۔ ملادینوف کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں انسانی صورتحال مسلسل تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ امدادی اداروں کے مطابق لاکھوں فلسطینی خوراک، ادویات اور بنیادی ضروریات کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ بین الاقوامی برادری جنگ بندی کے مؤثر نفاذ کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔