Inquilab Logo

غزہ جنگ: اسرائیلی ٹیم کو معطل کرنے کی تجویز پر فیفا قانونی مشاورت حاصل کرے گا

Updated: May 17, 2024, 3:17 PM IST | Inquilab News Network | Zurich

غزہ جنگ کے پیش نظر فلسطین فٹ بال اسوسی ایشن نے فیفا سے اسرائیلی ٹیم کو فٹ بال سے معطل کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ تاہم، فیفا صدر جیانی انفینٹینو نے کہا ہے کہ اس معاملے میں ادارہ قانونی مشورہ حاصل کرے گا جس کی روشنی میں فیفا کونسل ۲۵؍ جولائی کو فیصلہ سنائے گی۔

FIFA president during today`s meeting. Photo: INN
فیفا صدر آج کی میٹنگ کے دوران۔ تصویر: آئی این این

فیفا (FIFA)فلسطین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے اسرائیل کو بین الاقوامی فٹ بال سے معطل کرنے کی فلسطینی تجویز پر فیصلہ کرنے کیلئے ۲۵؍ جولائی تک کونسل کے اجلاس کے انعقاد سے قبل آزاد قانونی مشورہ حاصل کرے گا۔ اس ضمن میں فیفا کے صدر جیانی انفینٹینونے جمعہ کو فیفا کانگریس میں اس منصوبے کا خاکہ پیش کیا جب فلسطینی اور اسرائیل کی فٹ بال فیڈریشنز کے نمائندوں کو بطور انجمن ۲۱۱؍ ممبران کے سامنے اپنی بات رکھنے کا موقع دیا گیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ممبئی بل بورڈ حادثہ: ہورڈنگ کا مالک بھاویش بھنڈے ادئے پور سے گرفتار

انفینٹینو نے کہا کہ فیفا تین درخواستوں (فلسطینی ایف اے کی طرف سے) کا تجزیہ کرنے اور فیفا کے قوانین کو درست طریقے سے لاگو کرنے کو یقینی بنانے کیلئے آزادانہ طور پر قانونی مشورہ لے گا۔ اس کے بعد نتائج اور سفارشات کو فیفا کونسل کو بھیج دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’’صورتحال کی عجلت کی وجہ سے، ایک ہنگامی فیفا کونسل بلائی جائے گی جو ۲۵؍ جولائی سے پہلے قانونی تشخیص کے نتائج کا جائزہ لینے اور مناسب فیصلے کرے گی۔ ‘‘


فلسطین فٹ بال اسوسی ایشن کی تجویز میں فلسطین میں اسرائیلی قبضے کے ذریعے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں، خاص طور پر غزہ میں، کا ذکر کیا گیا ہے اور انسانی حقوق اور امتیازی سلوک کے خلاف فیفا کے قانونی وعدوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔ فلسطینی فٹ بال اسوسی ایشن نے لکھا ہے کہ غزہ میں فٹ بال کا تمام ڈھانچہ یا تو تباہ ہو چکا ہے، یا اسے شدید نقصان پہنچا ہے، جس میں الیرموک کا تاریخی سٹیڈیم بھی شامل ہے۔ اور یہ بھی کہا کہ اسے الجزائر، عراق، اردن، یمن اور شام فیڈریشنز کی جانب سے اس تحریک کی حمایت حاصل ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK