ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر نے خبردار کیا ہے کہ کڑاکے کی ٹھنڈمیں فلسطینی شہری عارضی اور نہایت کمزور پلاسٹک کی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔جو لوگ ان پلاسٹک کی پناہ گاہوں میں مقیم نہیں ہیں، وہ پرانے خیموں میں رہ رہے ہیں، جو تیز ہواؤں اور موسلا دھار بارشوں کے باعث بری طرح متاثر ہو چکے ہیں۔
خان یونس میں شہید صحافی عبدالرؤف شعت کے جلوس جنازہ کی تصویر۔ تصویر: آئی این این
غزہ میںشدید سردی اوراسرائیل کے مسلسل حملوں کے سبب حالات ابترہوچکے ہیں۔ اس حوالے سے ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر کے منصوبوں کے کوآرڈی نیٹر ہانٹر میک گورن نے شدید الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ غزہ میں انسانی حالات تیزی سے تباہ کن رخ اختیار کر رہے ہیں، جہاں ایک طرف سخت موسمی حالات ہیں تو دوسری جانب قابض اسرائیل کے مسلسل حملے جاری ہیں۔
بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ہانٹر میک گورن نے کہا کہ غزہ اس وقت نہایت شدید سردی اور سخت موسم کی زد میں ہے، جہاں بڑی تعداد میں فلسطینی شہری عارضی اور نہایت کمزور پلاسٹک کی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے وضاحت کی کہ جو لوگ ان پلاسٹک کی پناہ گاہوں میں مقیم نہیں ہیں، وہ پرانے خیموں میں رہ رہے ہیں، جو تیز ہواؤں اور موسلا دھار بارشوں کے باعث بری طرح متاثر ہو چکے ہیں۔ انادولو کی رپورٹ کے مطابق ہانٹر میک گورن نے بتایا کہ فلسطینی خاندان ایک طویل عرصے سے ان خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں اور موسم سرما اور سیلابی صورتحال کے باعث انہیں متعدد بار اپنے خیمے منتقل کرنا پڑے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ خیمے اپنی بہترین حالت میں بھی نہایت نازک ہوتے ہیں اور اب ان پر بوسیدگی اور ٹوٹ پھوٹ کے واضح آثار نمایاں ہو چکے ہیں۔ انہوں نے دل دہلا دینے والا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں بچے شدید سردی کے باعث جان کی بازی ہار رہے ہیں اور بالغ افراد بھی اسی خطرے سے دوچار ہیں۔انہوں نے بتایا کہ کئی فلسطینی خاندان محدود تعداد میں کمبلوں کے سہارے زندگی گزار رہے ہیں اور اگر یہ کمبل بھیگ جائیں تو اس کے نتائج نہایت ہولناک ثابت ہوتے ہیں۔
ہانٹر میک گورن نے انکشاف کیا کہ غزہ شہر میں اطباء بلا حدود کے منصوبے کے تحت تقریباً ۲۹۰۰؍ مریض زیر علاج ہیں اور اس تنظیم کو بھی ان اداروں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے جن پر پابندی عائد کی جا رہی ہے۔ہانٹر میک گورن نے واضح کیا کہ یہ مریض بڑی حد تک اطباء بلا حدود کی فراہم کردہ طبی خدمات پر انحصار کرتے ہیں اور دیگر امدادی تنظیموں کی مدد اس خلا کو پُر کرنے کے لیے ہرگز کافی نہیں ہے۔۴؍جنوری ۲۰۲۶ء کواسرائیل نے غزہ میںانسانی امداد فراہم کرنے والی ۳۷؍ بین الاقوامی تنظیموں کے کام کے اجازت نامے منسوخ کرنا شروع کر دیے تھے، جس کا جواز یہ پیش کیا گیا کہ ان تنظیموں نے اپنے عملہ کے ناموں کی فہرستیں فراہم کرنے سے انکار کیا اور نئےسیکورٹی اندراجی طریقۂ کار سے تعاون نہیں کیا۔
اسرائیل کی جانب سے غزہ میں خوراک، ادویات، طبی سامان، امدادی مواد اور رہائشی ضروریات کی مناسب مقدار کی فراہمی بدستور روکی جا رہی ہے، حالانکہ غزہ میں تقریباً ۲۴؍ لاکھ فلسطینی آباد ہیں، جن میں سے تقریباً۱۵؍لاکھ بے گھر ہو چکے ہیں۔ یہ محصور علاقہ گزشتہ ۱۸؍ برس سے سخت ناکہ بندی کا شکار ہے۔