Updated: September 28, 2026, 5:04 PM IST
| Tehran
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی مذاکرات بحال کرانے کیلئے ثالثی کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں، تاہم جوہری پروگرام پر رعایتوں کے معاملے میں دونوں جانب اختلاف برقرار ہے۔ ایران نے مذاکرات کیلئے آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کسی نئی فوجی کارروائی کا بھرپور جواب دینے کا عندیہ دیا ہے، جبکہ واشنگٹن کی جانب سے سابقہ مفاہمت پر واپسی سے انکار مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
ثالث فریق ایران پر اس کے جوہری پروگرام کے حوالے سے رعایتیں دینے کیلئے دباؤ ڈال رہے ہیں تاکہ امریکہ کے ساتھ جنگ بندی مذاکرات دوبارہ شروع کئے جا سکیں۔ وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے کہ یہ کوشش ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پیش کی گئی سات روزہ جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے۔ اس تجویز کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کی بات کی گئی تھی۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ثالثوں نے تہران سے اس کے جوہری پروگرام پر کسی پیش رفت کے حصول کی اس کوشش کو مشکل مگر محدود امکانات والی کوشش قرار دیا ہے، جبکہ ایران نے اب تک اس معاملے پر بات چیت کے لیے آمادگی کے بہت کم اشارے دیئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’جنگ سے سب سے زیادہ متاثر ممالک کی بات سب سے کم سنی جاتی ہے‘‘
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کے روز کہا کہ تہران مذاکرات کیلئے بدستور تیار ہے، تاہم کسی نئی فوجی کارروائی کا جواب دیا جائے گا۔ عراقچی نے وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے بارے میں سوال پر این بی سی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ہم جنگ دوبارہ شروع ہونے کیلئے پوری طرح تیار ہیں۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’ہم کسی بھی نئی جارحیت کے سامنے ڈٹے رہیں گے، خواہ یہ قیامت خیز جنگ تک ہی کیوں نہ پہنچ جائے۔ لیکن اس کے ساتھ ہم سفارت کاری کے لیے بھی تیار ہیں۔ اب انتخاب صدر ٹرمپ کو کرنا ہے۔ ‘‘عرب ثالثوں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کی تجویز مسترد کئے جانے کے بعد ایران نے کوئی رعایت نہیں دی، جبکہ خلیجی حکام کے مطابق تہران مذاکرات کو آگے بڑھانے سے قبل واشنگٹن کی جانب سے رعایتیں چاہتا ہے۔ قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم آل ثانی، جن کا ملک واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات کی ترسیل کر رہا ہے، نے کہا کہ تنازع کو حل کرنا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: یواین کاغیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی سرگرمی میں ملوث فہرست میں۶۱ ؍کمپنی کااضافہ
انہوں نے نیویارک میں قطر اکنامک فورم کے خصوصی اقوام متحدہ جنرل اسمبلی ایڈیشن کے موقع پر کہا، ’’یہ تنازع انتہائی پیچیدہ ہے۔ ‘‘ایران چاہتا ہے کہ واشنگٹن جون میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت پر واپس آئے۔ اس معاہدے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور بالآخر جوہری مذاکرات شروع کرنے کی بات شامل تھی، جس کے بدلے میں پابندیوں میں نرمی، بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں میں سے اربوں ڈالر جاری کرنے اور امریکی ناکہ بندی ختم کرنے جیسے اقدامات کئے جانے تھے۔ تاہم، امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اب اس معاہدے پر واپس نہیں آنا چاہتے، جبکہ واشنگٹن نے پابندیاں مزید سخت کر دی ہیں اور ناکہ بندی برقرار رکھی ہے۔ مذاکرات میں شامل مشرق وسطیٰ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے سمجھوتا کر سکتا ہے، لیکن اس کیلئے واضح یقین دہانی درکار ہوگی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کسی معاہدے کے بعد اسرائیل دوبارہ حملہ نہیں کرے گا۔