• Fri, 09 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ : ہزاروں بے گھر افراد کو فوری امداد کی ضرورت

Updated: January 08, 2026, 4:49 PM IST | Agency | New York/Gaza

بے موسم بارش اورطوفان میں پناہ گزینوں کےخیمے اڑ گئے یا انہیں نقصان پہنچا ہے، گھروں کی چھتیں اور دیواریں منہدم ہو گئی ہیں۔

Tents are submerged in water after heavy rain in Gaza. Picture: INN
غزہ میںموسلادھار بار ش کے بعد خیمے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ تصویر: آئی این این
اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ دفتر (اوچا) نے بتایا ہے کہ گزشتہ ماہ غزہ میں ہونے والے شدید بارش اور طوفان سے ۶۵؍ ہزار خاندان متاثر ہوئے ہیں جن کی بحالی کے لئے پناہ کے سامان کی ترسیل پر عائد پابندیاں ختم کر نے کی ضرورت ہے۔
  یادرہے کہ غزہ میں دسمبر کے مہینے میں کئی مرتبہ بے موسم بارش ہوئی اور طوفان آیا جس سے جنگ زدہ غزہ میں سیلابی صورتحال پید اہوگئی ۔  
اوچا کی رپورٹ کے مطابق طوفان میں پناہ گزینوں کےخیمے اڑ گئے یا انہیں نقصان پہنچا ہے۔ اس دوران گھروں کی چھتیں اور دیواریں منہدم ہو گئی ہیں اور ضرورت کا سامان پانی میں بھیگ گیا ہے۔ متعدد مقامات پر ناقص نکاسی آب اور نشیبی زمین کے باعث پورے کے پورے پناہ گزین کیمپ زیر آب آ گئے ہیں۔طوفان سے عارضی تعلیمی مراکز اور وہ سڑکیں بھی متاثر ہوئیں جو غزہ میں نہایت ضروری امدادی سامان کی ترسیل کے لئے استعمال ہوتی ہیں۔ اوچا نے بتایا ہے کہ مشکل حالات کے باوجود متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں بدستور جاری ہیں۔
دسمبر میں امدادی کارکنوں نے تقریباً ۸۰؍ ہزار خاندانوں کو مددفراہم کی جنہیں۴۰؍ ہزار سے زیادہ خیمے، ایک لاکھ۳۵؍ ہزار سے زیادہ ترپالیں اور ہزاروں دیگر اشیاء فراہم کی گئیں جن میں گدے اور کمبل بھی شامل ہیں۔
اقوام متحدہ کے امدادی شراکت داروں نے کہا ہے کہ غزہ میں خیمے بنیادی اور واحد پناہ گاہ کے طور پر استعمال نہیں کئے جا سکتے کیونکہ یہ صرف عارضی تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ اس مسئلے کے پائیدار حل کی جانب منتقلی کو فوری طور پر تیز کرنا ضروری ہے جس میں جزوی طور پر تباہ شدہ گھروں کی مرمت بھی شامل ہے۔
اس سلسلے میںشراکت داروں کا کہنا ہے کہ زمین کی عدم دستیابی لوگوں کی منتقلی میں رکاوٹ بن رہی ہے اور پناہ کے مسئلے کے قابل عمل حل کو وسیع پیمانے پر نافذ کرنے میں تاخیر ہو رہی ہے۔  حالیہ بارش اور سیلاب نے اکتوبر میں نافذ ہونے والی جنگ بندی کے دوران اب تک ہونے والی بہتری کو بھی زائل کر دیا ہے اور تباہ حال علاقے میں اندازاً۱۰؍ لاکھ افراد کو پناہ سے متعلق ہنگامی امداد کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب، مواصلاتی رابطوں کی بحالی پر کام کرنے والے شراکت داروں نے اطلاع دی کہ گزشتہ ہفتے انہوں نے نیا سامان پہنچانے کا عمل مکمل کر لیا ہے جس سے ریڈیو کوریج میں بہتری آئے گی۔ یہ سامان اگست۲۰۲۴ء سے یروشلم میں اسرائیلی اجازت کے انتظار میں رکھا تھا۔  
اوچا نے کہا ہے کہ اگرچہ یہ پیش رفت امدادی کارروائیوں کے تحفظ کو مضبوط بنانے کے لئے نہایت اہم ہے لیکن دیگر آلات کو اب بھی غزہ میں لانے سے روکا جا رہا ہے جن میں بجلی کی ترسیل سے متعلق ضروری سامان بھی شامل ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK