Updated: September 05, 2026, 12:04 PM IST
| Tal Aviv
غزہ میں جاری جنگ نے پورے خطے کو تباہی اور انسانی بحران سے دوچار کر دیا ہے، جس کے اثرات سیٹیلائٹ تصاویر میں بھی واضح طور پر دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم، ایپل میپس پر غزہ کا نقشہ اب بھی جنگ سے پہلے کی صورتحال کی عکاسی کر رہا ہے، جس سے تباہی کی حقیقی تصویر اوجھل ہے۔
ایپل میپس اور گوگل میپس کی تصاویر۔ تصویر: آئی این این
اسرائیل کی جانب سے فلسطین کے غزہ پر نسل کش جنگ شروع کئے تقریباً تین سال گزر چکے ہیں، لیکن ایپل میپس پر اب بھی اس وسیع پیمانے پر ہونے والی تباہی کا کوئی نشان نظر نہیں آتا، جس نے غزہ کے بیشتر حصے کو ملبے کے سرمئی میدانوں میں تبدیل کر دیا ہے۔ ۷؍ اکتوبر۲۰۲۳ء کے فوراً بعد اسرائیلی فورسیزکی درخواست پر ایپل میپس نے غزہ میں لائیو ٹریفک ڈیٹا کی سہولت غیر فعال کر دی۔ گوگل اور ویز نے بھی جلد ہی اس کی پیروی کرتے ہوئے خطے سے حقیقی وقت کی ٹریفک اپ ڈیٹس اور عوامی طور پر فراہم کردہ معلومات کی سہولیات ہٹا دیں۔
یہ بھی پڑھئے: گوگل جیمینائی کئی ممالک میں رکاوٹ کا شکار، دھیمی رفتار، اور غلط جوابات کی شکایت
اگرچہ دیگر تنازعات کے دوران لائیو ٹریفک ڈیٹا کو نچلی سطح کی تحریکوں نے فوجیوں کی نقل و حرکت یا بڑے اجتماعات پر نظر رکھنے کے لیے استعمال کیا ہے، لیکن غزہ میں اس سہولت کی بندش کے نتیجے میں معلومات کا ایک بہت بڑا خلا پیدا ہوگیا۔ گوگل ارتھ نے۲۰۲۴ءکے اواخر اور۲۰۲۵ء کے اوائل میں غزہ کی سیٹیلائٹ تصاویر اپ ڈیٹ کیں، جن سے تباہی کی حقیقی وسعت سامنے آئی۔ ان تصاویر میں بے گھر فلسطینیوں کیلئے قائم کئے گئے وسیع خیمہ کیمپ بھی دکھائی دیے، جو کھلے علاقوں، سڑکوں کے کناروں اور بحیرۂ روم کے ساحل تک پھیلے ہوئے ہیں۔ اس کے برعکس، ایپل میپس اب بھی غزہ کا ایک پرانا نقشہ پیش کر رہا ہے، جس میں اس وسیع تباہی کا کوئی نشان دکھائی نہیں دیتا۔
یہ بھی پڑھئے: جتنا آپ سوچتے ہیں ChatGPT اس سے کم پانی استعمال کرتا ہے: سیم آلٹ مین کا دعویٰ
واضح رہے کہ ۷؍اکتوبر۲۰۲۳ءکو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کی، جس کے نتیجے میں رہائشی علاقوں، اسپتالوں، اسکولوں، سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔ مسلسل بمباری اور زمینی کارروائیوں کے باعث لاکھوں فلسطینی بے گھر ہوئے اور غزہ کا بڑا حصہ ملبے میں تبدیل ہوگیا۔ اقوام متحدہ اور مختلف انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا غزہ میں ہونے والی تباہی اور انسانی بحران کی سنگینی کی نشاندہی کرتی رہی ہیں، جبکہ سیٹیلائٹ تصاویر نے بھی تباہ شدہ عمارتوں اور بے گھر افراد کے عارضی کیمپوں کی وسیع پیمانے پر موجودگی کو نمایاں کیا ہے۔