• Sun, 11 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

حکومت نے پرائیویٹ کلاسیس پر شرائط عائد کیں

Updated: January 10, 2026, 11:51 AM IST | Saadat Khan | Mumbai

محکمہ اسکولی تعلیم کے جاری کردہ مکتوب کے مطابق، کلاسیس کیلئے ماہر نفسیات کی تقرری، ضروری ہیلپ لائن نمبر آویزاں کرنا لازمی ہوگا، ہفتے میں ایک چھٹی دینا ضروری ہوگا۔

Classwork has put extra pressure on students. Picture: INN
کلاسیس کی پڑھائی نے طلبہ پر زائد دبائو ڈالا ہے۔ تصویر: آئی این این
طلبہ پر بڑھتے ذہنی دبائو کےپیش نظر، ریاستی حکومت نے اسکولوں اور نجی ٹیوشن کلاسیس کیلئے رہنما خطوط جاری کئےہیں ۔محکمہ تعلیم نےجہاں ۱۰۰؍یا اس سے زیادہ طلبہ والے تعلیمی اداروں کیلئے قابل کونسلر یا ماہر نفسیات کی تقرری کو لازمی قراردیاہے وہیں کلاس روم، کامن ائیریااور ہوسٹل میںٹیلی مانس اور نیشنل سوسائڈ پریونشن ہیلپ لائن نمبر نمایاں طورپر آویزاں کرنےکی ہدایت دی ہے۔ نجی کوچنگ کلا سیس کیلئے الگ اور سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں، ٹیوشن کے نظام الاوقات کی منصوبہ بندی طلبہ کی سہولت کےمطابق کی جائے تاکہ انہیں آرام مل سکے، ہفتےمیں ایک دن چھٹی دی جائے، چھٹی کے دوسرے دن امتحان نہ رکھاجائےاور ایک دن میں۵؍گھنٹے سے زیادہ ٹیوشن نہ دیاجائے ۔یہ بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ طلبہ کی کم تعداد والے اداروں میں بیرونی ذہنی صحت کے پیشہ ور افراد کی خدمات حاصل کی جائیں۔ 
واضح رہےکہ کچھ عرصہ پہلے  سپریم کورٹ میں ایک عرضداشت داخل کی گئی تھی جس میں اسکولوں اور خاص طور پر پرائیویٹ ٹیوشن اور کوچنگ کلاسیس کی  وجہ سے طلبہ کو ہونے والے ذہنی تناؤ کی جانب توجہ دلائی گئی تھی۔عدالت نے اس درخواست کا سنجیدگی سے نوٹس لیتےہوئے ۲۵؍جولائی ۲۰۲۵ء  کو اپنا حکم جاری کیاتھا جس کے تحت ریاستی حکومتوں کو واضح طور پر ہدایت دی گئی تھی کہ وہ ملک بھر کے اسکولوں اور پرائیویٹ ٹیوشن کلاسیس میں پڑھنے والے طلبہ پر پڑنے والے دباؤ کو کم کرنے کیلئے ٹھوس رہنما خطوط جاری کریں اور طلبہ کی ذہنی صحت کے تحفظ کیلئے ایک موثر طریقہ کار تشکیل دیں۔اسی حکم کی روشنی میں محکمہ ا سکولی تعلیم نے مذکورہ گائیڈلائن جاری کی ہے۔تعلیم کے نام پر طلبہ پر غیر ضروری تعلیمی اور ذہنی دباؤ ڈالنے والے اسکولوں اور پرائیویٹ ٹیوشن کلاسیس کی اب ضلعی سطح پر براہ راست نگرانی کی جائے گی، قواعد کی خلاف ورزی کی صورت میں سخت کارروائی کی جائے گی۔اس کیلئے ضلع کلکٹر کی صدارت میں ہر ضلع میں ایک ضلعی سطح کی نگرانی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔
حکومت کی اہم ہدایتیں
پرائیویٹ ٹیوشن کلاسییس کیلئے الگ اور سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں۔گائیڈ لائن کےمطابق ایک دن میں ۵؍ گھنٹے سے زیادہ اسباق لینے کی ممانعت کی گئی ہے، اور کلاسیں صبح سویرے یا بہت دیر سے نہیں لی جا سکتیں۔ ہفتے میں کم از کم ایک دن کی چھٹی دینا لازمی قرار دیا گیا ہے اور اس چھٹی کے اگلے دن کوئی ٹیسٹ، امتحان یا اسیسمنٹ نہیں لیا جا سکتا۔ چھٹیوں کی منصوبہ بندی کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے تاکہ طلبہ تہواروں کے دوران اپنے اہل خانہ کے ساتھ وقت گزار سکیں۔پرائیویٹ ٹیوشن کلاسیس پر امتحانی نتائج کو عوامی سطح پر شائع کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ نتائج صرف طلبہ کی انفرادی تشخیص تک محدود ہوں گے۔ اس کے علاوہ، میڈیکل، انجینئرنگ یا دیگر مسابقتی امتحانات میں کامیابی کی ضمانت دینے والے دعوئوں کو ممنوع قرار دیا گیا ہے، اور کلاسیز کیلئے والدین اور طلبہ کو واضح طور پر مطلع کرنا لازمی ہوگا کہ داخلہ کامیابی کی ضمانت نہیں دیتا۔
طلبہ کی ذہنی صحت کو ترجیح دیتے ہوئے ماہرین نفسیات کے انتظامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ۱۰۰؍ یا اس سے زیادہ طلبہ والے اداروں میں ماہر نفسیات کی تقرری لازمی ہے، جبکہ کم طلبہ والے اداروں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ بیرونی ذہنی صحت کے ماہرین کے ساتھ باضابطہ ریفرل سسٹم قائم کریں۔ ٹیلی مانس اور نیشنل سوسائڈ پریونشن ہیلپ لائن نمبروں کو اسکولوں، کلاس روم، ہوسٹل اور ویب سائٹ پر ظاہر کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ تدریسی اور غیر تدریسی عملے کو سال میں کم از کم دو بار ذہنی ابتدائی طبی امداد، خطرے کی علامات کی پہچان اور خودکشی کے واقعات پر ردعمل کی لازمی تربیت فراہم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ہدایت دی گئی ہے کہ کلاسیس اس بات کو یقینی بنائیں کہ طلبہ کیلئے کلاسیس کے اوقات ضرورت سے زیادہ نہ ہوں۔ طلبہ کی ہمہ جہت سرگرمیوں کا انعقاد، دماغی صحت، جسمانی تندرستی، اخلاقی اقدار، ہندوستانی آئینی اقدار اور نشے کے مضر اثرات پر سیشن منعقد کئےجائیں ۔ طلبہ کی صحت سے متعلق انہیں معلومات فراہم کی جائیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK