Updated: July 28, 2026, 6:13 PM IST
| Madrid
اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے غزہ میں فلسطینی بچی لیان اور مقامی فنکاروں کی جانب سے ان کی دیوار گیر تصویر (میورل) بنانے پر جذباتی انداز میں شکریہ ادا کیا ہے۔ یہ میورل فلسطین کے ساتھ اسپین کی یکجہتی کے اظہار کے طور پر اسرائیل کی جاری جنگ کے دوران تیار کیا گیا۔ اپنے ویڈیو پیغام میں سانچیز نے کہا کہ وہ اس محبت بھرے اقدام سے بے حد متاثر ہوئے ہیں۔
اسرائیل کی جاری جنگ سے تباہ حال غزہ میں امید، یکجہتی اور انسانی ہمدردی کی ایک اور علامت سامنے آئی ہے۔ فلسطینی بچی لیان اور غزہ کے مقامی فنکاروں نے اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز کی ایک بڑی دیوار گیر تصویر (میورل) بنا کر فلسطین کے ساتھ اسپین کی مسلسل حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا، جس کے جواب میں سانچیز نے نہایت جذباتی ویڈیو پیغام جاری کیا۔ ویڈیو پیغام میں ہسپانوی وزیر اعظم نے کہا کہ غزہ سے ملنے والا یہ تحفہ اور محبت کا اظہار انہیں گہرائی سے متاثر کر گیا۔ انہوں نے خاص طور پر فلسطینی بچی لیان اور ان تمام مقامی فنکاروں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے انتہائی مشکل حالات کے باوجود یہ میورل تیار کیا۔ سانچیز نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’’میں لیان اور غزہ کے تمام مقامی فنکاروں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آپ کی محبت اور اعتماد میرے لیے بہت معنی رکھتا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ غزہ میں رہنے والے بچوں اور ان کے خاندانوں کے بارے میں وہ مسلسل سوچتے رہتے ہیں اور اسپین کے عوام ان کی تکلیف سے بے خبر نہیں ہیں۔ اپنے خطاب میں سانچیز نے غزہ کے عوام کے لیے انتہائی جذباتی الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ’’اسپین کے لوگ آپ کی آواز سنتے ہیں، آپ کو دیکھتے ہیں، آپ کی پروا کرتے ہیں اور آپ کو کبھی نہیں بھولیں گے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کے تمام بچوں کو امن، تحفظ، تعلیم اور بہتر مستقبل کا حق حاصل ہے، اور یہی حق غزہ کے بچوں کا بھی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جلد ایسا وقت آئے گا جب غزہ کے بچے خوف، بمباری اور تباہی کے بجائے امن کے ماحول میں اپنی زندگی گزار سکیں گے، اسکول جا سکیں گے اور اپنے خواب پورے کر سکیں گے۔
غزہ میں تیار کیا گیا یہ میورل اسپین کی جانب سے فلسطینی عوام کے ساتھ مسلسل اظہارِ یکجہتی کے اعتراف کے طور پر بنایا گیا۔ حالیہ مہینوں میں اسپین نے غزہ کی صورتحال پر یورپ کے سخت ترین مؤقف اختیار کرنے والے ممالک میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ پیڈرو سانچیز متعدد مواقع پر فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ رسائی اور بین الاقوامی انسانی قانون کے احترام کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ اسپین ان یورپی ممالک میں بھی شامل ہے جنہوں نے فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا، جبکہ سانچیز نے کئی بین الاقوامی فورمز پر غزہ میں شہری ہلاکتوں، خصوصاً بچوں کی اموات پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے عالمی برادری سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے تحفظ کی گیارنٹی دی ہے، نیویارک آؤں گا: نیتن یاہو
سانچیز کا یہ ویڈیو پیغام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب انہوں نے چند روز قبل یہ بھی انکشاف کیا تھا کہ وہ اپنے دفتر میں غزہ کے ایک بچے کی بنائی ہوئی تصویر رکھتے ہیں تاکہ وہ کبھی وہاں کے بچوں کی تکلیف اور جنگ کے انسانی المیے کو نہ بھولیں۔ اب غزہ میں ان کے اعزاز میں بنائے گئے میورل اور اس پر ان کے جواب نے فلسطینی عوام اور اسپین کے درمیان اظہارِ یکجہتی کی اس علامت کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔سوشل میڈیا پر بھی سانچیز کا ویڈیو پیغام تیزی سے وائرل ہو گیا، جہاں ہزاروں صارفین نے اسے انسانی ہمدردی، عالمی یکجہتی اور غزہ کے بچوں کے لیے امید کا پیغام قرار دیا۔ متعدد صارفین نے لکھا کہ جنگ کے دوران ایسے بیانات متاثرہ خاندانوں کے لیے اخلاقی حوصلے کا باعث بنتے ہیں، اگرچہ زمینی حالات اب بھی انتہائی سنگین ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، غزہ میں بننے والا یہ میورل صرف ایک فن پارہ نہیں بلکہ فلسطینی عوام کی جانب سے اس عالمی حمایت کا اعتراف ہے جو اسپین نے گزشتہ برسوں میں مختلف سفارتی اور سیاسی اقدامات کے ذریعے ظاہر کی ہے۔ دوسری جانب سانچیز کے ویڈیو پیغام نے بھی یہ واضح کیا ہے کہ اسپین کی حکومت غزہ کے انسانی بحران کو اپنی خارجہ پالیسی کا اہم انسانی مسئلہ تصور کرتی ہے۔