Inquilab Logo Happiest Places to Work

آرٹیمس دوم: وہ لمحہ یاد آتا ہے تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں: خلا باز وائز مین

Updated: April 14, 2026, 10:22 PM IST | New York

آرٹیمس دوم (Artemis II) کے خلابازوں نے ایک غیر معمولی اور جذباتی لمحہ اس وقت دیکھا جب اورین اسپیس کرافٹ چاند کے پیچھے گیا اور زمین ان کی نظروں سے غائب ہو گئی۔ مشن کمانڈر ریڈ وائز مین نے اس تجربے کو ’’ناقابلِ یقین‘‘ قرار دیا، جہاں نہ صرف زمین دکھائی دینا بند ہوئی بلکہ ۳۱؍ منٹ تک تمام مواصلات بھی منقطع ہو گئے۔

Mission Commander Reid Wise. Photo: XPhoto: X
مشن کمانڈر ریڈ وائز۔ تصویر: ایکس

انسانی خلائی تاریخ کے ایک یادگار لمحے میں آرٹیمس دوم کے خلابازوں نے اس وقت گہرا اور غیر معمولی تجربہ محسوس کیا جب ان کا خلائی جہاز اورین اسپیس کرافٹ چاند کے پچھلے حصہ میں گیا اور ان کی نظروں سے زمین مکمل طور پر اوجھل ہو گئی۔ مشن کمانڈر ریڈ وائز مین نے گزشتہ ہفتے ایک لائیو کانفرنس کے دوران اس لمحے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’’صرف اس لمحے کے بارے میں سوچ کر ہی ہتھیلیوں میں پسینہ آ جاتا ہے، جسم میں ایک سرد لہر دوڑ جاتی ہے اور رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اپنے آبائی سیارے (زمین) کو چاند کے پیچھے غائب ہوتے دیکھنا حیرت انگیز تھا۔ آپ زمین کا ماحول دیکھ سکتے ہیں، چاند کی سطح پر پڑنے والے اس کے سائے اور خطے بھی، یہ ایک ناقابلِ یقین منظر تھا… اور پھر اچانک سب کچھ غائب ہو گیا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ترکی:اسکول میں نوعمر حملہ آور کی فائرنگ میں ۱۶؍ زخمی، خود کو بھی گولی ماری

انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہم نہ صرف زمین کو دیکھ نہیں سکتے تھے بلکہ ۳۱؍ منٹ تک ہمارا رابطہ زمین سے منقطع ہوگیا۔‘‘ یہ وہ لمحہ تھا جب اورین کے چاند کے پیچھے جانے کی وجہ سے زمین کے ساتھ تمام مواصلات منقطع ہو گئے، ایک مکمل خاموشی اور تنہائی کا تجربہ، جو خلاء میں انتہائی نایاب سمجھا جاتا ہے۔ اس دوران خلابازوں نے ایک ساتھ زمین کو ’’سیٹ‘‘ ہوتے دیکھا، یعنی جیسے ہم زمین سے سورج کو غروب ہوتا دیکھتے ہیں، ویسے ہی زمین ان کی نظروں سے غائب ہو گئی۔ بصری اور صوتی تنہائی نے عملے کو شدید طور پر متاثر کیا۔ وائزمین نے کہا کہ ’’یہ احساس ہوا کہ یہ واقعی ایک تحفہ ہے… کوئی بھی انسان اس سے پہلے اس طرح کے لمحے سے نہیں گزرا۔ انسانی ذہن شاید اس تجربے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔‘‘
اس تاریخی لمحے کے دوران لی گئی ’’Earthset‘‘ تصویر کو بھی غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔ اس کا موازنہ اپولو ۸؍ کے ۱۹۶۸ء کے مشہور ’’Earthrise‘‘ منظر سے کیا جا رہا ہے، جب پہلی بار انسانوں نے چاند کے گرد چکر لگایا تھا۔ اس وقت یہ تصویر بل اینڈرس نے لی تھی، جو ایک غیر متوقع لمحہ تھا، جبکہ Artemis II کا Earthset ایک منصوبہ بند مشاہدہ تھا۔ مشن کے دوران خلابازوں نے ایک اور Earthrise تصویر بھی لی، مگر زمین کو وسیع خلا میں ’’ڈوبتے‘‘ دیکھنا ان کے لیے زیادہ گہرا اور جذباتی تجربہ ثابت ہوا۔

یہ بھی پڑھئے: واشنگٹن میں اہم سفارتی پیش رفت، اسرائیل اور لبنان مذاکرات شروع

وائزمین نے اس لمحے کی سادگی کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم نے جیریمی کی لائی ہوئی میپل کوکیز آپس میں بانٹیں، چند منٹ خاموشی سے یہ سوچتے رہے کہ ہم کہاں ہیں… اور پھر ہم دوبارہ سائنس کی طرف لوٹ آئے۔‘‘
واضح رہے کہ آرٹیمس دوم تقریباً ۵۰؍ سال بعد انسانوں کی چاند کے گرد واپسی کا سنگِ میل ہے۔ اس مشن میں ریڈ وائز مین کے ساتھ کرسٹینا کوچ، وکٹر گلوور اور جیریمی ہینسن شامل تھے۔ مشن کے دوران اورین نے چاند سے تقریباً ۷۵۰۰؍ کلومیٹر دور تک پرواز کی، جو اسے انسانی تاریخ میں خلا کی سب سے دور انسانی پروازوں میں شامل کرتا ہے۔ خلابازوں نے چاند کے ایک گڑھے کا نام وائزمین کی مرحوم اہلیہ کیرول کے نام پر بھی رکھا، جو اس سفر کو مزید ذاتی اور جذباتی بنا دیتا ہے۔ یہ مشن مستقبل میں ۲۰۲۸ء کے لیے منصوبہ بند انسانی چاند پر لینڈنگ کی بنیاد رکھتا ہے، اور ایک بار پھر انسانیت کو گہرے خلا کی طرف لے جانے کی تیاری کا اہم مرحلہ ثابت ہو رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK