• Sun, 11 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مالیگائوں میں انتخابی مہم شباب پر، مگر سیاسی پارٹیوں کے انتخابی منشور ندارد

Updated: January 10, 2026, 12:01 PM IST | Mukhtar Adeel | Malegaon

کسی بھی پارٹی یا اس کے امیدوار نے عوام کو یہ نہیں بتایا کہ الیکشن جیتنے کے بعد ان کی فلاح اور شہر کی ترقی کیلئے کون کون سے کام کئے جائیں گے۔

Some new political alliances have been formed in Malegaon. Picture: INN
مالیگائوں میں کچھ نئے سیاسی اتحاد قائم ہوئے ہیں۔ تصویر: آئی این این
مالیگائوں شہری انتظامیہ کی آئندہ پنج سالہ میعاد کیلئے ۱۵؍جنوری کو ووٹنگ ہوگی۔ووٹنگ کے عمل کو محض ۵؍ دنوں کا وقفہ باقی رہ گیا ہے لیکن صنعتی شہر میں سیاسی جماعتوں نے اَب تک اپنے انتخابی منشور کو رائے دہندگان کے سامنے پیش نہیں کیا ہے۔
روایت تو یہی رہی ہے کہ انتخابی مرحلے کے سب سے اہم عمل یعنی ووٹنگ سے ۱۵؍ یا ۲۰؍ دن پہلے منشور جا ری کردیا جاتا ہے لیکن یہاں انتخابی مہم  شباب پر آگئی ہے۔ سیاسی جماعتیں اور ان کے قائدین ،نامزد امیدوار اور کارکنان ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار ہیں۔چھوٹے بڑے تشہیری جلسے،ریلیاں،کارنر میٹنگیں اور ڈورٹُو ڈور ملاقاتیں ہورہی ہیںمگر کسی بھی پارٹی نے اب تک انتخابی منشور جاری نہیں کیا ہے۔ تقریروں اور بیانات میں یہ قطعی نہیں بتایا جارہا ہے کہ مالیگاؤں کی بہتری و ترقی کیلئے مستقبل کے منصوبے کیا ہوں گے؟ ناخوشگوار ماضی اور بے یقین حال کے حالات پر تبصرے ہوئے جارہے ہیں۔
الیکشن کا شہری بلدیہ کا ہے اور مثالیں ، حوالے و واقعات ایران توران والے ہی سنائے جارہے ہیں۔زمیں کے مسائل پر لب کشائی تک نہیں۔عام رائے دہندہ کو حیرت اِس بات پر بھی ہے کہ بلدیاتی سیاست میں گزرے ۴۰؍  یا ۵۰؍برس سے قابض رہنے کے ساتھ شہری ترقیات کے منصوبے بتائے گئے نہ اس جانب اشارے کئے جارہے ہیں۔
انقلاب کی تحقیق کے مطابق سیاسی جماعتوں کے پاس انتخابی منشور لکھنے والے مشاق قلم کاروں کی قلّت ہوگئی ہے۔ شہر میں الیکشن کا رُخ بالکل صاف ہے۔رکن اسمبلی مفتی محمد اسماعیل  (کل ہند مجلس اتحاد المسلمین) بمقابلہ سابق رکن اسمبلی شیخ آصف(مالیگاؤں سیکولر فرنٹ) کے امیدواروں کے درمیان راست ٹکراؤ کا منظرنامہ دیکھا جا رہا ہے۔اہم بات یہی ہے کہ پارٹی، پرچم، ورکر، امیدوار، ووٹر،زر،بَل اور دیگر لوازماتِ الیکشن ہیں نہیں ہے تو انتخابی منشور۔دیکھنا یہ ہے کہ بغیر منشور کے عوام کس کے حق میں فیصلہ سناتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK