بامبے ہائی کورٹ نے جمعہ کو مفاد عامہ کی ایک اور عرضداشت مسترد کردی ہے جس میں بڑے پیمانے پر امیدواروں کے پرچۂ نامزدگی مسترد کرنے کو چیلنج کیا گیا تھا۔
فورٹ میں واقع بامبے ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این
بامبے ہائی کورٹ نے جمعہ کو مفاد عامہ کی ایک اور عرضداشت مسترد کردی ہے جس میں بڑے پیمانے پر امیدواروں کے پرچۂ نامزدگی مسترد کرنے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ مفاد عامہ کی یہ عرضداشت معظم علی میر نے داخل کی تھی جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ الیکشن افسران نے فضول اور انتہائی تکنیکی بنیاد پر بڑے پیمانے پر امیدواروں کے پرچۂ نامزدگی مسترد کردیئے ہیں تاکہ حکمراں محاذ کو فائدہ مل سکے۔
عرضی گزار کے مطابق امیدواروں سے کہا گیا تھا کہ وہ ’واٹر ڈپارٹمنٹ‘ سے ’این او سی‘ لائیں تاکہ پتہ چل سکے کہ امیدوار کا پانی بل بقایا نہیں ہے، انہیں پراپرٹی کا اسیسمنٹ اور ٹیکس کی تفصیلات فراہم کرنے، جس عمارت میں رہتے ہیں ، اس کی قانونی حیثیت اور پولیس کلیئرنس جیسی سند لانے کو کہا گیا تھا۔ عرضداشت میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ چونکہ متذکرہ زیادہ تر محکمے میونسپل کارپوریشن کے ہی زیر اہتمام آتے ہیں اس لئے امیدواروں کو بروقت تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں اور پولیس نے بھی کلیئرینس سرٹیفکیٹ دینے میں تاخیر کی۔ان کے مطابق بی ایم سی کے ان غیرضروری مطالبات کی وجہ سے مستحق افراد الیکشن لڑنے سے محروم ہوگئے۔
تاہم ’ممبئی میونسپل کمشنر-کم-ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن‘ نے چیف جسٹس شری چندر شیکھر کی سربراہی والی دو رکنی بنچ کے روبرو دلیل دی کہ عرضی گزار خود الیکشن نہیں لڑ رہے اس لئے انہیں اس سلسلے میں عرضداشت داخل کرنے کا اختیار بھی نہیں ہے۔ اس دلیل کو قبول کرتے ہوئے عدالت نے اس عرضداشت کو مسترد کردیا۔