ترکی نے غزہ میں جاری اسرائیلی جنگی جرائم اور فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف، عالمی عدالت برائے انصاف میں جنوبی افریقہ کے کیس میں مداخلت کی اپیل کی ہے۔ ترکی نے دیگر ممالک سے بھی عالمی عدالت میں اسرائیل کے خلاف کیس میں حصہ لینے کی درخواست کی۔
EPAPER
Updated: August 07, 2024, 9:02 PM IST | Inquilab News Network | Ankara
ترکی نے غزہ میں جاری اسرائیلی جنگی جرائم اور فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف، عالمی عدالت برائے انصاف میں جنوبی افریقہ کے کیس میں مداخلت کی اپیل کی ہے۔ ترکی نے دیگر ممالک سے بھی عالمی عدالت میں اسرائیل کے خلاف کیس میں حصہ لینے کی درخواست کی۔
ترکی کے سفارتکار عہدیداران نے ٹی آر ٹی ورلڈ نیوز ایجنسی کو بتایا کہ عالمی عدالت برائے انصاف میں جنوبی افریقہ کے اسرائیل کے خلاف نسل کشی کیس میں ترکی بھی شامل ہوگا تاکہ عدالت میں اسرائیل کے خلاف کیس مزید مضبوط ہو اور اسرائیل پر جنگی جرائم کیلئے مقدمہ چلایا جائے۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال جنوبی افریقہ نے عالمی عدالت برائے انصاف کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ افریقہ نے عدالت میں بحث کی تھی کہ اسرائیل کے وحشیانہ جنگی آپریشن کی وجہ سے غزہ پٹی میں شدید انسانی بحران کا سامنا کررہاہے۔ اسرائیلی حملہ ۱۹۴۸ کے عالمی نسل کشی معاہدہ کے خلاف ہے۔ کئی ممالک نے جنوبی افریقہ کی حمایت کی تھی اور کیس میں افریقہ کا ساتھ دیا۔ عالمی عدالت کو کسی فیصلے پر پہنچنے کیلئے ۴ سے ۵ سال کا عرصہ لگ سکتا ہے لیکن مختلف ممالک کا اس کیس اور بحث میں حصہ لینے سے مستقبل میں وحشیانہ جنگی جرائم کو روکنے میں مدد ملے گی۔ ترکی کے عہدیداروں نے بتایا کہ ترکیہ کا حلف نامہ تفصیلی، آسان اور بہتر ہے۔ اس کے ذریعے عالمی عدالت کو عالمی نسل کشی معاہدہ کے تئیں ٹھوس قانونی فریم ورک فراہم کیا گیا ہے۔
ترکی کے سفارتی افسران نے بتایا کہ ترکی نے اپنے حلف نامہ میں نسل کشی معاہدہ کے پہلے، دوسرے اور تیسرے آرٹیکل کے تحت ملزوم فرائض کو نمایاں کیاہے اور نسل کشی کی تحقیق اور مقدمہ پر زور دیاگیاہے۔ گزشتہ ماہ، عالمی عدالت نے تاریخ رقم ایڈوائزری جاری کرکے فلسطینی علاقوں مغربی کنارہ، مشرقی یروشلم اور غزہ میں اسرائیل کی تعمیرات کو غیر قانونی ٹھہرایا تھا۔ ترکی نے اس ضمن میں اسرائیل کے خلاف مزید ثبوت فراہم کئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:بنگلہ دیش: طلبہ لیڈران کو عبوری حکومت جلد قائم ہونے کی توقع
افسران نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اسرائیل خود کو عالمی قوانین سے بالاتر سمجھتا ہے اس لئے وہ فلسطین میں جنگی اور انسانی جرائم سے باز نہیں آرہا ہے۔ اسرائیل کی غلط فہمی کو ختم کرنے کیلئے عالمی برادری کا متحد ہونا ضروری ہے۔ ترکی نے اس موقع پر دیگر ممالک سے بھی عالمی عدالت میں اسرائیل کے خلاف کیس میں حصہ لینے کی اپیل کی۔ عالمی نسل کشی معاہدہ ۱۹۴۸ کے دستخط کنندہ کے طور پر ترکی، عالمی قوانین کی رو نسل کشی کو روکنے اور اس کیلئے سزا دینے کیلئے ملزوم ہے۔
ترکی کے علاوہ نکاراگوا، کولمبیا، لیبیا، میکسیکو، فلسطین اور اسپین نے بھی عالمی عدالت میں اس کیس میں فریق بننے کی درخواست دائر کی ہے۔