Updated: July 12, 2026, 3:08 PM IST
| New Delhi
’جین زی‘ کے درمیان ایک سے زیادہ کریڈٹ کارڈز رکھنے کا رجحان بھی حیران کن ہے۔ تقریباً ۵۰ فیصد نوجوان کارڈ ہولڈرز اپنے پہلے کارڈ کے حصول کے ۱۲ مہینوں کے اندر دوسرا کریڈٹ کارڈ حاصل کر لیتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی نوجوان نسل سے تعلق رکھنے والے قرض داروں کیلئے قرض یا کریڈٹ، ان کی ذاتی مالیات کا ایک مرکزی حصہ بنتا جا رہا ہے۔
جین زی کے درمیان کریڈٹ کارڈ استعمال کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ تصویر: ایکس
ٹرانس یونین سیبیل (TransUnion CIBIL) کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، ہندوستان کے نوجوان یا ’جین زی‘ کسی بھی سابقہ نسل کے مقابلے، کریڈٹ سسٹم (قرضہ جاتی نظام) میں جلدی داخل ہو کر تیزی سے کریڈٹ کارڈ نہ صرف لے رہے ہیں بلکہ ان کا استعمال بھی زیادہ جارحانہ انداز میں کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ کس طرح ’جین زی‘ کا پیسے اور قرض کے ساتھ تعلق نمایاں طور پر تبدیل ہو رہا ہے۔
’جین زی‘ سے تعلق رکھنے والے تقریباً ۲۸ فیصد کریڈٹ کارڈ ہولڈرز نیا کارڈ ملنے کے پہلے تین مہینوں کے اندر ۲۵ ہزار روپے یا اس سے زیادہ رقم خرچ کر دیتے ہیں، جبکہ اسی مرحلے پر ملینئلز (millennials) کے درمیان یہ تناسب محض ۲۰ فیصد ہے۔ یہ اعداد و شمار، ایسی نسل کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو کریڈٹ کارڈز کو صرف ایک مالیاتی سنگِ میل کے طور پر حاصل نہیں کر رہی، بلکہ پہلے ہی دن سے اسے خرچ کرنے کے سرگرم ذریعے کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ۹۵ فیصد کمپنیاں صارفین کو دھوکہ دینے کیلئے’ڈارک پیٹرنز‘ استعمال کرتی ہیں؛ سیبی سے کارروائی کا مطالبہ
اسی طرح، ’جین زی‘ کے درمیان ایک سے زیادہ کریڈٹ کارڈز رکھنے کا رجحان بھی حیران کن ہے۔ تقریباً ۵۰ فیصد نوجوان کارڈ ہولڈرز اپنے پہلے کارڈ کے حصول کے ۱۲ مہینوں کے اندر دوسرا کریڈٹ کارڈ حاصل کر لیتے ہیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی نوجوان نسل کیلئے قرض یا کریڈٹ، ان کی ذاتی مالیات (personal finance) کا ایک مرکزی حصہ بنتا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران کریڈٹ کارڈ کے بقایا جات تقریباً ۴ء۰ لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر ۱ء۳ لاکھ کروڑ روپے ہو چکے ہیں، جبکہ اسی مدت کے دوران کریڈٹ کارڈ صارفین کی کل تعداد ۴ء۱ کروڑ سے بڑھ کر ۲ء۵ کروڑ ہوگئی ہے۔ یہ اعداد و شمار کریڈٹ کارڈ کے تیزی سے پھیلتے ہوئے مارکیٹ کی عکاسی کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: سروے کے مطابق زیادہ ہندوستانی پیشہ ور افراد امریکہ سے واپس آ رہے ہیں
بینکوں کیلئے، یہ رجحان نوجوان آبادی میں کریڈٹ کی گہری رسائی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ کاروباری اداروں کیلئے یہ ایک ایسی کنزیومر اکانومی (صارفی معیشت) کو ظاہر کرتا ہے جو ڈجیٹل ادائیگیوں، ایپس پر مبنی طرزِ زندگی اور فوری تجارت (انسٹنٹ کامرس) کی بدولت پہلے خرچ کرنے اور بعد میں ادائیگی کرنے (spend now and pay later) کے تصور میں زیادہ راحت محسوس کرتی ہے۔
تاہم، رپورٹ نے ایک تشویشناک حقیقت کی طرف بھی اشارہ کیا ہے: نوجوان قرض داروں میں ابتدائی مرحلے پر قرض کی عدم ادائیگی کے بڑھتے ہوئے معاملات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ چونکہ ’جین زی‘ ماضی کی کسی بھی نسل کے مقابلے زیادہ جلدی اور کثرت سے غیر ضمانتی قرضوں (unsecured credit) کو اپنا رہی ہے، اس لئے ادائیگی کے معاملے میں نظم وضبط (repayment discipline) بھی اتنا ہی اہم ہوتا جا رہا ہے جتنا کہ قرض تک رسائی۔ ہندوستان کا کریڈٹ کلچر تیزی سے بدل رہا ہے، اس درمیان ذمہ دارانہ انداز میں قرض لینے اور وقت پر ادا کرنے کے رجحان کو بھی اسی رفتار سے بڑھنا ہوگا۔