کسی بھی پارٹی یا اس کے امیدوار نے عوام کو یہ نہیں بتایا کہ الیکشن جیتنے کے بعد ان کی فلاح اور شہر کی ترقی کیلئے کون کون سے کام کئے جائیں گے۔
مالیگائوں میں کچھ نئے سیاسی اتحاد قائم ہوئے ہیں۔ تصویر: آئی این این
مالیگائوں شہری انتظامیہ کی آئندہ پنج سالہ میعاد کیلئے ۱۵؍جنوری کو ووٹنگ ہوگی۔ووٹنگ کے عمل کو محض ۵؍ دنوں کا وقفہ باقی رہ گیا ہے لیکن صنعتی شہر میں سیاسی جماعتوں نے اَب تک اپنے انتخابی منشور کو رائے دہندگان کے سامنے پیش نہیں کیا ہے۔
روایت تو یہی رہی ہے کہ انتخابی مرحلے کے سب سے اہم عمل یعنی ووٹنگ سے ۱۵؍ یا ۲۰؍ دن پہلے منشور جا ری کردیا جاتا ہے لیکن یہاں انتخابی مہم شباب پر آگئی ہے۔ سیاسی جماعتیں اور ان کے قائدین ،نامزد امیدوار اور کارکنان ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار ہیں۔چھوٹے بڑے تشہیری جلسے،ریلیاں،کارنر میٹنگیں اور ڈورٹُو ڈور ملاقاتیں ہورہی ہیںمگر کسی بھی پارٹی نے اب تک انتخابی منشور جاری نہیں کیا ہے۔ تقریروں اور بیانات میں یہ قطعی نہیں بتایا جارہا ہے کہ مالیگاؤں کی بہتری و ترقی کیلئے مستقبل کے منصوبے کیا ہوں گے؟ ناخوشگوار ماضی اور بے یقین حال کے حالات پر تبصرے ہوئے جارہے ہیں۔
الیکشن کا شہری بلدیہ کا ہے اور مثالیں ، حوالے و واقعات ایران توران والے ہی سنائے جارہے ہیں۔زمیں کے مسائل پر لب کشائی تک نہیں۔عام رائے دہندہ کو حیرت اِس بات پر بھی ہے کہ بلدیاتی سیاست میں گزرے ۴۰؍ یا ۵۰؍برس سے قابض رہنے کے ساتھ شہری ترقیات کے منصوبے بتائے گئے نہ اس جانب اشارے کئے جارہے ہیں۔
انقلاب کی تحقیق کے مطابق سیاسی جماعتوں کے پاس انتخابی منشور لکھنے والے مشاق قلم کاروں کی قلّت ہوگئی ہے۔ شہر میں الیکشن کا رُخ بالکل صاف ہے۔رکن اسمبلی مفتی محمد اسماعیل (کل ہند مجلس اتحاد المسلمین) بمقابلہ سابق رکن اسمبلی شیخ آصف(مالیگاؤں سیکولر فرنٹ) کے امیدواروں کے درمیان راست ٹکراؤ کا منظرنامہ دیکھا جا رہا ہے۔اہم بات یہی ہے کہ پارٹی، پرچم، ورکر، امیدوار، ووٹر،زر،بَل اور دیگر لوازماتِ الیکشن ہیں نہیں ہے تو انتخابی منشور۔دیکھنا یہ ہے کہ بغیر منشور کے عوام کس کے حق میں فیصلہ سناتے ہیں۔